عمران خان ایجنسیز نہیں ،اللہ کو جوابدہ ہیں:مریم نواز

2 weeks ago


اوپن بیلٹ کا معاملہ عدالت لے جاسکتے ہیں تو لاپتہ افراد کا مقدمہ بھی لے جایا جاسکتا ہے

مسلم لیگ (ن) کی نائب صدرمریم نواز نے کہا ہے کہ لاپتہ افراد کے اہلخانہ سردی میں کھلے آسمان تلے بیٹھے ہیں، اگر آپ سلیکٹڈ ہیں پھر بھی آپ کو عوام کا خیال رکھنا چاہئے۔

مریم نواز نے لاپتہ افراد کے لواحقین کی جانب سے ڈی چوک اسلام آباد پر لگائے گئے کیمپ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اقتدار سے پہلے بڑے بڑے بیانات دیئے جاتے ہیں، اقتدار کے بعد آپ اتنے مجبور ہوگئے ہیں کہ اپنا فرض بھول گئے، ایسے اقتدار میں نہ ہونا اچھا ہے، روز محشر کو یاد رکھیں، حکمرانوں کی پوچھ کچھ ہوگی، ریاست کا فرض ہے شہریوں کا تحفظ کرے۔

مریم نواز کا کہنا تھا اوپن بیلٹ کا معاملہ عدالت لے جاسکتے ہیں تو ان کا مقدمہ بھی لے جایا جاسکتا ہے، لاپتہ افراد میں بہت سے ایسے لوگ ہیں جو قصوروار نہیں، کیا انسان کی مجبوریاں وطن کے فرض سے بڑی ہوتی ہیں؟۔

ملک کے اداروں کی مجبوریاں ہوسکتی ہیں لیکن میں ان سے یہی کہتی ہوں کہ آپ کی بھی مائیں بہنیں اور اولادیں ہیں، خدا کے واسطے لاپتا افراد کے اہلِ خانہ کو یہ بتادیں کہ ان کے پیارے زندہ ہیں یا مر گئے۔

رہنما مسلم لیگ (ن) نے کہا یہ لوگ کچھ نہیں کریں گے رو دھو کر چپ ہوجائیں گے لیکن جو قیامت روز ان کے دل پر گزرتی ہے اسے تو قرار آئے گا۔انہوں نے کہا آپ کو جس طرح بھی اقتدار میں بٹھایا گیا ہے لیکن ریاست ماں کی طرح ہوتی ہے۔

  یہ آپ کا فرض ہے کہ اگر آپ ان کے پیاروں کو بازیاب نہیں کرسکتے تو آپ یہ تو کرسکتے ہیں کہ جن کے پیارے اس وقت ٹارچر سیلز میں ہیں انہیں بتادیں کہ ان کے پیارے کہاں ہیں ۔اس انسان کا غم کیا غم ہوگا جو روز صبح اٹھ کر اپنے پیاروں کا انتظار کرتے ہیں اور رات کو سوتے وقت ان کی آنکھیں منتظر رہتی ہیں۔

مریم نواز نے کہا اگر کسی بچے کو یہ معلوم نہ ہو کہ ہم یتیم ہیں یا ہمارے والد زندہ ہیں، جس ماں کو یہ معلوم نہ ہو کہ میرا بیٹا زندہ ہے یا مر گیا،کسی بیوی کو یہ پتہ نہ ہو کہ وہ بیوہ ہے یا اس کا شوہر زندہ ہے۔

رہنما مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ یہ اپنے گھروں میں باعزت طریقے سے رہنے والے افراد ہیں اور یہ اسلام آباد کی سڑکوں پر کھلے آسمان تلے بیٹھے ہیں، جہاں ان کا کوئی پرسان حال نہیں۔

مریم نواز نے کہا میں عمران خان کو یہ کہنا چاہتی ہوں کہ وزیراعظم ہاو¿س یہاں سے فاصلے پر نہیں شاید 5 منٹ کا راستہ ہے اور ان بچیوں نے مجھے بتایا کہ یہ ایک ہفتے سے یہاں موجود ہیں تو آپ نے ایجنسیز کو جواب نہیں دینا، آپ اللہ تعالیٰ کو جوابدہ ہیں، یہ 22 کروڑ عوام آپ کی ذمہ داری ہیں۔

