25ہزارروپے والا بیریئرپرائزبانڈ ختم

1 week ago


رجسٹرڈبانڈجاری کیاجائے گا،حتمی فیصلہ ہوناابھی باقی

25ہزارروپے والے بیریئرپرائزبانڈزکوبھی ختم کردیاگیا۔اب 25ہزاروالارجسٹرڈپرائزبانڈجاری کیا جائے گاجسے صارف کواپنے نام پررجسٹرڈکروانالازم ہوگا۔اس سے پہلے40ہزاروالا بیرئرپرائزبانڈ ختم کیاگیاتھااوراب مارکیٹ میں صرف 40 ہزار روپے والا رجسٹرڈپرائزبانڈہی دستیا ب ہے۔


سال2021کےلئے جاری ہونے والے پرائزبانڈکی قرعہ اندازی کے شیڈول میں سے25ہزاروالے بیریئرپرائزبانڈکوہٹادیاگیاہے۔اس حوالے سے جب نیشنل سیونگ سے رابطہ کیاگیاتوان کاکہناتھاکہ اس حوالے سے ابھی حتمی فیصلہ نہیں ہواکہ اس موجودہ بیریئرپرائزبانڈکوختم کرناہے یانہیں لیکن امکانات ہیں کہ بیریئرپرائزبانڈکوختم کرکے رجسٹرڈوالابانڈجاری کیاجائے گا۔

شیئر کریں



یہ بھی پڑھیے


بیرون ملک مقیم کارکنوں کی زبردستی وطن واپسی کا انتباہ
اسامہ کی ہلاکت،زرداری کو خبردینابہت آسان ثابت ہوا:اوباما
لارڈنذیرہائوس آف لارڈزسے نکلے یانکالے گئے؟

سب ایک پیج پر’وہاں‘ بھی نہیں:مریم نواز

6 days ago


گلگت بلتستان کارزلٹ وٹس ایپ کے ذریعے48گھنٹے پہلے سب کومعلوم ہو گیاتھا،لیگی رہنما

مسلم لیگ کی نائب صدر مریم نوازنے کہاہے کہ گلگت بلتستان کے الیکشن میں مسلم ن کے جیتنے والے امیدواروں کو توڑا گیا۔اس سے بڑی تاریخی،ذلت آمیزناکامی اور کیا ہو سکتی ہے۔سلیکٹرزکے ساتھ ملکر دھاندلی کی گئی۔


وہ اسلام آبادمیں میڈیانمائندوں سے گفتگوکررہی تھیں۔ایک صحافی نے سوال کیاکہ کیاآپ کے ارکان جی بی اسمبلی حلف اٹھائیں گے تواس پرمریم نوازنے کہاحلف اٹھانے سے متعلق نوازشریف فیصلہ کریں گے۔ جی بی الیکشن میں دھاندلی میں کسی نے کوئی کسرنہیں چھوڑی۔ اسٹیبلشمنٹ کے نمائندے کچھ ماہ سے وہاں موجودتھے جنہوں نے جوڑتوڑکی۔


جی بی الیکشن کے حوالے سے انہوں نے کہامیں اس معاملے میں بہت کلیئر ہوں ،جی بی کا رزلٹ پہلے سے بہت سے لوگوں کو معلوم تھا۔واٹس ایپ کے ذریعے رزلٹ اڑتالیس گھنٹے پہلے سب کو معلوم ہو گیا تھا۔مجھے تو بہت پہلے اندازہ تھالیکن وہاں جا کرعوامی طاقت کا مظاہرہ کرنا اور دھاندلی کرنے والوں کو ایکسپوز کرنامیرامقصد تھا۔


عمران خان اوران کی جماعت کی وہاں اتنی حیثیت نہیں۔ان کے لوگوں نے الیکشن کمیشن قوانین کی خلاف ورزی کی۔قانون اورآئین کا مذاق اڑایا گیا۔پھربھی سادہ اکثریت نہیں لے سکا۔گرفتاریاں ہوں یا کرونا کی آڑ میں پابندیاں،یہ انکے خوف کی عکاس ہیں۔ انہیں پی ڈی ایم کے جلسوں اور نوازشریف کے بیانیے سے تکلیف ہے۔

