اپوزیشن لیڈرسندھ اسمبلی فردوس شمیم نقوی مستعفی

2 weeks ago


پی ٹی آئی رہنمانے وزیراعظم سمیت دیگروزراءپرشدیدتنقیدکی تھی

سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر فردوس شمیم نقوی مستعفی ہوگئے۔ان کاتعلق تحریک انصاف سے ہے اوروہ پی ٹی آئی کے ٹکٹ پررکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔یہ استعفیٰ انہوں نے پی ٹی آئی قیادت کی جانب سے طلب کئے جانے کے بعد دیا۔یادرہے چندروزقبل فردوس شمیم نقوی نے کراچی میں گیس بحران پر اپنی ہی حکومت پر شدید تنقید کی تھی اور ساتھ ہی وزیراعظم عمران خان سمیت دیگروزراءکوشرم بھی دلائی تھی کہ مسئلہ حل کریں۔


بعد ازاں فردوس شمیم نقوی نے اپنے بیان پرایک ٹوئٹ کے ذریعے معذرت بھی کی تھی لیکن پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت نے فردوس شمیم سے استعفیٰ طلب کیا۔ادھرگورنر سندھ عمران اسماعیل نے سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر فردوس شمیم نقوی کے استعفے کی تصدیق کردی ہے۔عمران اسماعیل کا کہنا ہے کہ فردوس شمیم نقوی نے استعفیٰ اسی روز معذرت کرنے کے بعد دے دیا تھا تاہم اس حوالے سے ابھی وزیر اعظم نے کوئی فیصلہ نہیں کیا۔

 

شیئر کریں



یہ بھی پڑھیے


بےروزگاری کاسونامی ریڈیوپاکستان سے ٹکراگیا
الیکشن چوری کے نتیجے میں ہمیں آدھا ملک گنوانا پڑا:کیپٹن صفدر
کیپٹن (ر) محمد صفدر کوعدالت نے ضمانت پر رہا کردیا

ٹک ٹاک کو پاکستان میں بحال کرنے کافیصلہ

1 day ago


کچھ دیر میں حکم نامہ جاری کریں گے:ترجمان پی ٹی اے

معروف چینی موبائل ایپ ٹک ٹاک کو پاکستان میں بحال کرنے کافیصلہ کرلیا گیا۔پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی(پی ٹی اے) ترجمان کے مطابق ٹک ٹاک نے مقامی قوانین پر عمل درآمد کرنے کی یقین دہانی کرادی ہے۔ترجمان پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ کچھ دیر میں حکم نامہ جاری کریں گے۔ ٹک ٹاک انتظامیہ نے غیراخلاقی مواد پر بھی قابو پانے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

ٹک ٹاک انتظامیہ غیراخلاقی و غیر مناسب مواد کی روک تھام کا میکانزم بنانے پر آمادہ ہے اور اس نے یقین دہانی کرائی ہے کہ غیراخلاقی موادکی مسلسل نگرانی اورایسے اکائونٹس معطل کرنےکامقامی نظام بنادیا ہے۔پی ٹی اے نے 9 اکتوبر کو ٹک ٹاک پر پابندی کا اعلان کیا تھا۔

 



پاکستان میں ٹک ٹاک پرپابندی لگ گئی

1 week ago


پابندی متنازع موادنہ ہٹانے پرلگائی گئی

پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے ٹک ٹاک کو نامناسب مواد نہ ہٹانے پر بند کردیا۔پی ٹی اے کے مطابق ٹک ٹاک دی گئی مدت کے دوران ایپلی کیشن سے متنازع مواد کو ہٹانے میں ناکام رہاجس وجہ سے ٹک ٹاک کو ملک میں بند کیاگیاہے۔


چینی ایپلی کیشن کی انتظامیہ کو بار بار متنازع اور نامناسب مواد ہٹانے کے لیے ہدایات جاری کی گئیں تاہم ایپ انتظامیہ ایسا کرنے میں ناکام رہی۔پی ٹی اے کے مطابق متنازع اور نامناسب مواد کو نہ ہٹائے جانے کی وجہ سے ٹک ٹاک پر 9 اکتوبر سے پابندی عائد کردی گئی۔یاد رہے پی ٹی اے گزشتہ چند ماہ سے ٹک ٹاک انتظامیہ کو متنازع اور نامناسب مواد کو ہٹانے سے متعلق احکامات جاری کرتی آ رہی تھی اور ایک موقع پر پی ٹی اے نے چند ایپس کو بند بھی کردیا تھا۔



