صحافی بلال فاروقی اشتعال پھیلانے کے الزام میں گرفتار

1 week ago


صحافتی تنظیموں کی مذمت،جھوٹامقدمہ ختم کرنے کامطالبہ

صحافی،بلاگراورسوشل میڈیاایکٹوسٹ بلال فاروقی کوافواج پاکستان کے خلاف سوشل میڈیاپرپوسٹیں کرنے کے الزام میں گرفتارکرلیاگیا۔ان کی گرفتاری ایک جاویدخان نامی شخص کی پولیس تھانہ ڈیفنس کو بذریعہ ڈاک دی گئی درخواست کے نتیجے کے طورپرکی گئی ہے۔ان پرمذہبی منافرت پھیلانے کاالزام بھی لگایاگیاہے۔

قبل ازیں ان کے اہلخانہ کے مطابق مالک مکان نے ان کے گھرکادروازہ کھٹکھٹایااورکہاکہ پولیس ویری فکیشن کے لئے آئی ہے آپ شناختی کارڈکے ہمراہ آجائیں۔وہ باہرگئے اورآدھے گھنٹے تک واپس نہ آئے تواہلیہ نے مالک مکان سے پوچھاکہ بلال کہاں گئے ہیں۔مالک نے بتایاکہ پولیس سادہ کپڑوں میں آئی تھی اورانہیں ساتھ لے گئی ہے۔

کافی دیرتک ان کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں تھی کہ انہیں کون اورکہاں لے گیاہے لیکن بعدمیں ان کی گرفتاری ڈال دی گئی جس کی وجہ مذکورہ ایف آئی آربتائی جاتی ہے۔

ایکسپریس کے گروپ ایڈیٹرایازخان نے ایم این این سے گفتگوکرتے ہوئے بلال فاروقی کے لاپتہ ہونے کی تصدیق کی تھی تاہم ان کاکہناتھاکہ انہیں اس بارے میں تفصیلات کاعلم نہیں۔

ادھرصحافی تنظیموں نے اس گرفتاری کی مذمت کی ہے۔کراچی پریس کلب کے صدر محمدامتیاز خان فاران،سیکرٹری ارمان صابر اور ارکان گورننگ باڈی نے پولیس کی جانب سے کراچی پریس کلب کے ممبراورصحافی بلال فاروقی کی گرفتاری اورجھوٹا و من گھڑت مقدمہ درج کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔جمعہ کوجاری بیان میں کراچی پریس کلب کے عہدیداروں نے کہاکہ حکومت صحافیوں کی معاشی زندگی تنگ کرنے کے بعد آزادی اظہار رائے پر قدغن لگانے کے لیے نئے نئے حربے استعمال کررہی ہے۔

بلال فاروقی کی بلاوجوازگرفتاری اور مقدمہ اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ کراچی پریس کلب کے عہدیداروں نے واضح کیاکہ صحافی کسی دھمکی،ناجائزمقدمے اور گرفتاری سے خوفزدہ نہیں ہوں گے۔انہوں نے بلال فاروقی پر جھوٹامقدمہ واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ انہیں فوری طور پر رہا کیا جائے۔انہوں نے چیف جسٹس آف پاکستان سے اپیل کی کہ وہ اس پر ازخود نوٹس لیں اور صحافیوں کے خلاف جھوٹے مقدمات قائم کرنے میں ملوث عناصرکیخلاف کارروائی کا حکم دیں۔

 یہاں کراچی یونین آف جرنلسٹس دستورنے صحافی بلال فاروقی کے خلاف بھونڈے اور جھوٹے مقدمے کے اندراج اور انکی گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیاہے کہ بلال فاروقی کے خلاف جھوٹا مقدمہ فوری طور پر ختم کرکے انہیں رہا کیا جائے۔


کے یو جے دستور کے صدد ریاض احمد ساگر اور سیکرٹری محمد عارف خان نے اپنے مذمتی بیان میں کہا ہے کہ عامل صحافیوں کے خلاف مشین مینوں کی مدعیت میں مقدمہ درج کرنا ہی مقدمے کے بھونڈے اور جھوٹے ہونے کا بین ثبوت ہے اس قسم کے مقدمات نہ صرف قانون کا مذاق ہیں بلکہ آزادی صحافت پر بھونڈا حملہ بھی ہیں۔


مذمتی بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ بلال فاروقی ایک ذمہ دار صحافی ہونے کے ساتھ ساتھ ایک صحافی تنظیم کے عہدیدار بھی ہیں لہذا ان سے کسی غیر ذمہ دارانہ رویے کی ہرگز توقع نہیں کی جا سکتی۔مذمتی بیان میں حکومت کے قانون ساز اداروں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنے بنائے ہوئے قوانین پر عملدرآمد کا منصفانہ اور شفاف طریقہ بھی وضع کریں اور قانون کو غلط استعمال کرنے والوں کے خلاف بھی کارروائی کو یقینی بنائیں۔

شیئر کریں



یہ بھی پڑھیے


آصف زرداری کی تین ضمنی ریفرنس خارج کرنے کی استدعا مسترد
سانحہ بلدیہ فیکٹری : رحمان بھولا، زبیر چریا کو سزائے موت
نواز شریف کی پرانی میڈیکل رپورٹس جعلی نہیں،وزیرصحت پنجاب

پیپلزپارٹی کی اے پی سی کل،نوازشریف خطاب کریں گے

5 days ago


حکومت خطاب روکنے کے لئے متحرک،مجرم کاخطاب نشرہواتوپیمراسمیت دیگرآپشن استعمال ہوں گے،شہبازگل