مریم نوازنے کہاپھر بھی انہیں ہر حالت میں گھر جانا پڑے گا۔ یہ حکومت نہیں چل سکتی۔ان سے پوچھا گیا کہ آئی ایس پی آر نے کہاہے کہ آرمی چیف اور سپاہی میں کوئی فرق نہیں کیا آپ فوج پر تنقید کرتی ہیں؟اس پرمریم نوازنے کہاآپ مجھ سے کیا سننا چاہتے ہیں۔


ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس ریلیز نے بتا دیا کہ ان کے چند افسران مشتعل اورجذباتی ہو جاتے ہیں۔اس سے کیا پیغام دیا جارہا ہے۔اس سے یہ پیغام دیاجارہاہے کہ سب ایک پیج پروہاں بھی نہیں ہیں۔جب ان سے پوچھاگیاکہ کراچی واقعہ کی صوبائی رپورٹ پر کیا بنا ،بلاول یا سی ایم نے کچھ بتایا تومریم نوازکاکہناتھاکہ اس رپورٹ میں کچھ ڈھکی چھپی بات نہیں ۔

میں بھی جانتی ہوں ،بلاول اور مراد علی شاہ بھی جانتے ہیں ۔سب جماعتوں کی یہ پالیسی ہونی چاہئے کہ لوٹوں کو خیرآباد کہہ دیں۔صحافی نے سوال کیاکہ کیایہ طے ہو گیا ہے کہ جرنیلوں کانام لیا جائے گایا اسٹیبلشمنٹ کالفظ استعمال کیا جائے گا۔لیگی نائب صدرنے کہاجرنیلوں کا نام تو پہلے ہی لیاجارہاجو نام لئے بغیربات کر رہے ہیں انہیں بھی پتہ ہے کہ وہ کس کی بات کررہے ہیں اورعوام کو بھی پتہ ہے۔


انہوں نے ہزارہ والوں کے لئے پیغام دیاکہ کل میرے جلسے میں شامل ہوں۔ہزارہ والے گی ہوئی دیوار کو ایک دھکا اور دیں۔جب ان سے کہاگیاکہ گلگت بلتستان میں آپ کے سابق وزیراعلیٰ نے پیپلز پارٹی پر الزام لگایا ہے کہ بلاول نے اداروں سے ڈیل کر لی ہے۔ آپ ان سے اتفاق کرتی ہیں تواس پرمریم نوازنے کہاانہوں نے جو بات کی وہ اس کی وضاحت خود دے سکتے ہیں۔


انہوں نے کہاکہ بلاول سے مختصرسی بات چیت کی ہے اورکہاکہ دھاندلی پرجوآوازاٹھا رہے ہیں یہ اچھی بات ہے۔ان سے سوال کیاگیاکہ کیااسٹبلشمنٹ سے رابطوں پرپی ڈی ایم رہنمائوں کواعتمادمیں لیاگیاہے۔مریم نوازنے کہاپی ڈی ایم میں تو سب باتیں رکھنے پڑتی ہیں اوررکھنی چاہئے۔ایک صحافی نے سوال کیاکہ آپ بڑی ہارڈ لائن لے رہی ہیں کیا آپ کے بیانیہ کودوسری جماعتیں بھی سپورٹ کررہی ہیں تولیگی رہنمانے کہاکہنے کا انداز مختلف ہے لیکن سب کی بات ایک ہی ہے۔



وزیراعظم عمران خان کاالیکٹرانک ووٹنگ سسٹم لانے کا اعلان

6 days ago


تارکین وطن کےلئے بھی ووٹ ڈالنے کا سسٹم لارہے ہیں،وزیراعظم

وزیراعظم عمران خان نے الیکٹرانک ووٹنگ سسٹم لانے کااعلان کردیا۔وزیراعظم نے انتخابی عمل کے حوالے سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہاہے کہ 2013 کا الیکشن ختم ہوا تو ساری جماعتوں نے کہا دھاندلی ہوئی ہے، ن لیگ نے بھی کہا سندھ میں دھاندلی ہوئی، پیپلزپارٹی نے 2013میں کہا یہ آر او کا الیکشن تھا۔