سیاسی رہنماباباجان دیگرکی رہائی کیلئے ہنزہ میں دھرنا

1 week ago


مذکورہ افرادکوعدالت نے فسادات کے کیس میں قیدکی سزاسنارکھی ہے

گلگت بلتستان کی وادی ہنزہ میں دیاجانے والادھرناآج چوتھے روز میں داخل ہو گیا۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ وہ اس وقت تک احتجاج ختم نہیں کریں گے جب تک 2011 میں ’فسادات اور عوامی املاک کو نقصان پہنچانے‘ کے الزامات میں قیدسیاسی رہنما بابا جان اور ان کے 14 دیگر ساتھیوں کو رہا نہیں کیا جاتا۔


بابا جان اور دیگر کارکنوں کو2011 میں عطا آباد جھیل کے متاثرین کی جانب سے کئے گئے احتجاج کے دوران ہنگامہ آرائی کرنے کے الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا تھا اور بعدازاں عدالت نے گرفتار ہونے والے افراد کو 40 سال سے نوے سال قید بامشقت کی سزائیں سنائی تھیں۔


دھرنے کی ابتدا پیر کے روز ہوئی تھی۔ احتجاج اس لئے بھی اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ 15 نومبر کو عام انتخابات کا انعقاد ہونے جا رہا ہے جبکہ پاکستانی حکام کی جانب سے اس خطے کو صوبے کی حیثیت دینے کی تجویز کے حوالے سے خبریں بھی زیر گردش ہیں۔


یادرہے 2010 میں عطا آباد کے مقام پر لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے متعدد گائوں اور دیہات زیرِ آب آ گئے تھے۔ ان مقامی آبادیوں کی جگہ پر بعد میں عطا آباد جھیل وجود میں آ گئی تھی۔ سرکاری حکام کے مطابق عطا آباد جھیل کے وجود میں آنے سے لگ بھگ ایک ہزار گھرانے بے گھر ہوئے تھے۔


گلگت بلتستان کی حکومت نے ان بے گھر متاثرین کے لیے امدادی پیکج کا اعلان کیا تھا مگر ان میں سے کچھ متاثرین کا دعویٰ تھا کہ انھیں حکومت کی جانب سے اعلان کردہ امدادی پیکج موصول نہیں ہوا۔
حکومت کی جانب سے مطالبے پر توجہ نہ دینے کے باعث متاثرین نے اس وقت کے گلگت بلتستان کے وزیر اعلیٰ سید مہدی شاہ کی آمد پر شاہراہ قراقرم کو بلاک کیا تھا۔

رپورٹس کے مطابق 2011 میں ہونے والے احتجاج کے دوران مظاہرین اور پولیس کے درمیان تصادم ہواجس میں فائرنگ بھی ہوئی۔ پولیس کے مطابق مظاہرین کی اپنی فائرنگ سے احتجاج میں شریک ایک باپ اور بیٹا ہلاک ہوئے تاہم مظاہرین کا دعویٰ تھا کہ پولیس نے مظاہرین پر فائرنگ کی جس سے ہلاکتیں ہوئیں۔

سرکاری رپورٹس کے مطابق باپ بیٹا کی ہلاکت کے بعد وادی ہنزہ میں بڑے پیمانے پر ہنگامے پھوٹ پڑے تھے اور اس دوران عوامی املاک کو نذرِ آتش کیا گیا۔ ان مظاہروں کا اہتمام عوامی ورکر پارٹی کی اپیل پر کیا گیا جبکہ اس ’پرتشدد‘ احتجاج کی قیادت بابا جان اور ان کے 14 ساتھیوں نے کی تھی۔

مظاہروں کے بعد ہنزہ پولیس نے بابا جان اور ان کے ساتھیوں کو گرفتار کر کے دہشت گردی سمیت دیگر سنگین جرائم کی دفعات کے تحت مقدمات درج کیے۔ابتدائی طور پر یہ مقدمات دہشت گردی کی عدالت میں چلے۔ 2014 میں ملزمان میں سے پانچ افراد کو عدم ثبوت کی بنیاد پر بری جبکہ بابا جان سمیت دیگر کارکنوں کو 40 سال سے لے کر 60 سال قید بامشقت کی سزائیں سنائی گئی تھیں۔

عدالت سے ملنے والی سزا کے خلاف گلگت بلتستان کی چیف کورٹ میں اپیل دائر کی گئی تھی۔ 2015 کے آخر میں بابا جان سمیت تمام افراد کو بری کر دیا گیا تاہم حکومت نے چیف کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیلٹ کورٹ میں اپیل دائر کردی۔اپیلیٹ کورٹ نے دائر کردہ اپیلوں کی سماعت کرتے ہوئے حکومت کی اپیلوں کو قبول کیا اور تمام کے تمام پندرہ افراد کو مجرم قرار دے دیا۔اپیلٹ کورٹ کے فیصلے کے خلاف نظر ثانی کی اپیل 2016 سے زیر سماعت ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اپیلٹ کورٹ کا فورم مکمل نہیں ۔