زیادتی کیس:سرعام پھانسیوں تک معاملہ حل نہیں ہوگا،سپیکراسدقیصر

1 week ago


واقعے کے بعد وزیراعظم غائب ہیں اور ایک لفظ تک نہیں کہا،شہبازشریف

زیادتی کے واقعات میں جب تک سرعام پھانسیاں نہیں ہوں گی معاملہ حل نہیں ہوگا۔ان خیالات کااظہارقومی اسمبلی اجلاس کے دوران سپیکرقومی اسمبلی اسدقیصرنے کیا۔انہوں نے کہاکہ مجرم کوایسی سزادی جائے کہ آئندہ کوئی ایسی حرکت نہ کرے۔


قومی اسمبلی کے اجلاس میں حکومت اور اپوزیشن دونوں کی تجویز پر معمول کی کارروائی معطل کرکے لاہور سیالکوٹ موٹروے گینگ ریپ کیس پر بحث کا فیصلہ کیا گیا ۔سپیکر اسد قیصر کی صدارت میں شروع ہونے والے اجلاس میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف بھی شریک ہیں۔
سپیکر نے لاہورسیالکوٹ موٹر وے واقعہ پر بحث کروانے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ ہمارے ماتھے پر بدنما داغ ہے اور اس پر وقفہ سوالات کے بعد بحث شروع کی جائے گی۔اسدقیصرنے کہاایسے معاملات میں جب تک سرعام پھانسیاں نہیں ہوگی مسئلہ حل نہیں ہوگا۔


اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے کہا کہ اس واقعے سے سب کے سرشرم سے جھک گئے تاہم مقام شکر ہے کہ آج وہ ملزم گرفتار ہوا۔اس واقعے کے بعد وزیراعظم غائب ہیں اور ایک لفظ تک نہیں کہا۔ایسے خوف ناک اور دل کو دہلا دینے والے واقعات اور اس روش کو کیسے روکا جائے یہ اہم سوال ہے، مگر شومئی قسمت کہ اس سانحے نے پوری قوم سوگوار تھی تو حکومت وقت اس بحث میں الجھی ہوئی تھی اس موٹروے کے اوپر کس کا کنٹرول ہے۔


شہباز شریف نے کہا کہ قوم کی ایک لاچار بیٹی کے اوپر ظلم ہوچکا تھا مگر حکومت کے ایوانوں اور ٹی وی کی سکرینوں میں یہ بحث چل رہی تھی کہ یہ پنجاب حکومت کی کنٹرول میں نہیں بلکہ وفاقی حکومت کے کنٹرول میں ہے اور اس طرح کے بیانات چل رہے تھے۔ مجرم کو گرفتار کرنے کے لیے تمام توانائی صرف کرنے کے بجائے پولیس افسر نے کہا کہ یہ رات کو کیوں نکلیں، یہ کہے کہ پٹرول نہیں تھا تو چیک کیوں نہیں کیا اور رات کے اندھیرے میں کیوں نکلی، کوئی بھی ذی شعور انسان اس طرح کی بات سوچ بھی نہیں سکتا۔

ظلم رسیدہ بچی پر دست شفقت رکھنے کے بجائے پولیس افسر نے جو طعنہ زنی کی اس پر پوری قوم کے دل زخمی ہوگئے اورجنہوں نے اس کو لگوایا وہ سینہ تان کر اس کے ساتھ کھڑے تھے کہ ہم نے اس کو لگوایا جبکہ اس افسر سے متعلق ایجنسیوں کی رپورٹ کہہ رہی تھی یہ بندہ کرپٹ ہے اور اس لائق نہیں کہ کوئی اہم ذمہ داری دی جائے لیکن ڈھٹائی کے ساتھ اس کو اہم مقام پر لگایا گیا۔سی سی پی او لاہور پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ مکافات عمل ہے کہ اس کی تعیناتی کے فوری بعد بدقسمت واقعہ سامنے آیا اور اس کا پول کھل گیا۔


شہباز شریف نے کہا کہ قصور میں زینب کے ساتھ واقعہ پیش آیا تو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اراکین قصور جا کر اس معاملے کو بدترین سیاسی رنگ دینے کی کوشش کی اور اس کو سیاست کے لیے استعمال کیا گیا اور پی ٹی آئی کی قیادت کی کوشش تھی کہ اس کو خراب کرنے کی کوشش کی۔اپوزیشن لیڈر نے تجویز دیتے ہوئے کہا کہ ایوان کی ہاو¿س کمیٹی بنائی جائے کہ موٹروے واقعے پر پولیس کی تفتیش میں تاخیر کیوں ہوئی اور اس پولیس افسر کو طلب کرکے پوچھاجائے کہ اس وقت متنازع بیان کیوں دیا۔

شیئر کریں



یہ بھی پڑھیے


زیادتی کیس:سرعام پھانسیوں تک معاملہ حل نہیں ہوگا،سپیکراسدقیصر