کورونادوا کی قیمت کم کرنے کی منظوری ،دستیابی یقینی بنانے کی ہدایت

1 month ago


خواتین ،بچوں کے ساتھ زیادتی کرنے والوں کیلئے کوئی نرمی نہیں ہونی چاہئے:وزیراعظم عمران خان

وزیراعظم عمران خان کی صدارت میں وفاقی کابینہ کا اجلاس منعقدہوا۔وفاقی کابینہ نے کورونا کے علاج میں موثر ثابت ہونے والی دوا REMDESIVIR کے 100ملی گرام انجیکشن کی قیمت 9,244 سے کم کر کے 5,680روپے مقرر کرنے کی منظوری دی۔ وزیراعظم نے ہدایت دی کہ کوروناویکسین کی بروقت خریداری و دستیابی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔

وزیراعظم نے کہااس وقت ملک کو سنجیدہ فیصلوں اور رویوں کی ضرورت ہے۔پاکستان میں کورونا کی وجہ سے ایک دن میں سب سے زیادہ اموات کل ہوئیں جن کی تعداد 67 ہے۔ ایسی صورتحال میں جلسے منعقد کرنا لوگوں کی جانوں سے کھیلنے کے مترادف ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کا جلسوں کے خلاف فیصلے کے باوجود عوامی اجتماعات کرنا عدالتی احکامات کی خلاف ورزی ہے۔

کابینہ کو حکومت کی طرف سے شروع کئے جانے والے 2بڑے منصوبوں، راوی ریورفرنٹ اربن ڈویلپمنٹ پروجیکٹ اور بنڈل آئی لینڈ کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔راوی ریورفرنٹ اربن ڈویلپمنٹ منصوبے کا آغاز 7اگست 2020کو کیا گیا۔ماسٹر پلان کے تحت ماحول دوست منصوبے میں پانی کی ضروریات پورا کرنے کے لئے 3بیراج اور7ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس لگائے جائیں گے۔

یہ منصوبہ پرائیویٹ سیکٹر کے اشتراک سے مکمل کیا جائے گا جس کے لئے کسی قسم کی حکومتی امداد یا قرض نہیں لیا جائے گا۔منصوبے میں اربوں ڈالرز کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔ ایک کروڑ درخت لگانا بھی اس منصوبے کا حصہ ہے۔

کابینہ کو بنڈل آئی لینڈمنصوبے کے بارے میں بتایاگیاکہ یہ منصوبہ بین الاقوامی معیارکوملحوظ خاطر رکھ کر بنایا گیا ہے۔12ہزار ایکڑز پر مشتمل سمارٹ، سرسبز اورآلودگی سے پاک منصوبے سے تقریباً 50ارب ڈالر کی بیرونی سامایہ کاری متوقع ہے۔اس منصوبے کے لیے 1.3ارب ڈالرز کی غیر ملکی سرمایہ کاری کے حوالے سے مفاہمتی یادداشت پر پہلے سے دستخط ہوچکے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا منصوبے سے سندھ کے لوگوں کے لیے روزگار اور ماہی گیروں کے لیے بہترذریعہ معاش میسر ہوگا۔کابینہ نے وزارت دفاع کو پاکستان نیوی انجینئر نگ کالج اور یلدیز ٹیکنیکل یونیورسٹی ترکی کے مابین تعاون کے پروٹوکول پر دستخط کرنے کی اجازت دی۔

کابینہ نے پوسٹل لائف انشورنس کمپنی کے چیف ایگزیکٹیوآفیسر کے عہدے پرمحمد نعیم اخترکی تعیناتی کی منظوری دی۔کابینہ نے اسلام آباد میٹروپولیٹن کلب کی عمارت وزرات وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ ٹریننگ کے حوالےکرنے اور اس بلڈنگ میں نیشنل کالج آف آرٹس کے اسلام آباد کیمپس کے قیام کے حوالے سے کابینہ ممبران پر مشتمل 6رکنی کمیٹی تشکیل دی۔

وزیراعظم نے 2ارب روپے کی رقم سے F9پارک میں بننے والی عمارت کو مفاد عامہ میں استعمال کے حوالے سے سفارشات کابینہ کے اگلے اجلاس میں پیش کرنے کی ہدایات دیں۔کابینہ نے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر کی مدت ملازمت میں توسیع کی منظوری دی۔

کابینہ نے حکومت جموں و کشمیر کی پاکستان میں موجود جائیدادوں کے موثر استعمال کے حوالے سے تجاویز اور سفارشات مرتب کرنے کے لیے کمیٹی تشکیل دی۔وزیراعظم نے ہدایت دی کہ ان جائیدادوں سے متعلق ایسی تجاویزات مرتب کی جائیں کہ زیادہ سے زیادہ فوائد حاصل ہوسکیں۔انہوں نے اربوں روپے کی قیمتی سرکاری اراضی کو واگزار کرانے کی بھی ہدایت دی۔

