پاکستان میں ٹک ٹاک پرپابندی لگ گئی

1 week ago


پابندی متنازع موادنہ ہٹانے پرلگائی گئی

پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے ٹک ٹاک کو نامناسب مواد نہ ہٹانے پر بند کردیا۔پی ٹی اے کے مطابق ٹک ٹاک دی گئی مدت کے دوران ایپلی کیشن سے متنازع مواد کو ہٹانے میں ناکام رہاجس وجہ سے ٹک ٹاک کو ملک میں بند کیاگیاہے۔


چینی ایپلی کیشن کی انتظامیہ کو بار بار متنازع اور نامناسب مواد ہٹانے کے لیے ہدایات جاری کی گئیں تاہم ایپ انتظامیہ ایسا کرنے میں ناکام رہی۔پی ٹی اے کے مطابق متنازع اور نامناسب مواد کو نہ ہٹائے جانے کی وجہ سے ٹک ٹاک پر 9 اکتوبر سے پابندی عائد کردی گئی۔یاد رہے پی ٹی اے گزشتہ چند ماہ سے ٹک ٹاک انتظامیہ کو متنازع اور نامناسب مواد کو ہٹانے سے متعلق احکامات جاری کرتی آ رہی تھی اور ایک موقع پر پی ٹی اے نے چند ایپس کو بند بھی کردیا تھا۔

شیئر کریں



یہ بھی پڑھیے


بےروزگاری کاسونامی ریڈیوپاکستان سے ٹکراگیا
الیکشن چوری کے نتیجے میں ہمیں آدھا ملک گنوانا پڑا:کیپٹن صفدر
کیپٹن (ر) محمد صفدر کوعدالت نے ضمانت پر رہا کردیا

ٹک ٹاک کو پاکستان میں بحال کرنے کافیصلہ

1 day ago


کچھ دیر میں حکم نامہ جاری کریں گے:ترجمان پی ٹی اے

معروف چینی موبائل ایپ ٹک ٹاک کو پاکستان میں بحال کرنے کافیصلہ کرلیا گیا۔پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی(پی ٹی اے) ترجمان کے مطابق ٹک ٹاک نے مقامی قوانین پر عمل درآمد کرنے کی یقین دہانی کرادی ہے۔ترجمان پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ کچھ دیر میں حکم نامہ جاری کریں گے۔ ٹک ٹاک انتظامیہ نے غیراخلاقی مواد پر بھی قابو پانے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

ٹک ٹاک انتظامیہ غیراخلاقی و غیر مناسب مواد کی روک تھام کا میکانزم بنانے پر آمادہ ہے اور اس نے یقین دہانی کرائی ہے کہ غیراخلاقی موادکی مسلسل نگرانی اورایسے اکائونٹس معطل کرنےکامقامی نظام بنادیا ہے۔پی ٹی اے نے 9 اکتوبر کو ٹک ٹاک پر پابندی کا اعلان کیا تھا۔

 



سیاسی رہنماباباجان دیگرکی رہائی کیلئے ہنزہ میں دھرنا

1 week ago


مذکورہ افرادکوعدالت نے فسادات کے کیس میں قیدکی سزاسنارکھی ہے

گلگت بلتستان کی وادی ہنزہ میں دیاجانے والادھرناآج چوتھے روز میں داخل ہو گیا۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ وہ اس وقت تک احتجاج ختم نہیں کریں گے جب تک 2011 میں ’فسادات اور عوامی املاک کو نقصان پہنچانے‘ کے الزامات میں قیدسیاسی رہنما بابا جان اور ان کے 14 دیگر ساتھیوں کو رہا نہیں کیا جاتا۔


بابا جان اور دیگر کارکنوں کو2011 میں عطا آباد جھیل کے متاثرین کی جانب سے کئے گئے احتجاج کے دوران ہنگامہ آرائی کرنے کے الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا تھا اور بعدازاں عدالت نے گرفتار ہونے والے افراد کو 40 سال سے نوے سال قید بامشقت کی سزائیں سنائی تھیں۔


