پیپلزپارٹی مولاناکوپی ڈی ایم سربراہ بنانے کی مخالف

2 weeks ago


سربراہ کاتقرر اتفاق رائے سے ہوا،احسن اقبال :سربراہی روٹیشن پرہونی چاہئے،بلاول کی تجویز:اے این پی بھی حامی

پیپلز پارٹی کی جانب سے مولانا فضل الرحمان کو پی ڈی ایم کا سربراہ بنانے کی دبے الفاظ میں مخالفت کی گئی۔عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی)نے بھی حمایت کردی۔پی ڈی ایم کے سربراہی اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی۔ذرائع کاکہناہے کہ نواز شریف نے پی ڈی ایم کے سربراہ کے لئے مولانا کا نام تجویز کیا۔

چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹوزرداری نے کہا کہ سربراہی روٹیشن پر ہونی چاہئے۔ابھی مولانا کو سربراہ بنایا جائے لیکن وقت مقرر کیا جائے۔مولانا کی مدت پوری ہونے کے بعد باری باری تمام جماعتوں کو سربراہی دینی چاہئے۔اے این پی کے امیر حیدر ہوتی نے بھی بلاول کی تجویز کی حمایت کی جبکہ باقی تمام جماعتوں نے بلاول کی تجویز کی مخالفت کردی۔

اجلاس میں پی ڈی ایم سربراہان نے میثاق پاکستان معاہدہ کرنے کابھی فیصلہ کیاہے۔میثاق پاکستان معاہدہ کرنے کا فیصلہ مولانا کی تجویز پر کیا گیا۔میثاق پاکستان معاہدے کے لئے پیر کو سٹیئرنگ کمیٹی کے اجلاس میں نئی کمیٹی قائم کی جائے گی۔نئی کمیٹی میثاق پاکستان معاہدے کی تیاری پر کام کرے گی۔

ادھراحسن اقبال کاکہناہے کہ مولانا فضل الرحمن کو اتفاق رائے سے پی ڈیم ایم کا پہلا صدر منتخب کیا گیا ہے۔ قائد مسلم لیگ( ن) نواز شریف نے مولاناکانام تجویز کیا اور چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے اس کی تائید کی۔

روٹیشن کی بنیاد پر صدر کے عہدہ کی مدت کا تعین،دیگر مرکزی اور صوبائی عہدیداروں کا چنائوپی ڈی ایم کی سٹیئرنگ کمیٹی کرے گی۔ سٹیئرنگ کمیٹی کا اجلاس پانچ اکتوبر کو طلب کیاگیا ہے۔ کمیٹی پی ڈی ایم کی احتجاجی تحریک کے پروگرام کو حتمی شکل دے گی۔تمام جماعتیں جلسے پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے کریں گی۔مولانا فضل الرحمن کی قیادت اور بصیرت پر پی ڈی ایم کی تمام جماعتوں نے بھرپور اعتماد کا اظہار کیا۔


پی ڈی ایم کے اجلاس میں قرار دادیں متفقہ منظور پر منظور کی گئیں جن کے مطابق پی ڈی ایم کی جمہوری جدوجہد پاکستان میں آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور عوام کے معاشی حقوق کے تحفظ کےلئے ہے۔سلیکٹڈ مینڈیٹ چور حکومت کا پی ڈی ایم کو بھارت سے جوڑنا اس کے حواس باختہ ہونے کی دلیل ہے۔تین مرتبہ عوام کے منتخب ،جوہری دھماکہ کرنے والے وزیر اعظم پر ملک دشمنی کا الزام قابل مذمت ہے۔


پی ڈی ایم کا ہدف عوام کی حکمرانی کا وہ تصور ہے جس کی نشاندہی قائد اعظم نے کی تھی۔آج کے اجلاس میںقائد حزب اختلاف شہبازشریف کی گرفتاری کی شدید مذمت کی۔گھریلو خواتین کو کٹہروں میں لانا کم ظرفی کی انتہا ہے۔اپوزیشن رہنمائوں کی گرفتاری گلگت بلتستان کے انتخابات چرانے کی سازش ہے۔گرفتاریوں اور بھارت کارڈکے استعمال سے پی ڈی ایم کی آئینی اور جمہوری تحریک اب نہیں رکے گی۔مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی تباہی کی ستائی عوام جعلی حکومت سے نجات چاہتے ہیں۔