عمران خان نے کہا 2013میں 133لوگوں نے کہا انتخابات میںبے ضابطگی ہوئی ۔ ، 2018 کے الیکشن کے بعد صرف 102پٹیشنز آئیں، 2013 کے مقابلے میں 2018 میں کم لوگوں نے کہا کہ دھاندلی ہوئی۔2013کے الیکشن کے بعد 4حلقے کھولنے کا مطالبہ اس لئے کیا کہ 2018 کا الیکشن ٹھیک ہو۔

4حلقوں کا معاملہ لیکر پارلیمنٹ گئے پھر الیکشن کمیشن کے پاس گئے، پھر یہ معاملہ سپریم کورٹ بھی لیکر گئے ، ایک سال گزر نے کے باوجود حکومت 4 حلقے کھولنے کو تیار نہ تھی۔ ہم نے ایک سال گزرنے کے بعد دھرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

وزیراعظم کا کہنا ہے کہ 2018کے الیکشن میں پی ٹی آئی کی 23، پیپلزپارٹی اور ن لیگ نے صرف 24 پٹیشنز دائر کیں، پی ٹی آئی نے قومی اسمبلی کی 14نشستیں 3ہزارکم ووٹ سے ہاریں جبکہ پیپلزپارٹی کو3 اور ن لیگ نے9سیٹوں پر کم ووٹوں سے شکست ہوئی۔

اپوزیشن کے لوگ پہلے دن سے اسمبلی میں شور مچارہے ہیں کہ دھاندلی ہوئی، پرویزخٹک کی قیادت میں کمیٹی بنی ،پہلی میٹنگ میں ان کے لوگ آئے، دھاندلی پر بنی کمیٹی کی دوسری میٹنگ سے ان کے لوگ ہی نہیں آئے۔

وزیراعظم نے میں الیکٹرانک ووٹنگ لانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا الیکٹرانک ووٹنگ پر الیکشن کمیشن سے بات چیت ہورہی ہے، مارڈن ٹیکنالوجی سے پاکستان میں سب سے بہترین الیکشن کا سسٹم آئے گا، تارکین وطن کےلئے بھی ووٹ ڈالنے کا سسٹم لارہے ہیں۔

ملک میں ابھی سینیٹ اورآزادکشمیرکے الیکشن آنےوالے ہیں، سینیٹ انتخابات کیلئے آئینی ترامیم کی ضرورت ہے، ہم چاہتے ہیں سینیٹ کے انتخابات شو آف ہینڈ ہوں ، الزام لگتا ہے کہ پیسہ دے کر سینیٹ کی نشستیں خریدی جاتی ہیں، ہم سینیٹ الیکشن میں سیکریٹ بیلٹ کا خاتمہ چاہتے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ سینیٹ الیکشن میں کرپشن کا الزام نہ لگے۔

وزیراعظم نے انتخابی اصلاحات کے لئے اپوزیشن کودعوت دیتے ہوئے کہا ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان میں صاف و شفاف الیکشن ہوں۔



نیشنل پریس کلب کے سینئرنائب صدر ارشدوحیدچوہدری انتقال کرگئے

1 week ago


وہ جیوجنگ گروپ سے وابستہ تھے، جنازہ کااعلان بعدمیں کیاجائے گا

نیشنل پریس کلب کے سینئرنائب صدر،کالم نگاراوراینکرپرسن ارشدوحیدچوہدری کوروناکے باعث انتقال کرگئے۔وہ کئی روزسے علا ج کے لئے ہسپتال میں داخل تھے جہاں وہ انہیں وینٹی لیٹرپررکھاگیا تھا۔ان کے انتقال کی خبرملتے ہی صحافتی برادری میں غمی کی لہردوڑگئی۔ان کے جنازہ کااعلان بعدمیں کیاجائے گا۔وہ کئی سالوں سے جیوجنگ گروپ کے ساتھ وابستہ تھے۔