اسامہ کی ہلاکت،زرداری کو خبردینابہت آسان ثابت ہوا:اوباما

5 days ago


سابق صدرپاکستان نے کہایہ بہت خوشی کی خبر ہے،سابق امریکی صدر

سابق امریکی صدرباراک اوبامانے اپنی کتاب’اے پرامسڈ لینڈ‘میں لکھاہے کہ القاعدہ کے سابق سربراہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعدسے سے مشکل فون کال جوپاکستان کوکی وہ توقع سے زیادہ آسان ثابت ہوئی۔

ایبٹ آبادمیں نیوی سیلز کے آپریشن میں القاعدہ کے سابق سربراہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے حوالے سے باراک اوبامانے اپنی نئی کتاب میں لکھاہے کہ میرا خیال تھا سب سے مشکل فون کال پاکستانی صدر آصف زرداری کو ہو گی کیونکہ اس واقعے کے بعد ان پر پورے ملک سے دبائوہو گا کہ پاکستان کی سالمیت کی تضحیک ہوئی ۔

سابق امریکی صدر نے لکھا کہ میں توقع کر رہا تھا آصف زرداری کو کال کافی مشکل ہو گی لیکن جب میں نے ان سے رابطہ کیا تو ایسا بالکل نہیں تھا، آصف زرداری کا کہنا تھا کہ جو بھی رد عمل ہو، یہ بہت خوشی کی خبر ہے۔

اوباما نے اپنی کتاب میں لکھا کہ صدر آصف زرداری اس فون کال پر واضح طور پر جذباتی تھے اور انھوں نے اپنی اہلیہ بینظیر بھٹو کا بھی ذکر کیا جنہیں القاعدہ سے منسلک شدت پسندوں نے ہلاک کیا تھا۔
اس کتاب کے دیباچے میں سابق امریکی صدر باراک اوباما نے لکھا کہ جب انھوں نے فیصلہ کیاکہ وہ اپنی دور صدارت کی داستان تحریر کریں گے تو ان کا خیال تھا کہ وہ 500 صفحات پر مبنی کتاب ہو گی جسے وہ سال بھر میں مکمل کر لیں گے لیکن مزید تین سال اور 200 مزید صفحات کے باوجود ان کی کہانی کا صرف پہلا حصہ ہی مکمل ہوا ہے۔

یہ کتاب باراک اوباما کے بچپن سے لے کر ان کے پہلے دور صدارت کے سب سے اہم واقعے مئی 2011 میں القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن کی ہلاکت تک کے واقعات تک محدودہے۔باراک اوباما اپنی آپ بیتی کا دوسرا والیم لکھ رہے ہیں لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ اس کی اشاعت کب ہو گی۔

باراک اوباما نے اپنی کتان میں لکھا کہ جب انھوں نے صدارت کا عہدہ سنبھالا تو اس وقت امریکی حکام نے اسامہ بن لادن کی کھوج لگانے کا سلسلہ تقریباً چھوڑ دیا تھا لیکن انھوں نے اس کو اپنی سب سے اوّلین ترجیح بنایا اور مئی 2009 میں ہی اپنے قریبی مشیروں کو کہہ دیا تھا کہ میں اسامہ بن لادن کی کھوج لگانا چاہتا ہوں لہذا اس کے لیے منصوبہ تشکیل دیا جائے اور ہر 30 دن بعد عمل درآمد رپورٹ سے آگاہ کیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے کو انتہائی خفیہ رکھا گیا تھا اور انتظامیہ کے چند لوگوں کے سوا کسی کو اس کا علم نہیں تھا، پاکستانی حکام کو بھی اس منصوبے کی بھنک بھی نہ پڑنے دی گئی۔سابق امریکی صدر نے بتایا کہ ان کے قریبی ساتھیوں میں سے اکثریت نیوی سیلز کو بھیجنے پر راضی تھی البتہ امریکا کے نومنتخب صدر جو بائیڈن نے صبر کرنے کا مشورہ دیا اور نیوی سیلز کو پاکستان بھیجنے کی مخالفت کی۔

