چمن بارڈرپرفورسزاورمظاہرین میں جھڑپ،3افرادجاں بحق

1 week ago


پاکستان،افغانستان کی فورسزکے درمیان فائرنگ کاتبادلہ جاری

بلوچستان کے شہر چمن میں پاکستان اور افغانستان کو ملانے والے سرحدی گیٹ پر پاکستانی فورسز اور مشتعل مظاہرین کے درمیان جھڑپ کے نتیجے میں ایک افغان خاتون سمیت 3افرادجاں بحق جبکہ 12 افراد زخمی ہوگئے۔ اس جھڑپ کے بعدپاکستان اورافغانستان کی سکیورٹی فورسزکے درمیان بھی فائرنگ کاتبادلہ شروع ہوگیا جوتاحال جاری ہے۔فائرنگ کے دوران دونوں اطراف سے بھاری اسلحے کااستعمال کیاجارہاہے۔ یہ جھڑپ سرحد نہ کھولنے کے تنازع پر شروع ہوئی تھی جس کے دوران مشتعل مظاہرین نے سرکاری املاک کونقصان پہنچایااورتوڑ پھوڑ کی۔ جمعرات کو ہونے والی اس جھڑپ کے بعد شہر میں حالات کشیدہ ہونے کے پیش نظر فورسز کی اضافی نفری طلب کر لی گئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان اورافغانستان کے درمیان چمن بارڈرکے راستے آمدورفت کاسلسلہ کوویڈ19 کی وباکے باعث5ماہ سے بندہے ۔یہ راستہ پاکستان اورافغانستان کے درمیان تجارت اورپیدل آمدورفت کااہم ذریعہ ہے۔اس راستے کوکھولنے کے لئے گذشتہ دو ماہ سے آل پارٹیز تاجر اتحاد نے دھرنا دے رکھا ہے، مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ پاک افغان چمن سرحد پر آمد و رفت کی آزادانہ نقل و حمل کی اجازت دی جائے۔اس مطالبہ کے پیش نظرانتظامیہ نے منگل کے روزاعلان کیاتھاکہ چمن بارڈرکودودن کے لئے کھولاجائے گا۔اس اعلان کے بعدبدھ کے روزبارڈرکوآمدورفت کے لئے کھولاگیاجس کے دوران سینکڑوں افرادنے بارڈرکراس کیا۔ اس کے بعدجب دوسرے روزجب آمدورفت کے لئے ہزاروں کی تعدادمیں لوگ چمن بارڈرپرپہنچے توسکیورٹی فورسزنے بارڈربندکردیاجس پرمسافروں اورتاجروں نے احتجاج شروع کردیااورصورتحال کشیدہ ہوناشروع ہوگئی۔اس دوران مظاہرین نے فورسزپرپتھراﺅشروع کردیاجس کے جواب میں سکیورٹی فورسزنے فائرنگ کی جس سے ایک افغان خاتون جس کانام معلوم نہیں ہوسکاسمیت تین افراد جاں بحق ہوگئے۔دیگرجاںبحق ہونے والوں میںچمن کے رہائشی 48سالہ نقیب اللہ اور28سالہ عمران شامل ہیں جوموقع پردم توڑگئے۔ فائرنگ سے12افرادزخمی ہوئے جنہیں ہسپتال میں داخل کردیاگیاہے۔ رواں مہینے کے شروع میں پاکستان نے طورخم کے بعد پاک افغان چمن سرحد پر بھی پیدل آمدورفت اور مقامی سطح کی تجارت کو پہلی بار باضابطہ قانونی شکل دینے کا فیصلہ کیا اور 70 سال بعد پہلی بار آمدورفت صرف پاسپورٹ پر آمد و رفت کی اجازت دی گئی۔ حکام کے مطابق یہ فیصلہ افغانستان سے چمن کے راستے دہشت گردوں اور نا پسندیدہ عناصر کے پاکستان میں داخل ہونے کے خدشات اور بڑے پیمانے پر ہونے والی سمگلنگ کے تدارک کے لئے کیا گیا ہے۔

شیئر کریں



یہ بھی پڑھیے


اسلام آباد ہائیکورٹ:فیصل واوڈا نااہلی کیس سماعت کےلئے مقرر
شاہ محمودقریشی کے بیان کونجی چینل نے ہٹادیا
سیاحتی مقامات،سینماز،میرج ہالز،مزارات کھولنے کافیصلہ

