ہم نیب سے مطمئن نہیں :سپریم کورٹ

1 week ago


پہلا ریفرنس، دوسرا ریفرنس یہ کیا مذاق بنایا ہوا ہے،جسٹس عمرعطابندیال

سپریم کورٹ کے جج جسٹس عمرعطا بندیال نے جعلی اکائوٹنس سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران نیب( قومی احتساب بیورو) پر اظہاربرہمی کرتے ہوئے کہا ہم نیب سے مطمئن نہیں۔

نیب کو کام سے کون روکتا ہے ہمیں بتائیں تاکہ اسے پکڑیں، احتساب قانون کے مطابق نہیں ہوگا تو ادارے کےخلاف ایکشن لیں گے۔

عدالت عظمیٰ میں جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے جعلی بینک اکائونٹس کیس میں ڈاکٹر ڈنشا اور جمیل بلوچ کی درخواست ضمانت پر سماعت کی، اس دوران پراسیکیوٹر جنرل نیب سمیت دیگر حکام بھی پیش ہوئے۔

پراسیکیوٹر جنرل نیب نے کہا ڈاکٹر ڈنشاہ کی درخواست ضمانت کی مخالفت نہیں کریں گے تاہم سرکاری افسران کی ضمانت کی مخالفت کریں گے۔

زین ملک (ملک ریاض کے داماد)کو پلی بارگین کی درخواست پر 15 فروری تک کا وقت دیا ،اگر زین ملک نے این او سی نہ دیا تو ان کے خلاف تحقیقات ہوں گی۔

بینچ کے رکن جسٹس مظاہر علی اکبر نے سخت ریمارکس دیتے ہوئے کہانیب ہمیں ٹرک کی بتی کے پیچھے نہ لگائے، چھوٹے افسران کو پکڑ لیا، کیا اصل فائدہ لینے والوں کو پکڑتے ہیں؟

اس سکینڈل کے اصل ملزم پر نیب نے ہاتھ نہیں ڈالا، نیب کے پاس اپنی مرضی سے کام کرنے کا اختیار نہیں، ملک میں بکری چور 5 سال کے لئے جیل جاتا ہے، بڑی کرپشن والے آزاد گھوم رہے ہیں۔

جسٹس مظاہر علی اکبر نے کہا ملک بچانا ہے یا نہیں؟، نیب نے اپنی مرضی کرنی ہے تو سیکش 9 میں ترمیم کرے پھر جو مرضی کرے۔

پراسیکیوٹر جنرل نے کہا نیب اپنی مرضی نہیں کرتا، ملزم کو پکڑ کر 24 گھنٹوں میں احتساب عدالت میں پیش کردیا جاتا ہے۔

جسٹس مظاہر علی اکبر نے کہا ملک کے ساتھ نیب کیا کر رہا ہے، کرتا نیب ہے بھگتتی سپریم کورٹ ہے، ملزم کو چھوڑنے کا الزام سپریم کورٹ پر آتا ہے۔

جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا نیب بڑے آدمی پر ہاتھ نہیں ڈالتا، سپریم کورٹ کا نیب کے بارے میں یہ تاثر ہے تو عام آدمی کا کیا ہوگا۔

نیب کو پتہ ہے زین ملک کے لئے این او سی لانا مشکل ہے، زین ملک اگر این او سی لے آئے تو پھر آپ این او سی جاری کرنے والوں کو مقدمے میں گھسیٹیں گے، جس پر پراسیکیوٹر جنرل نے کہا این او سی آیا تو جاری کرنے والے کو مقدمے میں شامل کریں گے۔

جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا تو پھر نیب نے مرکزی ملزم کو 15 فروری تک مہلت کیوں دی۔

دیگر اراکین بینچ کے ریمارکس کے ساتھ ہی سربراہ بینچ جسٹس عمر عطا بندیال نے بھی نیب سے متعلق کہا نیب کی کارکردگی رپورٹ پڑی ہے، ادارے نے اربوں روپے اکٹھے کئے۔

نیب پر سرکار کا ہی نہیں بلکہ ہر طرف سے دبائوہوتا لیکن قانون کا اطلاق سب پر برابر ہونا چاہئے اور احتساب بھی قانون کے مطابق ہونا چاہئے۔

جسٹس عمر نے کہا سینیٹ سمیت مختلف فورم پر نیب پر بات ہورہی ہے، نیب نے سرکاری افسروں کو دبایا، اصل بینفشریز کو پوچھا نہیں۔

ساتھ ہی انہوں نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا پہلا ریفرنس، دوسرا ریفرنس یہ کیا مذاق بنایا ہوا ہے، معلوم ہے کہ نیب مقدمات عام فوجداری کیسز نہیں ہوتے۔

نیب سرکاری افسران کو سب سے پہلے گرفتار کرلیتا ہے لیکن جس کے خلاف شواہد ہوں اسے گرفتار نہیں کرتا۔

بعدازاں عدالت نے جعلی اکائونٹ کیس میں ڈاکٹر ڈنشا کی ضمانت منظور کرلی ساتھ ہی کہا کہ ڈاکٹر ڈنشا ملک سے باہر نہیں جاسکتے اور وہ نیب کے ساتھ تفتیش میں تعاون کریں گے۔

یادرہے بحریہ آئیکون ٹاور ریفرنس جعلی اکائونٹس کیس کا ہی ایک حصہ ہے، یہ پہلا ریفرنس ہے جس میں بحریہ ٹائون کے چیئرمین کے ساتھ نیب نے ان کے داماد زین ملک کو بھی ملزم نامزد کیا ہیں۔

ان کے علاوہ ریفرنس میں نامزد ملزمان میں پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے سابق سینیٹر یوسف بلوچ، وزیر اعلیٰ سندھ کے سابق مشیر ڈاکٹر ڈنشا انکل سریا، سابق چیف سیکرٹری سندھ عبدالسبحان میمن، سابق ڈائریکٹر جنرل پارکس لیاقت قائم خانی، وقاص رفعت، غلام عارف، خواجہ شفیق، جمیل بلوچ، افضل عزیز، سید محمد شاہ، خرم عارف، عبدالکریم پلیجو، خواجہ بدیع الزمان اور دیگر شامل ہیں۔

ریفرنس میں کہا گیا کہ باغ ابنِ قاسم سے متصل رفاہی پلاٹ پر بحریہ ٹاو¿ن نے آئیکون ٹاور تعمیر کیا ہے، جسے غیر قانونی طور پر الاٹ کر کے قومی خزانے کو ایک کھرب روپے کا نقصان پہنچایا گیا۔
واضح رہے یہ بلند و بالا عمارت کراچی میں بحیرہ عرب کے ساحل کے نزدیک واقع ہے جس کی 62 منزلیں ہیں جس میں سے 40 منزلیں مختلف استعمال کی ہیں۔

شیئر کریں



یہ بھی پڑھیے


ہم نیب سے مطمئن نہیں :سپریم کورٹ