پیپلزپارٹی کی میزبانی میں کل بروزاتوار20ستمبرکواسلام آبادمیں ہونے والی آل پارٹیزکانفرنس(اے پی سی )میں ن لیگ کا11رکنی وفدشرکت کرے گا۔وفدکی قیادت شہبازشریف کریں گے۔وفدمیں مریم نوازبھی شامل ہوں گی،وفدکے دیگرارکان میں شاہد خاقان عباسی،راناثنااللہ،احسن اقبال،سعدرفیق ،ایازصادق،خواجہ آصف ،مریم اورنگزیب و دیگر شامل ہوں گے۔


چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹونے نوازشریف کواجلاس میں ورچوئل شرکت کی دعوت دی ہے جسے نواز شریف نے بہترصحت سے مشروط کردیاہے۔آصف علی زرداری اجلاس سے ویڈیولنک کے ذریعے خطاب کریں گے۔اس کے ساتھ ہی پیپلزپارٹی نے اپوزیشن کی دیگرپارٹیوں سے رابطے تیزکرتے ہوئے دونکاتی ایجنڈا جاری کردیاجس میں دوسالہ حکومت کی کارکردگی اورمستقبل کی حکمت عملی پرغورکے بعدتمام جماعتیں حکومت کوٹف ٹائم دینے کے لئے تجویزدیں گی۔ایوان کے اندراورباہرکی حکمت عملی،جلسے جلوس،سڑکوں پراحتجاج،سپیکرکے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے سمیت دیگرآپشنز پرغورکیاجائے گا۔

ادھرمریم نوازنے کہاہے کہ نوازشریف کااے پی سی سے خطاب سوشل میڈیاپردکھانے کے لئے اقدامات کئے جارہے ہیں جس سے صاف ظاہرہورہاہے کہ نوازشریف اجلاس میں ضرورورچوئل شرکت کریں گے۔ادھرحکومتی ترجمان شہبازگل کاکہناہے کہ اگرمفرورمجرم نے اے پی سی سے خطاب کیااوروہ نشرہواتو پیمرا اوردیگرقانونی آپشن استعمال ہوں گے۔

گورنرپنجاب کہتے ہیں کہ اے پی سی سے حکومت کوکوئی خطرہ نہیں،مدت سے ایک منٹ پہلے بھی حکومت نہیں جائے گی۔



مبینہ زیادتی کوشش سے متاثرہ خاتون نے خودکشی کرلی

6 days ago


خودکشی پولیس کے نامناسب رویہ پرکی گئی:ملزم،متعلقہ پولیس اہلکارگرفتار

پولیس کی جانب سے مناسب دادرسی نہ ہونے پرمبینہ زیادتی کوشش سے متاثرہ خاتون نے خودکشی کرلی۔بہاولپورکے نواحی علاقہ موضع چیلے واہن میں مبینہ زیادتی کی کوشش کی متاثرہ خاتون ط بی بی نے دلبرداشتہ ہوکر زہر پی لیاجسے ہسپتال لے جایاگیامگروہ جانبرنہ ہوسکی۔واقعہ کے مطابق 16 ستمبر کو ملزم لقمان نے ط بی بی سے مبینہ زیادتی کی کوشش کی تھی۔ متوفیہ کی والدہ کی مدعیت میں تھانہ خیر پور ٹامیوالی پولیس نے مقدمہ درج کر لیا۔ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر محمد صہیب اشرف نے موقع کا وزٹ کیا اور لواحقین سے ملاقات کی۔ڈی پی او نے مدعیہ مقدمہ کو انصاف فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔


ادھر تھانہ خیر پور ٹامیوالی پولیس نے ڈی پی او کی ہدایت پر فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزم لقمان کو گرفتار کرلیا۔ مدعیہ کی مناسب دادرسی نہ کرنے پر ایس ایچ او انوارالحق ،تفتیشی آفیسر اے ایس آئی اشفاق اور محرر محمد صدیق کو بھی گرفتار کرکے بند حوالات کردیاگیا۔



سہیل وڑائچ کی کتاب”یہ کمپنی نہیں چلے گی“مارکیٹ سے غائب

1 week ago


حکومت نے کتاب کے ٹائٹل کے حوالے سے احتجاج کیاتھا،مصنف کی ایم این این سے گفتگو

معروف صحافی اوراینکرسہیل وڑائچ کی شائع ہونے والی کتاب”یہ کمپنی نہیں چلے گی“کومارکیٹ سے اٹھا لیا گیا۔سرکاری اہلکاروں نے ان کی کتاب کومختلف دکانوں سے ضبط کرلیا۔

ایم این این سے گفتگوکرتے ہوئے سہیل وڑائچ کاکہناہے کہ ان کی کتاب کے ٹائٹل پرحکومت نے ان سے احتجاج کیاتھا۔حکومت کتاب کے ٹائٹل سے خوش نہیں ہے۔کتاب کے پبلشرکوتاحال کسی نے کچھ نہیں کہا۔سوشل میڈیاپراس واقعہ کے بعدمختلف حلقوں کی جانب سے حکومت پرشدیدتنقیدکی جارہی ہے جسے اظہاررائے پرقدغن کے مترادف قراردیاجارہے۔


ہیومن رائٹس کمیشن بھی پاکستان میں اظہاررائے کے حوالے سے تشویش کااظہارکرچکاہے۔ہیومن رائٹس کے مطابق پاکستان میں اظہاررائے کے مواقع کم ہوتے جارہے ہیں۔کہاگیاہے کہ گزشتہ دنوں اسلام آبادسے مطیع اللہ کااٹھایاجانا،اسدطورپرمقدمہ کااندراج اورکراچی میں بلال فاروقی کی گرفتاری اس کی مثالیں ہیں کہ اظہاررائے کوبرداشت نہیں کیاجارہااورصحافیوں کے لئے کام کرنے کے مواقع کومحدودکردیاگیاہے