موٹروے زیادتی کیس،سی سی پی اولاہورکی اپنے بیان پرمعافی

1 week ago


سی سی پی اولاہورآج ہائیکورٹ طلب، صوبائی کابینہ کو معافی مانگنی چاہئے تھی،چیف جسٹس

موٹروے زیادتی واقعہ کے بعددیئے گئے متنازع بیان پرسی سی پی اولاہورعمرشیخ نے معافی مانگ لی۔انہوں نے کہاکہ اگرمیرے بیان سے کسی کی دل آزاری ہوئی ہے تومیں معافی مانگتاہوں۔عمرشیخ نے کہاکہ میں سوسائٹی سے معافی مانگتاہوں۔سی سی پی او لاہور نے گذشتہ ہفتے موٹروے پر پیش آنے والے ریپ کے واقعے کے بعد متعدد ٹی وی چینلز پر انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ تین بچوں کی ماں اکیلی رات گئے گھر سے اپنی گاڑی میں نکلے تو اسے سیدھا راستہ لینا چاہئے تھا اور یہ بھی چیک کرنا چاہئے تھا کہ گاڑی میں پٹرول پورا ہے بھی یا نہیں۔

ادھرچیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ محمد قاسم خان نے موٹروے کے قریب خاتون کے ریپ کے حوالے سے دائر ہونے والی ایک درخواست کی سماعت کرتے ہوئے سی سی پی او لاہور عمر شیخ کو آج دوپہر ایک بجے طلب کر لیا اور پوچھا کہ یہ کیسی انکوائری ہے جس میں محکمے کا سربراہ مظلوم کو غلط کہنے پرتل گیا ہے۔


پیر کو عدالت مقامی وکیل ندیم سرور کی درخواست پر کارروائی کر رہی تھی جس میں واقعے کی تحقیقات کے لئے جوڈیشل کمیشن بنانے کی استدعا کی گئی۔یاد رہے چندروزقبل دو افراد نے مدد کے انتظار میں سڑک کنارے کھڑی گاڑی میں سوار خاتون کو پکڑ کر قریبی کھیتوں میں اس کے بچوں کے ساتھ لے جاکرزیادتی کانشانہ بنایا تھا۔


سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا سی سی پی او کے بیان پر پوری صوبائی کابینہ کو معافی مانگنی چاہئے تھی، جس سے قوم کی بچیوں کو کچھ حوصلہ ہوتا۔ اگر اسی ذہن کے ساتھ تفتیش ہو رہی ہے تو پتہ نہیں کتنی حقیقت ہے اور کتنی ڈرامہ بازی ہے۔سماعت کے دوران جب سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ اس معاملے کی تفتیش کے لئے وزیر قانون کی سربراہی میں ایک کمیٹی بنائی گئی ہے تو عدالت نے پوچھا کہ وزارت قانون کا اس معاملے سے کیا لینا دینا ہے اور سی سی پی او کو ہدایات جاری کیں کہ وہ تحقیقات کی رپورٹ سمیت دوپہر ایک بجے عدالت آ ئیں۔

سی سی پی او لاہور نے گذشتہ ہفتے موٹروے پر پیش آنے والے ریپ کے واقعے کے بعد متعدد ٹی وی چینلز پر انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ تین بچوں کی ماں اکیلی رات گئے گھر سے اپنی گاڑی میں نکلے تو اسے سیدھا راستہ لینا چاہئے تھا اور یہ بھی چیک کرنا چاہئے تھا کہ گاڑی میں پٹرول پورا ہے بھی یا نہیں۔ندیم سرور کی درخواست میں سی سی پی او کے بیان کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا گیا کہ ان کی جانب سے ایسا بیان نامناسب ہے اور اس سے ملزموں کی حوصلہ افزائی ہوگی۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اس کیس میں نامزد دو میں سے ایک ملزم اب پولیس کی تحویل میں ہے اور اس سے تفتیش کی جا رہی ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم اپنے والدین اور اہلِ خانہ کے ہمراہ اتوار کی صبح لاہور کے ماڈل ٹاو¿ن تھانے میں پیش ہوا جہاں بیان میں اس نے کہا کہ اس کا ریپ کے واقعے سے کوئی تعلق نہیں۔ملزم نے اپنے بیان میں کہا کہ اگرچہ وہ ماضی میں مرکزی ملزم کے ساتھ وارداتوں میں ملوث رہا ہے تاہم اس واقعے سے اس کا کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی وہ موبائل نمبر جس کا ذکر پولیس حکام نے کیا اس کے زیر استعمال ہے۔ملزم کا ڈی این اے حاصل کر کے اسے تجزیہ کے لئے بھیج دیا گیا ہے اور نتیجہ آنے کے بعد ہی اس بارے میں تفصیلات سامنے آئیں گی۔

شیئر کریں



یہ بھی پڑھیے


موٹروے زیادتی کیس،سی سی پی اولاہورکی اپنے بیان پرمعافی