وزارت داخلہ کی ملیشیازکی نگرانی کرنے کی ہدایت

1 month ago


ڈنڈے کی رجسٹریشن ہوتی ہے نہ لائسنس :مولانافضل الرحمن

وفاقی وزارت داخلہ نے صوبوں کو سیاسی اور مذہبی جماعتوں کی”ملیشیاز“ کے افعال کا جائزہ لینے کے لئے ضروری اقدامات کی ہدایت کردی۔

وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ بعض سیاسی اور مذہبی جماعتوں نے مسلح جتھے بنائے ہوئے ہیں جن کی وردیاں قانون نافذ کرنے والے اداروں جیسی ہیں۔ایسے جتھے بنانا غیرقانونی ہے جو ملک کے امیج کو عالمی سطح پرمتاثر کرتا ہے چنانچہ صوبائی حکومتیں فوری کارروائی کریں۔

وفاقی حکومت کے مطابق ایسے جتھوں کے خلاف اگر کارروائی نہ کی گئی تو سکیورٹی صورتحال مزید خراب ہوسکتی ہے۔سیکرٹری داخلہ یوسف نسیم کھوکھر کی جانب سے چاروں صوبوں سمیت گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے چیف سیکریٹریز کو مراسلہ ارسال کیا گیاہے۔

مراسلے میں کہاگیاہے کہ اس طرح کی تنظیمیں دیگر سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے لیے غلط مثال قائم کررہی ہیں اور دیگر جماعتیں بھی اس طرح کے افعال کرسکتی ہیں جس سے امن و عامہ کی صورتحال مزید پیچیدہ ہوسکتی ہے۔

مذکورہ بالا صورتحال کے تناظر میں تمام صوبائی حکومتوں سے درخواست کی جاتی ہے کہ اس خطرے کا فوری جائزہ لیں اور ان کے افعال اور مزید اس قسم کی ملیشیاز کی تشکیل پر نظر رکھیں اور اس سلسلے میں ضروری اقدامات اٹھائے جائیں۔

ساتھ ہی وفاقی حکومت کی جانب سے ضرورت پڑنے پر ہر قسم کی معاونت بھی فراہم کرنے کی یقین دہانی کروائی گئی۔ادھرجمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے وزارت داخلہ کے مراسلے کو بدنیتی پر مبنی قرار دے دیا۔


مولانا فضل الرحمان نے کہاہے کہ مراسلے کے الفاظ نئے نہیں ہیں۔عسکری ونگ اور رضاکار میں فرق ہوتا ہے، رضاکار انصارالاسلام کے ہیں جو جے یو آئی کا دستوری ونگ ہے، رضاکار الیکشن کمیشن سے رجسٹرڈ ہیں۔ رضاکاروں پر کبھی اعتراض نہیں کیا گیا، رضاکار جے یو آئی کے دستور کا حصہ ہیں۔


مولانا فضل الرحمان نے کہا ڈنڈے کی کوئی رجسٹریشن نہیں ہوتی، نہ لائسنس ہوتا ہے، ایسے مراسلے صرف سیاسی دبائو کے لئے ہوتے ہیں۔

شیئر کریں



یہ بھی پڑھیے


ضمنی انتخابات:پنجاب میں مسلم لیگ (ن)کے امیدوارفائنل
پی ڈی ایم کو راولپنڈی آنے پر چائے پانی پلائیں گے: میجرجنرل بابرافتخار
سینٹ انتخابات10فروری سے پہلےنہیں ہوسکتے

حکومت 31جنوری تک مستعفی ہوجائے:پی ڈی ایم کاانتباہ

1 month ago


یکم فروری کو لانگ مارچ کی تاریخ کا اعلان کردیا جائے گا:قیادت کااتفاق

اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) نے حکومت کو 31 جنوری تک مستعفی ہونے کی ڈیڈ لائن دے دی۔

جمعیت علماءاسلام(ف) اور پی ڈی ایم سربراہ مولانا فضل الرحمان کی زیرصدارت پی ڈی ایم کا سربراہی اجلاس ہوا جس میں اسمبلیوں سے استعفے دینے اور لانگ مارچ کرنے سے متعلق فیصلے کئے گئے۔

اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ 31 دسمبر تک ارکان قومی و صوبائی اسمبلی استعفے اپنی جماعت کے قائدین کو دے دیں گے۔ حکومت 31 جنوری تک مستعفی ہوجائے، اگر حکومت مستعفی نہ ہوئی تو یکم فروری کو لانگ مارچ کی تاریخ کا اعلان کردیا جائے گا۔

انہوں نے کہا ہم ان سے کوئی بات کرنے کو تیار نہیں، استعفوں اور اسمبلی تحلیل کے اعلان کے بعد کوئی تجویز آئے تو پی ڈی ایم فیصلہ کرے گی۔مولاناکا کہنا تھا کہ سٹیرنگ کمیٹی نے صوبوں کو لانگ مارچ کیلئے جو شیڈول دیئے ہیں وہ برقرار رہیں گے۔

عوام آج سے ہی لانگ مارچ کی تیاری شروع کردیں اور عہدیدار لانگ مارچ کی تیاریوں کی نگرانی کریں گے۔اس حکومت میں پاکستان کے دفاع کی صلاحیت نہیں۔