اوباما اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ اس وقت کے سیکرٹری دفاع رابرٹ گیٹس بھی اس حملے کے خلاف تھے اور اسی بات کو جواز بناتے ہوئے جو بائیڈن نے بھی اپنے خدشات کا اظہار کیا تھا کہ مشن کی ناکامی کی صورت میں پیدا ہونے والی صورتحال انتہائی مشکل ہو جائے گی۔

ان کے بقول جو بائیڈن کا موقف تھا کہ آپریشن کی منظوری سے قبل ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کی موجودگی کی تصدیق کر لی جائے اور پھر 2011 کو یکم اور 2 مئی کی درمیانی شب کو کیے گئے حملے میں اسامہ بن لادن کو ہلاک کر دیا گیا۔

شیئر کریں



یہ بھی پڑھیے


بیرون ملک مقیم کارکنوں کی زبردستی وطن واپسی کا انتباہ
لارڈنذیرہائوس آف لارڈزسے نکلے یانکالے گئے؟
سب ایک پیج پر’وہاں‘ بھی نہیں:مریم نواز

وزیراعظم عمران خان کاالیکٹرانک ووٹنگ سسٹم لانے کا اعلان

6 days ago


تارکین وطن کےلئے بھی ووٹ ڈالنے کا سسٹم لارہے ہیں،وزیراعظم

وزیراعظم عمران خان نے الیکٹرانک ووٹنگ سسٹم لانے کااعلان کردیا۔وزیراعظم نے انتخابی عمل کے حوالے سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہاہے کہ 2013 کا الیکشن ختم ہوا تو ساری جماعتوں نے کہا دھاندلی ہوئی ہے، ن لیگ نے بھی کہا سندھ میں دھاندلی ہوئی، پیپلزپارٹی نے 2013میں کہا یہ آر او کا الیکشن تھا۔


عمران خان نے کہا 2013میں 133لوگوں نے کہا انتخابات میںبے ضابطگی ہوئی ۔ ، 2018 کے الیکشن کے بعد صرف 102پٹیشنز آئیں، 2013 کے مقابلے میں 2018 میں کم لوگوں نے کہا کہ دھاندلی ہوئی۔2013کے الیکشن کے بعد 4حلقے کھولنے کا مطالبہ اس لئے کیا کہ 2018 کا الیکشن ٹھیک ہو۔

4حلقوں کا معاملہ لیکر پارلیمنٹ گئے پھر الیکشن کمیشن کے پاس گئے، پھر یہ معاملہ سپریم کورٹ بھی لیکر گئے ، ایک سال گزر نے کے باوجود حکومت 4 حلقے کھولنے کو تیار نہ تھی۔ ہم نے ایک سال گزرنے کے بعد دھرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

وزیراعظم کا کہنا ہے کہ 2018کے الیکشن میں پی ٹی آئی کی 23، پیپلزپارٹی اور ن لیگ نے صرف 24 پٹیشنز دائر کیں، پی ٹی آئی نے قومی اسمبلی کی 14نشستیں 3ہزارکم ووٹ سے ہاریں جبکہ پیپلزپارٹی کو3 اور ن لیگ نے9سیٹوں پر کم ووٹوں سے شکست ہوئی۔

اپوزیشن کے لوگ پہلے دن سے اسمبلی میں شور مچارہے ہیں کہ دھاندلی ہوئی، پرویزخٹک کی قیادت میں کمیٹی بنی ،پہلی میٹنگ میں ان کے لوگ آئے، دھاندلی پر بنی کمیٹی کی دوسری میٹنگ سے ان کے لوگ ہی نہیں آئے۔