دھرنے کی ابتدا پیر کے روز ہوئی تھی۔ احتجاج اس لئے بھی اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ 15 نومبر کو عام انتخابات کا انعقاد ہونے جا رہا ہے جبکہ پاکستانی حکام کی جانب سے اس خطے کو صوبے کی حیثیت دینے کی تجویز کے حوالے سے خبریں بھی زیر گردش ہیں۔


یادرہے 2010 میں عطا آباد کے مقام پر لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے متعدد گائوں اور دیہات زیرِ آب آ گئے تھے۔ ان مقامی آبادیوں کی جگہ پر بعد میں عطا آباد جھیل وجود میں آ گئی تھی۔ سرکاری حکام کے مطابق عطا آباد جھیل کے وجود میں آنے سے لگ بھگ ایک ہزار گھرانے بے گھر ہوئے تھے۔


گلگت بلتستان کی حکومت نے ان بے گھر متاثرین کے لیے امدادی پیکج کا اعلان کیا تھا مگر ان میں سے کچھ متاثرین کا دعویٰ تھا کہ انھیں حکومت کی جانب سے اعلان کردہ امدادی پیکج موصول نہیں ہوا۔
حکومت کی جانب سے مطالبے پر توجہ نہ دینے کے باعث متاثرین نے اس وقت کے گلگت بلتستان کے وزیر اعلیٰ سید مہدی شاہ کی آمد پر شاہراہ قراقرم کو بلاک کیا تھا۔

رپورٹس کے مطابق 2011 میں ہونے والے احتجاج کے دوران مظاہرین اور پولیس کے درمیان تصادم ہواجس میں فائرنگ بھی ہوئی۔ پولیس کے مطابق مظاہرین کی اپنی فائرنگ سے احتجاج میں شریک ایک باپ اور بیٹا ہلاک ہوئے تاہم مظاہرین کا دعویٰ تھا کہ پولیس نے مظاہرین پر فائرنگ کی جس سے ہلاکتیں ہوئیں۔

سرکاری رپورٹس کے مطابق باپ بیٹا کی ہلاکت کے بعد وادی ہنزہ میں بڑے پیمانے پر ہنگامے پھوٹ پڑے تھے اور اس دوران عوامی املاک کو نذرِ آتش کیا گیا۔ ان مظاہروں کا اہتمام عوامی ورکر پارٹی کی اپیل پر کیا گیا جبکہ اس ’پرتشدد‘ احتجاج کی قیادت بابا جان اور ان کے 14 ساتھیوں نے کی تھی۔

مظاہروں کے بعد ہنزہ پولیس نے بابا جان اور ان کے ساتھیوں کو گرفتار کر کے دہشت گردی سمیت دیگر سنگین جرائم کی دفعات کے تحت مقدمات درج کیے۔ابتدائی طور پر یہ مقدمات دہشت گردی کی عدالت میں چلے۔ 2014 میں ملزمان میں سے پانچ افراد کو عدم ثبوت کی بنیاد پر بری جبکہ بابا جان سمیت دیگر کارکنوں کو 40 سال سے لے کر 60 سال قید بامشقت کی سزائیں سنائی گئی تھیں۔

عدالت سے ملنے والی سزا کے خلاف گلگت بلتستان کی چیف کورٹ میں اپیل دائر کی گئی تھی۔ 2015 کے آخر میں بابا جان سمیت تمام افراد کو بری کر دیا گیا تاہم حکومت نے چیف کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیلٹ کورٹ میں اپیل دائر کردی۔اپیلیٹ کورٹ نے دائر کردہ اپیلوں کی سماعت کرتے ہوئے حکومت کی اپیلوں کو قبول کیا اور تمام کے تمام پندرہ افراد کو مجرم قرار دے دیا۔اپیلٹ کورٹ کے فیصلے کے خلاف نظر ثانی کی اپیل 2016 سے زیر سماعت ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اپیلٹ کورٹ کا فورم مکمل نہیں ۔