شیئر کریں



یہ بھی پڑھیے


این اے 75 ضمنی انتخابات :الیکشن کمیشن کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج
سٹیٹ بینک کرنسی چوری معاملہ،49لاکھ روپے برآمد
این اے75سیالکوٹ کاضمنی الیکشن کالعدم قرار

احسان اللہ احسان کے فرارمیں چند فوجی ملوث تھے،ترجمان پاک فوج

1 week ago


ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جا چکی ، جلد میڈیا کے ساتھ شیئر کی جائے گی،میجرجنرل بابر

پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے کہا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان (ٹی ٹی پی) کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان کے فوج کی تحویل سے فرار ہونے میں چند فوجی افسران ملوث تھے،مکمل تحقیقات کے بعد ذمہ دار فوجی افسران کے خلاف کارروائی کی جا چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کارروائی سے متعلق پیش رفت جلد میڈیا کے ساتھ شیئر کی جائے گی،احسان اللہ احسان کودوبارہ گرفتاری کی کوششیں جاری ہیں۔فی الوقت علم نہیں احسان اللہ کہاں ہیں۔

انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) میجر جنرل بابر افتخار نے غیر ملکی میڈیا سے بات چیت میں کہا جس ٹوئٹراکائونٹ سے ملالہ کو دھمکی دی گئی وہ جعلی تھا۔

مسنگ پرسنز پر بننے والے کمیشن نے بہت پیشرفت کی ،6 ہزار سے زائد مقدمات میں سے 4 ہزار حل کئے جا چکے ہیں ،مسنگ پرسنز کا معاملہ جلد حل ہوگا۔

انہوں نے ہزارہ کان کنوں کے قتل کے حوالے سے بتایا کیچ میں ہزارہ کان کنوں کے قتل پرچند افراد کو حراست میں لیا ہے، یہ بہت اہم گرفتاریاں ہیں لیکن تفصیل نہیں دے سکتا۔

وزیرستان کے حوالے سے ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھاوزیرستان میں کارروائیوں پرشدت پسندوں کا ردعمل آ رہا ہے، وزیرستان میں کوئی منظم گروہ نہیں رہا۔

چھوٹے موٹے شدت پسند کارروائیاں کررہے ہیں اور اِن کا بھی جلد خاتمہ کردیا جائے گا۔

بھارت کی شدت پسندوں کو مدد کے حوالے سے پاک فوج کے ترجمان نے بتایابھارت پاکستان مخالف شدت پسندوں کی مدد کر رہا ہے اور پاکستان میں شدت پسندوں کی مدد افغانستان سے کی جا رہی ہے۔

بھارت شدت پسندوں کو اسلحہ، پیسے اور نئی ٹیکنالوجی دے رہا ہے، یہ بات بعید ازقیاس نہیں کہ یہ سب افغان انٹیلی جنس کے علم میں ہے۔

خیال رہے گزشتہ سال فروری میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ سرکاری تحویل سے فرار ہوگاہے۔

بعدازاں اس وقت کے وزیر داخلہ بریگیڈیئر (ر) اعجاز شاہ نے بھی تصدیق کی تھی۔



سیالکوٹ ضمنی الیکشن:14پولنگ سٹیشنزپردوبارہ انتخاب کی سفارش

1 week ago


متعلق ریٹرننگ آفیسر نے رپورٹ الیکشن کمیشن میں جمع کرادی

قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 75 سیالکوٹ میں ضمنی الیکشن سے متعلق ریٹرننگ آفیسر نے رپورٹ الیکشن کمیشن میں جمع کرادی۔

رپورٹ کے مطابق 23 پولنگ سٹیشنز کے نتائج میں تاخیر پر مسلم لیگ ن کی امیدوار نوشین افتخار نے درخواست دی اور پولنگ سٹیشنز کے نتائج کو حتمی نتائج میں شامل نہ کرنے کی استدعا کی۔

ریٹرننگ آفیسر نے نوشین افتخار سے کہا ن لیگ کے پولنگ ایجنٹس کو پریذائیڈنگ آفیسرز کی طرف سے دیئے گئے فارم 45 فراہم کئے جائیں۔ ن لیگی امیدوار نے 18 پولنگ سٹیشنز کے فارم 45 بھجوائے۔