وزیراعظم نے میں الیکٹرانک ووٹنگ لانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا الیکٹرانک ووٹنگ پر الیکشن کمیشن سے بات چیت ہورہی ہے، مارڈن ٹیکنالوجی سے پاکستان میں سب سے بہترین الیکشن کا سسٹم آئے گا، تارکین وطن کےلئے بھی ووٹ ڈالنے کا سسٹم لارہے ہیں۔

ملک میں ابھی سینیٹ اورآزادکشمیرکے الیکشن آنےوالے ہیں، سینیٹ انتخابات کیلئے آئینی ترامیم کی ضرورت ہے، ہم چاہتے ہیں سینیٹ کے انتخابات شو آف ہینڈ ہوں ، الزام لگتا ہے کہ پیسہ دے کر سینیٹ کی نشستیں خریدی جاتی ہیں، ہم سینیٹ الیکشن میں سیکریٹ بیلٹ کا خاتمہ چاہتے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ سینیٹ الیکشن میں کرپشن کا الزام نہ لگے۔

وزیراعظم نے انتخابی اصلاحات کے لئے اپوزیشن کودعوت دیتے ہوئے کہا ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان میں صاف و شفاف الیکشن ہوں۔



نیشنل پریس کلب کے سینئرنائب صدر ارشدوحیدچوہدری انتقال کرگئے

1 week ago


وہ جیوجنگ گروپ سے وابستہ تھے، جنازہ کااعلان بعدمیں کیاجائے گا

نیشنل پریس کلب کے سینئرنائب صدر،کالم نگاراوراینکرپرسن ارشدوحیدچوہدری کوروناکے باعث انتقال کرگئے۔وہ کئی روزسے علا ج کے لئے ہسپتال میں داخل تھے جہاں وہ انہیں وینٹی لیٹرپررکھاگیا تھا۔ان کے انتقال کی خبرملتے ہی صحافتی برادری میں غمی کی لہردوڑگئی۔ان کے جنازہ کااعلان بعدمیں کیاجائے گا۔وہ کئی سالوں سے جیوجنگ گروپ کے ساتھ وابستہ تھے۔



بختاور بھٹو زرداری کی منگنی طے، تیاریاں شروع

1 week ago


کورونا ٹیسٹ منفی آنے والے مہمان ہی شرکت کرسکیں گے

سابق وزیراعظم بینظیربھٹواورسابق صدر آصف علی زرداری کی بیٹی بختاور بھٹو زرداری کی منگنی کی تیاریاں شروع کردی گئی ہیں۔آصف علی زرداری نے اپنی بیٹی کی منگنی طے ہوجانے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ بختاور کی منگنی کی تقریب 27 نومبر کو بلاول ہاو¿س میں منعقد ہوگی۔


بلال ہائوس ترجمان کے مطابق پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی بڑی بہن کی منگنی صنعت کار و کاروباری شخص محمد یونس چوہدری کے صاحبزادے محمود چوہدری سے طے ہوئی ہے۔ دوسری جانب بختاور بھٹو زرداری کی منگنی کی تقریب منعقد کئے جانے کا دعوت نامہ بھی سامنا آ چکا ہے، جس میں تقریب کی تاریخ 27 نومبر بروز جمعہ شام 4 بجے درج ہے۔


ابھی یہ واضح نہیں کہ بختاور بھٹو زرداری کی منگنی کی تقریب میں کون کون سی شخصیات شامل ہوں گی تاہم خیال کیا جا رہا ہے کہ دونوں خاندانوں کے افراد سمیت اہم سیاسی و کاروباری شخصیات بھی تقریب میں شامل ہوں گی۔بلاول ہائوس ذرائع کے مطابق تقریب میں شرکت کے لئے آنے والے مہمانوں کو پہلے اپنا کورونا ٹیسٹ کروانا پڑے گا اور ان ہی افراد کو تقریب میں شامل ہونے کی اجازت دی جائے گی جن کا ٹیسٹ منفی آیا ہوگا۔