رمضان شوگر ملز ریفرنس :شہباز شریف ،حمزہ شہباز پر فرد جرم عائد

2 days ago


ملزمان کا صحت جرم سے انکار،احتساب عدالت نے آئندہ سماعت پر وکلاءسے دلائل طلب کر لئے

رمضان شوگر ملز ریفرنس میں احتساب عدالت نے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف اور ان کے بیٹے حمزہ شہباز پر فرد جرم عائد کر دی۔ احتساب عدالت کے جج امجد نذیر چوہدری نے ملزمان پر فرد جرم عائد کی۔ شہباز شریف کا عدالت میں کہنا تھا کہ میں گنہگار ہوں گا مگر عوام کی خدمت میں کمی نہیں چھوڑی، پنجاب کے عوام کی 10 سال خدمت کی۔ پراسیکیوشن جو چاہے بولیں مگر انہیں اپنے دلوں میں پتہ ہے کہ حقیقت کیا ہے۔ پنجاب کے عوام کی خدمت کے لئے سرکاری دورے کئے مگر کروڑوں روپے کا ٹی اے ڈی اے چھوڑا، اپنی گاڑی کے لیے پیٹرول کبھی نہیں لیا۔ سابق وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا عوامی خوشحالی و ترقی کے لئے اربوں نہیں کھربوں روپے کے منصوبے شروع کئے، کھربوں روپے کی سرمایہ کاری لے کر آیا۔ آج یہاں احد چیمہ اور فواد حسن فواد بیٹھے ہیں، میں نے ٹیم کے ساتھ مل کر کھربوں روپے کی سرمایہ کاری کرائی۔ اورنج لائن ٹرین میں 100 ارب روپے بچائے، آپ کو کیا کیا مثالیں بتائوں۔ جس گندے نالے کا الزام مجھ پر لگایا جا رہا ہے اس کی قیمت 20 کروڑ روپے ہے، ایک طرف میں ٹی اے ڈی اے نہ لوں اور دوسری طرف گندے نالے کی رقم سے میں جھک ماروں گا؟ کمرہ عدالت میں موجود دونوں ملزمان نے صحت جرم سے انکار کر دیا جس پر عدالت نے آئندہ سماعت پر وکلاءسے دلائل طلب کر لئے۔ عدالت نے رمضان شوگر ملز ریفرنس پر سماعت 27 اگست تک ملتوی کر دی۔



پاکستان کا سعودی عرب سے راستے جدا کرنے کا اعلان

2 days ago


مسئلہ کشمیر پر سعودی عرب نے کردار ادا نہ کیا تو اس کے بغیر آگے بڑھیں گے۔ شاہ محمود قریشی

پاکستان کی خارجہ پالیسی میں ایک نہایت اہم موڑ آ گیا ہے اور اب پاکستان نے سعودی عرب اور او آئی سی کے بغیر ہی مسلم ممالک کے ساتھ براہ راست بات چیت کا فیصلہ کر لیا ہے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بدھ کی شب ایک نجی ٹی وی پر انتہائی جذباتی انداز میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کا کشمیر کے معاملے میں کردار کا مزید انتظار نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں آگے بڑھنا ہو گا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ سعودی عرب کے تقاضے پر بوجھل دل کے ساتھ ملائشیا نہیں گئے۔ انہوں نے کہا کہ آج پاکستان کا سعودی عرب سے تقاضہ ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر پر اپنا کردار ادا کرے۔ انہوں نے کہا کہ مہاتیر محمد نے پاکستان کی مشکلات کے پیش نظر ملائشیا نہ جانے پر آف تک نہیں کیا۔ شاہ محمود نے کہا کہ اگر سعودی عرب نے قائدانہ کردار ادا نہ کیا تو وہ وزیر اعظم عمران خان جو سفیر کشمیر بھی ہیں سعودی عرب کے بغیر ہی آگے بڑھیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایک بار پھر او آئی سی سے اپیل کرتے ہیں کہ تین سو سالہ پرانی بابری مسجد کو شہید کر کے اس کی جگہ پر مندر کی تعمیر ہو رہی ہے۔ اس پر او آئی سی کیا خاموش رہے گی؟ انہوں نے سوال کیا کہ او آئی سی کیوں خاموش رہے گی؟ انہوں نے ٹی وی کے اینکر سے کہا کہ وہ آج اپنے قد سے بڑی بات کرنے لگے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایک بار پھر او آئی سی سے مودبانہ گزارش کرتے ہیں کہ کونسل آف فارن منسٹرز کا اجلاس بلایا جائے۔ اگر وہ یہ اجلاس نہیں بلا سکتے تو پھر وہ مجبوراً اپنے وزیر اعظم سے کہیں گے کہ وہ مسلم ممالک جو کشمیر کے معاملے پر ہمارے ساتھ کھڑے ہونا چاہتے ہیں اور مظلوم کشمیریوں کا ساتھ دینا چاہتے ہیں تو ان ممالک کا اجلاس بلا لیں چاہے وہ او آئی سی کے فورم پر ہو یا نہ ہو۔ او آئی سی کو فیصلہ کرنا ہے کہ ایک بانی رکن ملک کے حساس مسئلہ پر ساتھ دینا چاہتی ہے کہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا کہ او آئی سی بچ بچاؤ اور آنکھ مچولی سے باہر نکلے۔



