انور جان کھیتران کے قتل کا مقدمہ صوبائی وزیر خوراک کیخلاف درج

2 weeks ago


انور جان صحافی نہیں ،قوم پرست پارٹی کے کارکن تھے،عبدالرحمان کھیتران

بلوچستان کے ضلع بارکھان میں سوشل میڈیا ایکٹوسٹ انور جان کھیتران کے قتل کا مقدمہ صوبائی وزیر خوراک و بہبود آبادی عبدالرحمان کھیتران کیخلاف لیویز تھانہ میں درج کرلیا گیا۔ مقدمے میں مقتول کے بھائی کا الزام ہے کہ صوبائی وزیر کے مظالم اور کرپشن کیخلاف سوشل میڈیا پر لکھنے پر انور کو قتل کیا گیا تاہم عبدالرحمان کھیتران نے واقعہ میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔ لیویز کے مطابق بارکھان میں صحافی انور جان کے قتل کا واقعہ 23 جولائی کی شام کو پیش آیا تھا، انہیں موٹر سائیکل پر گھر جاتے ہوئے ناہڑ کوٹ کے مقام پر نامعلوم افراد نے فائرنگ کا نشانہ بنایا۔ لیویز کا کہنا ہے کہ واقعے کا مقدمہ لیویز تھانہ ناہڑ کوٹ میں مقتول کے بھائی غلام سرور کی مدعیت میں درج کرلیا گیا ہے جس میں نادر خان اور آدم خان نامی افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔ مدعی کا دعویٰ ہے کہ واقعے میں ملوث دونوں افراد صوبائی وزیر عبدالرحمان کے محافظ ہیں، جس کی بنیاد پر مدعی غلام سرور نے مقدمے میں صوبائی وزیر عبدالرحمان کھیتران کو بھی نامزد کرتے ہوئے لیویز کو بیان دیا ہے کہ ان کے بھائی کے قتل کی وجہ صحافت بنی ہے، صوبائی وزیر نے انور کھیتران کو صحافت سے باز آنے کا کہا تھا۔ غلام سرور نے الزام لگایا کہ ہمیں شک نہیں بلکہ یقین ہے کہ انور جان کھیتران کا قتل صوبائی وزیر سردار عبدالرحمان کھیتران کے کہنے پر ان کے کارندوں نے کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دو تین ماہ قبل سردار عبدالرحمان کھیتران اور ان کے کارندوں نے ٹیلیفون کرکے سوشل میڈیا پر ان کیخلاف لکھنے پر انور کو دھمکیاں دی تھیں۔ وزیر خوراک و بہبود آبادی بلوچستان عبدالرحمان کھیتران نے الزامات کی تردید کردی۔ ان کا کہنا ہے کہ انور جان یا ان کے خاندان سے میری کوئی دشمنی تھی اور نہ ہی قتل کے اس واقعے سے میرا یا میرے کسی محافظ کا کوئی تعلق ہے۔ انور جان صحافی نہیں بلکہ ایک قوم پرست پارٹی کے کارکن تھے اور وہ سوشل میڈیا کو استعمال کرتے ہوئے بلیک میلنگ کرتے تھے۔

شیئر کریں



یہ بھی پڑھیے


ملک بھر کے تعلیمی ادارے 15 ستمبر سے کھولنے پراتفاق
جماعت اسلامی کی کشمیرریلی میں دھماکہ،7افرادزخمی
اے پی ایس انکوائری کمیشن رپورٹ، حکومت سے 4 ہفتوں میں جواب طلب