پی ڈی ایم سربراہی ورچوئل اجلاس میں نوازشریف، بلاول بھٹو ، مولانا فضل الرحمن ،ڈاکٹر عبدالمالک ، سردار اختر مینگل، آفتاب احمد خان شیرپاﺅ، امیر حیدر ہوتی، پروفیسر ساجد میر، اویس نورانی، احسن اقبال سابق وزراءاعظم یوسف رضاگیلانی، راجہ پرویز اشرف، شاہد خاقان عباسی ،شیری رحمن، مریم اورنگزیب اور محسن داوڑ بھی شریک تھے۔

شیئر کریں



یہ بھی پڑھیے


بےروزگاری کاسونامی ریڈیوپاکستان سے ٹکراگیا
الیکشن چوری کے نتیجے میں ہمیں آدھا ملک گنوانا پڑا:کیپٹن صفدر
کیپٹن (ر) محمد صفدر کوعدالت نے ضمانت پر رہا کردیا

ٹک ٹاک کو پاکستان میں بحال کرنے کافیصلہ

1 day ago


کچھ دیر میں حکم نامہ جاری کریں گے:ترجمان پی ٹی اے

معروف چینی موبائل ایپ ٹک ٹاک کو پاکستان میں بحال کرنے کافیصلہ کرلیا گیا۔پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی(پی ٹی اے) ترجمان کے مطابق ٹک ٹاک نے مقامی قوانین پر عمل درآمد کرنے کی یقین دہانی کرادی ہے۔ترجمان پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ کچھ دیر میں حکم نامہ جاری کریں گے۔ ٹک ٹاک انتظامیہ نے غیراخلاقی مواد پر بھی قابو پانے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

ٹک ٹاک انتظامیہ غیراخلاقی و غیر مناسب مواد کی روک تھام کا میکانزم بنانے پر آمادہ ہے اور اس نے یقین دہانی کرائی ہے کہ غیراخلاقی موادکی مسلسل نگرانی اورایسے اکائونٹس معطل کرنےکامقامی نظام بنادیا ہے۔پی ٹی اے نے 9 اکتوبر کو ٹک ٹاک پر پابندی کا اعلان کیا تھا۔

 



پاکستان میں ٹک ٹاک پرپابندی لگ گئی

1 week ago


پابندی متنازع موادنہ ہٹانے پرلگائی گئی

پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے ٹک ٹاک کو نامناسب مواد نہ ہٹانے پر بند کردیا۔پی ٹی اے کے مطابق ٹک ٹاک دی گئی مدت کے دوران ایپلی کیشن سے متنازع مواد کو ہٹانے میں ناکام رہاجس وجہ سے ٹک ٹاک کو ملک میں بند کیاگیاہے۔


چینی ایپلی کیشن کی انتظامیہ کو بار بار متنازع اور نامناسب مواد ہٹانے کے لیے ہدایات جاری کی گئیں تاہم ایپ انتظامیہ ایسا کرنے میں ناکام رہی۔پی ٹی اے کے مطابق متنازع اور نامناسب مواد کو نہ ہٹائے جانے کی وجہ سے ٹک ٹاک پر 9 اکتوبر سے پابندی عائد کردی گئی۔یاد رہے پی ٹی اے گزشتہ چند ماہ سے ٹک ٹاک انتظامیہ کو متنازع اور نامناسب مواد کو ہٹانے سے متعلق احکامات جاری کرتی آ رہی تھی اور ایک موقع پر پی ٹی اے نے چند ایپس کو بند بھی کردیا تھا۔



سیاسی رہنماباباجان دیگرکی رہائی کیلئے ہنزہ میں دھرنا

1 week ago


مذکورہ افرادکوعدالت نے فسادات کے کیس میں قیدکی سزاسنارکھی ہے

گلگت بلتستان کی وادی ہنزہ میں دیاجانے والادھرناآج چوتھے روز میں داخل ہو گیا۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ وہ اس وقت تک احتجاج ختم نہیں کریں گے جب تک 2011 میں ’فسادات اور عوامی املاک کو نقصان پہنچانے‘ کے الزامات میں قیدسیاسی رہنما بابا جان اور ان کے 14 دیگر ساتھیوں کو رہا نہیں کیا جاتا۔