چیئرمین نیب اب جج نہیں،طلب کرسکتے ہیں،جسٹس قاضی فائزعیسیٰ

3 days ago


نیب افسران کی نااہلی سے لوگ جیلوں میں سڑرہے ہیں،ڈی جیزتقرریوں سے متعلق تفصیلات طلب

نیب کے ڈی جیز کی تقرریوں پرسوالات اٹھنے لگے۔خودکونیب افسرظاہرکرکے فراڈکرنے والے ملزم کی درخواست ضمانت پرسپریم کورٹ میں سماعت ہوئی۔ کیس کی سماعت جسٹس مشیرعالم کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے کی جس میں جسٹس قاضی فائزعیسیٰ بھی شامل تھے۔سماعت کے موقع پرنیب پراسیکیوٹراورڈی جی نیب بھی عدالت میں پیش ہوئے۔جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے دوران سماعت ریمارکس دیئے کہ محمد ندیم نے ایم ڈی پی اسی اوکوڈی جی نیب بن کرکال کی۔ملزم کے پاس بڑے بڑے افسران کے نمبرکیسے آئے؟مڈل پاس ملزم کے پاس صرف ایک بھینس ہے۔اس موقع پر نیب پراسیکیوٹر نے بتایا کہ ایم ڈی پی ایس او سمیت 22 افراد کی مختلف شکایات ملیں، ایم ڈی پی ایس او نے ڈی جی نیب عرفان منگی سے رابطہ کیا۔ عدالت نے ڈی جی نیب عرفان منگی کی تقرری پربھی سوالات اٹھائے۔جسٹس قاضی فائز نے ڈی جی نیب عرفان منگی سے پوچھاکہ عرفان منگی صاحب آپ کی تعلیم اور تنخواہ کیا ہے؟جس پرعرفان منگی نے بتایا کہ انجینئر ہوں اور تنخواہ 4 لاکھ 20 ہزار روپے ہے۔ جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے سوال کیا کہ کیا آپ فوجداری معاملات کا تجربہ رکھتے ہیں؟ عرفان منگی نے بتایا کہ میرا کوئی تجربہ نہیں جس پر جج نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ایک انجینئر نیب کے اتنے بڑے عہدے پر کیسے بیٹھا ہوا ہے؟ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا چیئرمین نیب کس قانون کے تحت بھرتیاں کرتے ہیں؟ چیئرمین نیب آئین اور قانون کو بائی پاس کر کے کیسے بھرتیاں کر سکتے ہیں؟ چیئرمین نیب اب جج نہیں، انہیں ہم عدالت بلاسکتے ہیں، عرفان منگی کس کی سفارش پر نیب میں گھس آئے؟ مارشل لاءمیں قانون کی دھجیاں اڑائی جاتی ہیں، نیب عوام کے پیسے سے چلتا ہے اور سب عوام کے نوکر ہیں۔ مارشل لاءسے بہترہے ملک دوبارہ انگریزوں کے حوالے کردیاجائے۔نیب کامیڈیاٹرائل نہیں کررہے وہ توآج کشمیرریلی پرگئے ہوئے ہیں۔نیب افسران کی نااہلی سے لوگ جیلوں میں سڑرہے ہیں۔لگتاہے نیب کیلئے قانون کی کلاسز لگانا ہوں گی۔ہر بندہ کرسی پر بیٹھ کر اپنا ایجنڈا چلا رہا ہے، بہت مواقع دیئے مگر نیب کے غیر قانونی کام جاری ہیں، لوگوں کو ڈرانے کیلئے نیب کا نام ہی کافی ہے۔جسٹس مشیرعالم نے کہاہم سب ریاست کے ملازم ہیں۔ سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل پاکستان کو نوٹس جاری کرتے ہوئے تمام ڈی جیز کی تقرریوں سے متعلق تفصیلات طلب کرلیں۔بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