کابینہ نے بریگیڈئیر (ر) محمد طاہر احمد خان کی بطور ایگزیکٹو ڈائریکٹر فریکونسی ایلوکیشن بورڈ تعینات کرنے کی منظوری دی۔اس موقع پروزیراعظم نے واضح کردیا کہ تمام فیصلے میرٹ پر ہوں کیونکہ میرٹ پر فیصلے نہ کرنے کا نقصان عوام کا ہوتا ہے۔

گھریلو صارفین اور برآمدات سے وابستہ انڈسٹریز کے لیے گیس کی بلاتعطل دستیابی کو یقینی بنایا جائے۔ ایسا طریقہ کار وضع کیا جائے جس سے انڈسٹریز کو پورے سال کے لیے گیس کی فراہمی بارے پیشگی معلومات میسر ہوں۔

اس موقع پر وزیراعظم نے کہا زنا باا لجبر جیسے گھنائونے جرم کے مرتکب افراد کے لیے قانون میں کوئی نرمی نہیں ہونی چاہئے۔ خواتین اور بچوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کی روک تھام کے لیے سخت سے سخت سزا کاہونا انتہائی ضروری ہے تاکہ ایسے دلخراش واقعات کا سدِ باب ممکن ہو۔

کابینہ نے فیڈرل میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوٹ آرڈیننس 2020 کے تحت بورڈ آف گورنرز پر ماہرین تعینات کرنے کی منظوری دی۔ ان ماہرین میں طب، معاشیات، سول سوسائٹی، تعلیم، کاروبار اور مخیر نمائندے شامل ہیں۔کابینہ نے موجودہ چیئر مین ایکسپورٹ پراسیسنگ زونز اتھارٹی شفیق الرحمن رانجھاکی خدمات منسوخ کرنے کی منظوری دی۔

شیئر کریں



یہ بھی پڑھیے


ضمنی انتخابات:پنجاب میں مسلم لیگ (ن)کے امیدوارفائنل
پی ڈی ایم کو راولپنڈی آنے پر چائے پانی پلائیں گے: میجرجنرل بابرافتخار
سینٹ انتخابات10فروری سے پہلےنہیں ہوسکتے

حکومت 31جنوری تک مستعفی ہوجائے:پی ڈی ایم کاانتباہ

1 month ago


یکم فروری کو لانگ مارچ کی تاریخ کا اعلان کردیا جائے گا:قیادت کااتفاق

اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) نے حکومت کو 31 جنوری تک مستعفی ہونے کی ڈیڈ لائن دے دی۔

جمعیت علماءاسلام(ف) اور پی ڈی ایم سربراہ مولانا فضل الرحمان کی زیرصدارت پی ڈی ایم کا سربراہی اجلاس ہوا جس میں اسمبلیوں سے استعفے دینے اور لانگ مارچ کرنے سے متعلق فیصلے کئے گئے۔

اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ 31 دسمبر تک ارکان قومی و صوبائی اسمبلی استعفے اپنی جماعت کے قائدین کو دے دیں گے۔ حکومت 31 جنوری تک مستعفی ہوجائے، اگر حکومت مستعفی نہ ہوئی تو یکم فروری کو لانگ مارچ کی تاریخ کا اعلان کردیا جائے گا۔

انہوں نے کہا ہم ان سے کوئی بات کرنے کو تیار نہیں، استعفوں اور اسمبلی تحلیل کے اعلان کے بعد کوئی تجویز آئے تو پی ڈی ایم فیصلہ کرے گی۔مولاناکا کہنا تھا کہ سٹیرنگ کمیٹی نے صوبوں کو لانگ مارچ کیلئے جو شیڈول دیئے ہیں وہ برقرار رہیں گے۔

عوام آج سے ہی لانگ مارچ کی تیاری شروع کردیں اور عہدیدار لانگ مارچ کی تیاریوں کی نگرانی کریں گے۔اس حکومت میں پاکستان کے دفاع کی صلاحیت نہیں۔

مریم نواز کا کہنا تھا پوری زندگی میں ایسا جلسہ میں نے نہیں دیکھا، مجھے کوئی کرسی نظر نہیں آئی،میں نے ارکان صوبائی اسمبلی سے گلہ کیاکہ جلسہ گاہ چھوٹی رکھی گئی، لوگوں کو جلسہ گاہ سے باہر سڑک پر کھڑا ہو کر خطاب سننا پڑا۔

انہوں نے کہا بہت افسوس کی بات ہے جس بات کا وجود ہی نہیں وہ بات چند چینلز نے چلائی، میں نے اپنی لاہور کی پارٹی اور ایم این ایز کی کاوش کو سراہا ہے۔لیگی نائب صدر کا کہنا تھاحکومتی ہتھکنڈوں کے باوجود لاہوریوں نے کسی بات کی پرواہ نہیں کی۔

