اسلام آباد ہائیکورٹ حملہ کیس،150 وکلا کی نشاندہی

1 week ago


21 وکلا کو نوٹس جاری، 25 فروری تک جواب جمع کرانے کی ہدایت

اسلام آباد ہائی کورٹ پر حملے میں ملوث 150 ذمہ دار وکلا کی نشاندہی کرلی گئی۔ ہائی کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے 20 فروری بروز ہفتہ 5 صفحات پر مشتمل تحریری حکم نامہ جاری کردیا۔

لارجر بینچ کی جانب سے مس کنڈکٹ کیس کے تحریری فیصلے میں کہا گیا وکلا نے حملے سے نظام عدل کو معطل رکھا۔حکم نامے میں بتایا گیا 8 فروری کو کچھ وکلاءنے اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس بلاک پر حملہ کیا۔

وکلاءنے ہائیکورٹ پر حملے کے دوران چیف جسٹس بلاک میں توڑ پھوڑ کی۔ مشتعل وکلاءنے چیف جسٹس سمیت تمام ججز کو 4 گھنٹے تک محصور رکھا اور سائلین کو حصول انصاف سے دور رکھا گیا۔

وکلا نے معزز جج کو سارا دن یرغمال بنائے رکھا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے رجسٹرار آفس نے محتاط سکروٹنی کے بعد 150 سے زائد وکلاءکی نشاندہی کی گئی ہے۔

مشتعل وکلا نے بدنظمی پیدا کرکے ریاست کے “جوڈیشل آرگن” کا اختیار اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کی۔ حملہ آور وکلا باری النظر میں مس کنڈکٹ کے مرتکب ہوئے ہیں۔ فی الحال 150 میں سے 21 وکلا کو نوٹس جاری کئے جاتے ہیں۔ جیل میں قید وکلا کو سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ کے ذریعے نوٹس ارسال کئے جائیں ۔

حکم نامے کے مطابق وکلا مس کنڈکٹ کارروائی میں عدالتی نوٹس کا 25 فروری تک جواب جمع کرائیں۔ پاکستان بار کونسل، اسلام آباد بار کونسل نے ہائی کورٹ پر حملے کی مذمت کی اور پاکستان بار کونسل نے حملے میں ملوث وکلاءکے خلاف کارروائی کی یقین دہانی کرائی۔

یادرہے 7 فروری کی رات سی ڈی اے کی جانب سے وکلا کے غیر قانونی چیمبرز گرائے گئے تھے جس پر وکلا نے اگلے روز پیر 8 فروری کو اسلام آباد ہائی کورٹ پر دھاوا بول دیا تھا۔ اس دوران مشتعل وکلاءکی جانب سے چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ کو یرغمال بھی بنایا گیاتھا۔

شیئر کریں



یہ بھی پڑھیے


اسلام آباد ہائیکورٹ حملہ کیس،150 وکلا کی نشاندہی