بابا جان اور دیگر کارکنوں کو2011 میں عطا آباد جھیل کے متاثرین کی جانب سے کئے گئے احتجاج کے دوران ہنگامہ آرائی کرنے کے الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا تھا اور بعدازاں عدالت نے گرفتار ہونے والے افراد کو 40 سال سے نوے سال قید بامشقت کی سزائیں سنائی تھیں۔


دھرنے کی ابتدا پیر کے روز ہوئی تھی۔ احتجاج اس لئے بھی اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ 15 نومبر کو عام انتخابات کا انعقاد ہونے جا رہا ہے جبکہ پاکستانی حکام کی جانب سے اس خطے کو صوبے کی حیثیت دینے کی تجویز کے حوالے سے خبریں بھی زیر گردش ہیں۔


یادرہے 2010 میں عطا آباد کے مقام پر لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے متعدد گائوں اور دیہات زیرِ آب آ گئے تھے۔ ان مقامی آبادیوں کی جگہ پر بعد میں عطا آباد جھیل وجود میں آ گئی تھی۔ سرکاری حکام کے مطابق عطا آباد جھیل کے وجود میں آنے سے لگ بھگ ایک ہزار گھرانے بے گھر ہوئے تھے۔


گلگت بلتستان کی حکومت نے ان بے گھر متاثرین کے لیے امدادی پیکج کا اعلان کیا تھا مگر ان میں سے کچھ متاثرین کا دعویٰ تھا کہ انھیں حکومت کی جانب سے اعلان کردہ امدادی پیکج موصول نہیں ہوا۔
حکومت کی جانب سے مطالبے پر توجہ نہ دینے کے باعث متاثرین نے اس وقت کے گلگت بلتستان کے وزیر اعلیٰ سید مہدی شاہ کی آمد پر شاہراہ قراقرم کو بلاک کیا تھا۔

رپورٹس کے مطابق 2011 میں ہونے والے احتجاج کے دوران مظاہرین اور پولیس کے درمیان تصادم ہواجس میں فائرنگ بھی ہوئی۔ پولیس کے مطابق مظاہرین کی اپنی فائرنگ سے احتجاج میں شریک ایک باپ اور بیٹا ہلاک ہوئے تاہم مظاہرین کا دعویٰ تھا کہ پولیس نے مظاہرین پر فائرنگ کی جس سے ہلاکتیں ہوئیں۔

سرکاری رپورٹس کے مطابق باپ بیٹا کی ہلاکت کے بعد وادی ہنزہ میں بڑے پیمانے پر ہنگامے پھوٹ پڑے تھے اور اس دوران عوامی املاک کو نذرِ آتش کیا گیا۔ ان مظاہروں کا اہتمام عوامی ورکر پارٹی کی اپیل پر کیا گیا جبکہ اس ’پرتشدد‘ احتجاج کی قیادت بابا جان اور ان کے 14 ساتھیوں نے کی تھی۔

مظاہروں کے بعد ہنزہ پولیس نے بابا جان اور ان کے ساتھیوں کو گرفتار کر کے دہشت گردی سمیت دیگر سنگین جرائم کی دفعات کے تحت مقدمات درج کیے۔ابتدائی طور پر یہ مقدمات دہشت گردی کی عدالت میں چلے۔ 2014 میں ملزمان میں سے پانچ افراد کو عدم ثبوت کی بنیاد پر بری جبکہ بابا جان سمیت دیگر کارکنوں کو 40 سال سے لے کر 60 سال قید بامشقت کی سزائیں سنائی گئی تھیں۔

عدالت سے ملنے والی سزا کے خلاف گلگت بلتستان کی چیف کورٹ میں اپیل دائر کی گئی تھی۔ 2015 کے آخر میں بابا جان سمیت تمام افراد کو بری کر دیا گیا تاہم حکومت نے چیف کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیلٹ کورٹ میں اپیل دائر کردی۔اپیلیٹ کورٹ نے دائر کردہ اپیلوں کی سماعت کرتے ہوئے حکومت کی اپیلوں کو قبول کیا اور تمام کے تمام پندرہ افراد کو مجرم قرار دے دیا۔اپیلٹ کورٹ کے فیصلے کے خلاف نظر ثانی کی اپیل 2016 سے زیر سماعت ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اپیلٹ کورٹ کا فورم مکمل نہیں ۔