غداری کے مقدمات:لیگی قیادت،وکلاءتھانوں میں پہنچ گئے

1 week ago


حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ کہاں سے ملتا ہے میں اپلائی کروں گا:شاہدخاقان عباسی

غداری کے مقدموں پرلیگی قیادت تھانہ شاہدرہ پہنچ گئی۔رہنمائوں میں محمد زبیر، عطاءاللہ تارڑاور دیگر شامل تھے۔اس موقع پرمیڈیاسے گفتگوکرتے ہوئے محمدزبیرنے کہاعمران خان نے دوسابق وزرائے اعظم کے خلاف مقدمہ بنوایا۔عمران خان کا براہ راست حکم ہے کہ مقدمے بنائے جائیں ۔یہ سمجھتے ہیں ہم مقدمے سے ڈرتے ہیں۔

ہمارے آنے سے پہلے انویسٹی گیشن افسر ہی غائب ہوگیا۔نواز شریف نے پاکستان کے مسائل پر تقریر کی تھی۔ہم پر اداروں کے خلاف بات کرنے کا الزام لگایا جاتا ہے۔ہم خود آئے ہیں آپ کو گرفتارکرنا ہے تو گرفتار کرلیں ۔ہم ایس ایچ اویا عثمان بزدار پر الزام نہیں لگا رہے۔عثمان بزدار کو توعلم ہی نہیں پنجاب میں کیا ہو رہاہے۔


عطاءاللہ تارڑ نے کہادرخواست آنے پر فریقین کو بلا یاجاتاہے۔واحد مقدمہ ہے انچارج انویسٹی گیشن کا فون بند ہے۔مقدمے کا مدعی دو دن سے غائب ہے۔گرفتاری نہیں بنتی تو مقدمہ خارج کریں ۔فیصل واوڈا کہتے ہیں ان کا کیس واپس لیاجائے۔فیصل واوڈا کی دہری شہریت ہے بے نامی اثاثے ہیں ۔

ادھرگوجرانوالہ کے تھانہ سیٹلائٹ ٹاﺅن میں کیپٹن(ر)صفدراوردیگرلیگی قیادت کے خلاف ایس ایچ اوکی مدعیت میں درج بغاوت کے مقدموں پرگوجرنوالہ کی لیگی قیادت نے فیصلہ کیاہے کہ خودتھانے پیش نہیں ہوں گے،لیگی قیادت کے وکلاءتھانے میں پیش ہوئے اورپولیس حکام سے ملاقات کی۔

ادھراسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے سینئر نائب صدر شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ بتایا جائے حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ کہاں سے ملتا ہے تاکہ میں بھی حب الوطنی کے سرٹیفکیٹ کے لئے اپلائی کروں۔ جو غدار اور انڈین ایجنٹ کہہ رہے تھے وہ سارے غائب ہیں۔

کہا گیا کہ مقدمہ درج ہونے کا وزیراعظم کوپتہ ہی نہیں تھا، وہ ناراض ہوئے ہیں پرچہ کٹنے پر، وزیراعظم کو تو کچھ پتہ ہی نہیں ۔ یہ پہلے غداری کی سرٹیفکیٹ بانٹتے رہے، اب کہہ رہے ہیں کہ حکومت کا اس میں کوئی عمل دخل نہیں،غداری کا لیبل تو آپ نے لگا دیا ہے لیکن کوئی وزیر عوام کی تکلیف یا مشکل کی بات نہیں کرتا۔

میرا چیلنج ہے کہ غداری کا مقدمہ کھلی عدالت میں چلائیں، پاکستان کے عوام کو دکھائیں کون سے غدار ہیں۔وزیراعظم کو علم ہی نہیں کہ معیشت تباہ ہو گئی ہے، انہوں نے 2 سال میں اتنے قرضے لے لئے جو پچھلے 10 سال میں نہیں لئے گئے۔