ہم ابھی گھر سے نہیں نکلے تھے، پروپیگنڈاشروع کردیا گیا تھا، مجھے پکا پتہ ہے ادھر صف ماتم بچھی ہوئی ہے۔انہوں نے کہا ہم عوام کی عدالت میں جاچکے ، سلیکٹڈ اور سلیکٹرز کو پیچھے جانا ہوگا۔

پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا سب فیصلے ہم مل کر کریں گے اور پی ڈی ایم پلیٹ فارم سے کریں گے، اب مذاکرات کا وقت گزر چکا ، عمران کے استعفے کا وقت ہے۔



مینارپاکستان گریٹراقبال پارک کوپانی سے بھردیاگیا

1 month ago


جلسہ روکنے کےلئے ایساکیاگیا،ن لیگ،پودوں کوپانی دیناروٹین ہے،پارک انتظامیہ

مینارپاکستان لاہورگریٹراقبال پارک کوپانی سے بھردیاگیا۔13دسمبرکواپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ(پی ڈی ایم)نے اس جگہ پرجلسہ کرنے کااعلان کررکھاہے۔ایک ویڈیوسوشل میڈیاپروائرل ہورہی ہے جس میں دکھایاجارہاہے کہ پائپوں کے ساتھ پانی گراﺅنڈپر لگایا جارہاہے۔

ن لیگ کاکہناہے کہ یہ جلسہ کوروکنے کے لئے کیاجارہاہے۔بارش اورسردی کے موسم میں بھلاکون پودوں کوپانی لگاتاتھاجومرضی کرلیاجائے جلسہ ہوکررہے گا جبکہ پارک انتظامیہ کاکہناہے کہ پودوں کوپانی دینا روٹین کی بات ہے۔



وزارت داخلہ کی ملیشیازکی نگرانی کرنے کی ہدایت

1 month ago


ڈنڈے کی رجسٹریشن ہوتی ہے نہ لائسنس :مولانافضل الرحمن

وفاقی وزارت داخلہ نے صوبوں کو سیاسی اور مذہبی جماعتوں کی”ملیشیاز“ کے افعال کا جائزہ لینے کے لئے ضروری اقدامات کی ہدایت کردی۔

وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ بعض سیاسی اور مذہبی جماعتوں نے مسلح جتھے بنائے ہوئے ہیں جن کی وردیاں قانون نافذ کرنے والے اداروں جیسی ہیں۔ایسے جتھے بنانا غیرقانونی ہے جو ملک کے امیج کو عالمی سطح پرمتاثر کرتا ہے چنانچہ صوبائی حکومتیں فوری کارروائی کریں۔

وفاقی حکومت کے مطابق ایسے جتھوں کے خلاف اگر کارروائی نہ کی گئی تو سکیورٹی صورتحال مزید خراب ہوسکتی ہے۔سیکرٹری داخلہ یوسف نسیم کھوکھر کی جانب سے چاروں صوبوں سمیت گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے چیف سیکریٹریز کو مراسلہ ارسال کیا گیاہے۔

مراسلے میں کہاگیاہے کہ اس طرح کی تنظیمیں دیگر سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے لیے غلط مثال قائم کررہی ہیں اور دیگر جماعتیں بھی اس طرح کے افعال کرسکتی ہیں جس سے امن و عامہ کی صورتحال مزید پیچیدہ ہوسکتی ہے۔

مذکورہ بالا صورتحال کے تناظر میں تمام صوبائی حکومتوں سے درخواست کی جاتی ہے کہ اس خطرے کا فوری جائزہ لیں اور ان کے افعال اور مزید اس قسم کی ملیشیاز کی تشکیل پر نظر رکھیں اور اس سلسلے میں ضروری اقدامات اٹھائے جائیں۔

ساتھ ہی وفاقی حکومت کی جانب سے ضرورت پڑنے پر ہر قسم کی معاونت بھی فراہم کرنے کی یقین دہانی کروائی گئی۔ادھرجمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے وزارت داخلہ کے مراسلے کو بدنیتی پر مبنی قرار دے دیا۔


مولانا فضل الرحمان نے کہاہے کہ مراسلے کے الفاظ نئے نہیں ہیں۔عسکری ونگ اور رضاکار میں فرق ہوتا ہے، رضاکار انصارالاسلام کے ہیں جو جے یو آئی کا دستوری ونگ ہے، رضاکار الیکشن کمیشن سے رجسٹرڈ ہیں۔ رضاکاروں پر کبھی اعتراض نہیں کیا گیا، رضاکار جے یو آئی کے دستور کا حصہ ہیں۔


مولانا فضل الرحمان نے کہا ڈنڈے کی کوئی رجسٹریشن نہیں ہوتی، نہ لائسنس ہوتا ہے، ایسے مراسلے صرف سیاسی دبائو کے لئے ہوتے ہیں۔