ڈاکٹرفیصل سلطان معاون خصوصی برائے صحت مقرر

5 days ago


وہ عمران خان کی حکومت میں صحت کی وزارت کے تیسرے وزیربنے ہیں

وزیراعظم عمران خان نے ڈاکٹرفیصل سلطان کومعاون خصوصی برائے صحت مقررکردیاہے۔ان کاعہدہ وفاقی وزیرکے برابرہوگا۔ڈاکٹرفیصل سلطان اس سے قبل نیشنل ہیلتھ ٹاسک فورس کے رکن اورشوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال کے چیف ایگزیکٹوافسرکے طورپرکام کررہے تھے۔ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ ڈاکٹرفیصل نے شوکت خانم میموریل کینسرہسپتال کے چیف ایگزیکٹوافسرکے استعفیٰ دیاہے کہ نہیں۔وزیراعظم عمران خان کے دوسالہ دورحکومت میں ڈاکٹرفیصل صحت کے تیسرے وفاقی وزیرہیں اس سے قبل عامرکیانی وزیرصحت مقررہوئے تھے اوران پرادویات کی قیمتوں میں اربوں روپے کی کرپشن کاالزام لگاتھاجس پروزیراعظم نے ان سے استعفیٰ لے لیااورانہیں تحریک انصاف کا سیکرٹری جنرل مقررکردیا۔ان کے بعدعالمی ادارہ صحت میں کام کرنے والے ڈاکٹرظفرمرزاکواحساس پروگرام کی سربراہ ثانیہ نشترکی سفارش پرمشیربرائے صحت مقررکیاتھا۔ان پربھی چندروزقبل کرپشن کے الزامات لگے جس پران سے استعفیٰ لے لیاگیاتھا۔اب وزیراعظم نے اپنے ہی ہسپتال کے سی ای او کو وفاقی وزیربرائے صحت کاعہدہ دے دیاہے۔یہ امرقابل ذکرہے کہ عمران خان مفادات کے ٹکراﺅکے سخت ناقدرہے ہیں مگراب انہوں نے ایک نجی ہسپتال جس کے وہ خودہی ٹرسٹی ہیں کے سی ای اوکووفاقی وزیرکاعہدہ دے دیاہے۔



پاکستان میں غذائی قلت، عالمی بنک نے چار سو ملین ڈالر کا قرض منظور کر لیا

1 week ago


دو سو ملین ڈالر سکولوں کے لئے دیئے گئے ہیں

عالمی بینک کے بورڈ أف ڈائریکٹرز نے پاکستان میں ٹڈی دل کے حملے کے باعث پیدا ہونے والی غذائی قلت کو کم کرنے اور کویڈ 19 کے باعث سکولوں کی بندش کی وجہ سے تعلیم کا سلسلہ جاری رکھنے کے لئے چالیس کروڑ ڈالر کا أسان قرضہ منظور کر لیا ہے۔ عالمی بینک کی پریس ریلیز کے مطابق اس قرضے میں دو سو ملین ڈالر غذائی قلت پر قابو پانے اور دو سو ملین ڈالر تعلیمی پروگرام کے لئے ہیں۔ پاکستان میں ورلڈ بینک کے کنٹری ڈائریکٹر الانگو پچماماتھو کا کہنا ہے کہ ٹڈی دل کے حملے اور کرونا کی وجہ سے پاکستان میں غذائی قلت اور تعلیمی اداروں کا چیلنجز کا سامنا ہے۔



کراچی میں اربن فلڈنگ،انتظامیہ کی مددکیلئے فوج طلب

1 week ago


وزیراعظم نے تعیناتی کی منظوری دی تھی

وفاقی کابینہ نے کراچی میں اربن فلڈنگ کے معاملے پر فوج کی خدمات لینے اور تعیناتی کی منظوری دے دی۔نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے فوج کی کراچی میں تعیناتی کے حوالے سے سمری وزیر اعظم کو پیش کی تھی۔کابینہ ڈویژن سے وزیر اعظم نے سرکولیشن کے ذریعے سمری کی منظوری کے احکامات جاری کئے۔ دوسری جانب پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ کراچی میں اربن فلڈنگ کی صورتحال بہتر بنانے میں سول انتظامیہ کی مدد کے لئے فوج کو طلب کرلیا گیا ہے۔