مریم نواز کا کہنا تھا پوری زندگی میں ایسا جلسہ میں نے نہیں دیکھا، مجھے کوئی کرسی نظر نہیں آئی،میں نے ارکان صوبائی اسمبلی سے گلہ کیاکہ جلسہ گاہ چھوٹی رکھی گئی، لوگوں کو جلسہ گاہ سے باہر سڑک پر کھڑا ہو کر خطاب سننا پڑا۔

انہوں نے کہا بہت افسوس کی بات ہے جس بات کا وجود ہی نہیں وہ بات چند چینلز نے چلائی، میں نے اپنی لاہور کی پارٹی اور ایم این ایز کی کاوش کو سراہا ہے۔لیگی نائب صدر کا کہنا تھاحکومتی ہتھکنڈوں کے باوجود لاہوریوں نے کسی بات کی پرواہ نہیں کی۔

ہم ابھی گھر سے نہیں نکلے تھے، پروپیگنڈاشروع کردیا گیا تھا، مجھے پکا پتہ ہے ادھر صف ماتم بچھی ہوئی ہے۔انہوں نے کہا ہم عوام کی عدالت میں جاچکے ، سلیکٹڈ اور سلیکٹرز کو پیچھے جانا ہوگا۔

پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا سب فیصلے ہم مل کر کریں گے اور پی ڈی ایم پلیٹ فارم سے کریں گے، اب مذاکرات کا وقت گزر چکا ، عمران کے استعفے کا وقت ہے۔



مینارپاکستان گریٹراقبال پارک کوپانی سے بھردیاگیا

1 month ago


جلسہ روکنے کےلئے ایساکیاگیا،ن لیگ،پودوں کوپانی دیناروٹین ہے،پارک انتظامیہ

مینارپاکستان لاہورگریٹراقبال پارک کوپانی سے بھردیاگیا۔13دسمبرکواپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ(پی ڈی ایم)نے اس جگہ پرجلسہ کرنے کااعلان کررکھاہے۔ایک ویڈیوسوشل میڈیاپروائرل ہورہی ہے جس میں دکھایاجارہاہے کہ پائپوں کے ساتھ پانی گراﺅنڈپر لگایا جارہاہے۔

ن لیگ کاکہناہے کہ یہ جلسہ کوروکنے کے لئے کیاجارہاہے۔بارش اورسردی کے موسم میں بھلاکون پودوں کوپانی لگاتاتھاجومرضی کرلیاجائے جلسہ ہوکررہے گا جبکہ پارک انتظامیہ کاکہناہے کہ پودوں کوپانی دینا روٹین کی بات ہے۔



نیب عدالت کے سابق جج ارشد ملک چل بسے

1 month ago


وہ دوہفتوں سے کورونامیں مبتلاتھے، نماز جنازہ مندرہ میں ادا کی جائے گی

نیب عدالت کے سابق جج اور نواز شریف کے خلاف کرپشن کیسز کا فیصلہ سنانے والے جج ارشد ملک چل بسے۔

ارشد ملک گذشتہ دو ہفتوں سے کورونا وائرس کا شکار ہونے کے بعد اسلام آباد کے نجی ہسپتال میں زیر علاج تھے، ڈاکٹرز نے آج صبح 10 بجے ارشد ملک کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے اہل خانہ کو آگاہ کیا۔مرحوم نے سوگواران میں بیوی اور چار بچے چھوڑے ہیں۔ارشد ملک کی نماز جنازہ مندرہ میں ادا کی جائے گی جبکہ تدفین بھی مندرہ کے گائوں میں ہوگی۔

جج ارشدملک نے سابق وزیراعظم نوازشریف کو 24 دسمبر 2018 کو العزیزیہ ریفرنس میں7سال قید اور جرمانے کی سزا سنائی تھی جبکہ فلیگ شپ ریفرنس میں بری کیا تھا۔عدالتی فیصلے کے بعد 6 جولائی 2019 کو مریم نواز ایک مبینہ آڈیو ویڈیو ٹیپ سامنے لائیں جس کے مطابق جج ارشد ملک نے دبائو میں آکر یہ سزا سنائی تاہم جج ارشد ملک نے ویڈیو کو جعلی قرار دیا تھا۔

اس بنیاد پر مریم نواز نے یہ مطالبہ بھی کیا تھاکہ چونکہ جج نے ویڈیو میں خود اعتراف کر لیا ہے لہٰذا نواز شریف کو سنائی جانے والی سزا کو کالعدم قرار دے کر انہیں رہا کیا جائے۔

بعدازاں سپریم کورٹ نے معاملے کا نوٹس لیا تھا اور ارشد ملک کو احتساب عدالت کے جج کے عہدے سے ہٹاکر او ایس ڈی بنایا گیا جبکہ سپریم کورٹ نے اس معاملے پر تفصیلی فیصلہ بھی جاری کیا تھا۔اس معاملے پر چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ محمد قاسم خان نے 7 رکنی انتظامی کمیٹی بنائی تھی جس نے انکوائری رپورٹ میں مس کنڈکٹ ثابت ہونے پر ارشد ملک کو ملازمت سے برطرف کر دیا تھا۔