فارم 45 کا تفصیلی جائزہ لینے پر لیگی امیدوار کے خدشات کی تصدیق ہوئی تاہم پی ٹی آئی امیدوار نے پریذائیڈنگ آفیسرز کے فارم 45 پر اظہار اطمینان کرتے ہوئے نتائج جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔

صوبائی الیکشن کمشنر کی ہدایات پر 20 پولنگ سٹیشنز کے پریذائیڈنگ آفیسرز کو تحقیقات کیلئے بلایا گیا تو 13 گمشدہ پریذائیڈنگ آفیسرز میں سے 8 نے اگلے روز پیش ہوکر بیان ریکارڈ کرایا کہ رات ساڑھے دس بجے تک ووٹوں کی گنتی کا عمل مکمل ہوا، دھند کے باعث پہنچنے میں تاخیر ہوئی جبکہ موبائل کی بیٹری ختم ہونے کے باعث وہ رابطہ نہ کر سکے۔

بادی النظر میں 14 پولنگ سٹیشنز پر پریذائیڈنگ آفیسرز نے نتائج میں ردوبدل کیا، شفافیت کو مدنظر رکھتے ہوئے الیکشن کمیشن این اے 75 کے 14 پولنگ سٹیشنز میں دوبارہ الیکشن کرائے اور تب تک الیکشن کمیشن این اے 75 کے نتائج کا اعلان نہ کرے۔



شمالی وزیرستان:نامعلوم افرادکی فائرنگ سے4خواتین قتل

1 week ago


خواتین کاتعلق این جی اوسے تھا،پولیس:این جی اوکی تردید

شمالی وزیرستان کے علاقے میرعلی میں نامعلوم افراد نے گاڑی پر فائرنگ کرکے 4 خواتین کوقتل کردیا۔

فائرنگ ایپی گائوں کے قریب این جی اوکی گاڑی پرکی گئی جس کے نتیجے میں 4 خواتین جاں بحق ہوئیں جکہ گاڑی کا ڈرائیور شدید زخمی ہوگیا۔

حملے کی اطلاع ملتے ہی ایف سی، سکیورٹی فورسز نے علاقے کی ناکہ بندی کرکے حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔

پولیس کے مطابق فائرنگ سے جاں بحق ہونے والی چاروں خواتین سماجی کارکن تھیں، لاشوں اور زخمی ڈرائیور کو تحصیل ہیڈکوارٹر ز ہسپتال میرعلی منتقل کردیا گیا ۔

چاروں خواتین مقامی تربیتی مرکز سے تعلق رکھتی ہیں جو مرکز کی جانب جا رہی تھی کہ انہیں راستے میں روک کر ٹارگٹ کیا گیا۔

عینی شاہدین کے مطابق حملہ آور خواتین کو قتل کرنے کے بعد ان کے شناختی کارڈز اور دیگر دستاویزات ساتھ لے گئے۔ پولیس کی جانب سے جاں بحق خواتین کا تعلق صباون این جی او سے بتایا گیا ہے تاہم این جی او نے خبر کی تردید کی ہے۔جاں بحق خواتین اور زخمی ڈرائیور کا تعلق خیبر پختونخوا کے علاقے بنوں سے ہے۔

ادھرشمالی وزیرستان کی تحصیل شیواہ کے گائوں ٹنڈی میں گزشتہ شب نامعلوم افرادنے ناکہ بندی کرکےایک گاڑی پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق ہوگیا۔

جاں بحق شخص کا نام ولی گل ولد یوسف بتایا جارہا ہے۔ فائرنگ کے بعد 8 افراد تاحال لاپتہ ہیں جن کے بارے میں خدشہ ہے کہ نامعلوم حملہ آورانہیں ساتھ لے گئے ہیں۔

لاپتہ افراد میں لوکل گورنمنٹ کا ایک آفیسر اور ایک وکیل بھی شامل ہیں۔ باقی مغویوں میں مقامی اور غیر مقامی افراد شامل ہیں۔ پولیس کے مطابق مغویوں کی بازیابی کیلئے پولیس اور سکیورٹی فورسز کا سرچ آپریشن جاری ہے۔