کوروناسے ملک میں کروڑوں لوگ بےروزگارہوئے: اسدعمرکی تصدیق

1 week ago


وفاقی وزیرکی عوام سے احتیاط کا مظاہرہ کرنے کی اپیل

وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کی پہلی لہر کے دوران لاک ڈائون کے نتیجے میں 2 کروڑ سے زائد افراد بے روزگار ہوئے۔

بے روزگار ہونے والے 2 کروڑ لوگوں میں سے 29 فیصد دیہاڑی دار تھے جن کی نوکری اس نوعیت کی ہوتی ہے کہ جس دن کام پر آتے ہیں تو ان کو پیسہ ملتا ہے۔

اس کے علاوہ جو خود کام کرتے ہیں مثلاً ٹھیلا لگانا ، چھوٹا کھوکھا چلانا اور جن کا شمار غریب لوگوں میں ہوتا ہے تو ایسے لوگوں کی تعداد بھی 30 فیصد ہے جو اس دوران روزگار سے محروم ہوئے۔

اسلام آباد میں میڈیا بریفنگ کے دوران انہوںنے کہا پاکستان میں تقریباً ساڑھے 5 کروڑ لوگ معاوضے کے عوض روزگار حاصل کرنے کے لئے گھر سے نکلتے ہیں۔

27 مارچ کو این سی او سی بنی تھی، 5 اپریل کو آرگنائزیشن کا سٹرکچر بنا لیا تھا جس میں اہداف پر مبنی لاک ڈائون کی حکمت عملی بنائی گئی۔

ٹیسٹنگ، ٹریکنگ اور قرنطینہ کا نظام 10 اپریل کو شروع ہوا اور 24 اپریل سے مکمل ٹی ٹی کیو آپریشن پاکستان میں شروع کردیا گیا تھا جس سے 12مئی کو ٹیکنالوجی کی مدد سے لاک ڈائون کئے گئے۔

انہوں نے کہااس کے نتیجے میں تقریباً تمام لوگ اکتوبر تک روزگار پر واپس آ چکے تھے اور نومبر، دسمبر میں تعمیرات کی سرگرمیوں میں بھی تیزی سے اضافہ ہوا، بڑی صنعتوں کی ترقی کی رفتار میں تیزی آئی ہے۔

اسد عمر نے کہا اگر اس کا موازنہ آپ ہمارے ہمسایہ ملک بھارت سے کریں تو کروڑوں لوگ بیروزگار ہو گئے اور دنیا کے طاقتور اور امیر ترین ملکوں میں ہم نے دیکھا کروڑوں افراد نوکریوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

اسدعمر نے کہا دسمبر کے پہلے ہفتے میں کوروناکے مریضوں کی تعداد عروج پر پہنچنے کے بعد کم ہونا شروع ہوئی ، اس سے ایک ہفتے بعد دسمبر کے دوسرے ہفتے میں سب سے زیادہ مریض آکسیجن پر پائے گئے اور اس ہفتے اوسطاً ڈھائی ہزار مریض تھے جبکہ وینٹی لیٹر پر بھی سب سے زیادہ 353 مریض تھے۔

وفاقی وزیر نے عوام سے احتیاط کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا تھوڑا عرصہ رہ گیا، حکومت نے بروقت اچھے فیصلے کئے اور عوام نے ان کا بھرپور مدد کی۔

شیئر کریں



یہ بھی پڑھیے


کوروناسے ملک میں کروڑوں لوگ بےروزگارہوئے: اسدعمرکی تصدیق