کوشش ہے انٹرا افغان ڈائیلاگ کو جلد آگے بڑھایا جائے،شاہ محمودقریشی

4 weeks ago


افغانستان کے مسئلے کا دیرپا حل” سیاسی“ ہے جو مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے،وزیرخارجہ
افغان طالبان نمائندہ وفد کے ساتھ ملاقات بہت سودمند رہی۔ہم اس بات پر متفق تھے کہ افغانستان کے مسئلے کا دیرپا حل” سیاسی حل“ ہے جو مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ اس بات کااظہاروزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے افغان امن عمل کو آگے بڑھانے کے حوالے سےاپنے ایک بیان میں کیا۔انہوں نے کہاکہ افغانستان میں امن اگر طاقت کے بل بوتے پر قائم ہونا ہوتا تو 41 سال کا عرصہ کوئی کم عرصہ نہیں تھا لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔افغانستان میں قیام امن کیلئے مذاکرات کا راستہ اختیار کرنے کے حوالے سے آج وزیر اعظم عمران خان کے نکتہ نظر کی تائید امریکہ، روس چین اور خطے کے اہم ممالک بھی کر رہے ہیں۔ ہماری گفتگو دوحہ میں ہونیوالے امن معاہدے پر عملدرآمد کے حوالے سے بھی ہوئی ہے۔افغان وفد نے دوحہ امن معاہدے پر عملدرآمد کے سلسلے میں درپیش مشکلات سے بھی آگاہ کیا۔دوحہ امن معاہدے پر عملدرآمد کے سلسلے میں پیش رفت بھی ہوئی ہے۔لوئیہ جرگہ کا انعقاد اس حوالے سے مثبت پیش رفت ہے جیسا کہ آپ کے علم میں ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے جناب عبداللہ عبداللہ سے ٹیلیفونک رابطہ کیا ہے اور انہیں دورہ پاکستان کی دعوت بھی دی ہے جو انہوں نے قبول کی۔پاکستان کی کوشش ہے کہ انٹرا افغان ڈائیلاگ کو جلد آگے بڑھایا جائے۔
شیئر کریں



یہ بھی پڑھیے


آصف زرداری کی تین ضمنی ریفرنس خارج کرنے کی استدعا مسترد
سانحہ بلدیہ فیکٹری : رحمان بھولا، زبیر چریا کو سزائے موت
نواز شریف کی پرانی میڈیکل رپورٹس جعلی نہیں،وزیرصحت پنجاب

پیپلزپارٹی کی اے پی سی کل،نوازشریف خطاب کریں گے

5 days ago


حکومت خطاب روکنے کے لئے متحرک،مجرم کاخطاب نشرہواتوپیمراسمیت دیگرآپشن استعمال ہوں گے،شہبازگل

پیپلزپارٹی کی میزبانی میں کل بروزاتوار20ستمبرکواسلام آبادمیں ہونے والی آل پارٹیزکانفرنس(اے پی سی )میں ن لیگ کا11رکنی وفدشرکت کرے گا۔وفدکی قیادت شہبازشریف کریں گے۔وفدمیں مریم نوازبھی شامل ہوں گی،وفدکے دیگرارکان میں شاہد خاقان عباسی،راناثنااللہ،احسن اقبال،سعدرفیق ،ایازصادق،خواجہ آصف ،مریم اورنگزیب و دیگر شامل ہوں گے۔


چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹونے نوازشریف کواجلاس میں ورچوئل شرکت کی دعوت دی ہے جسے نواز شریف نے بہترصحت سے مشروط کردیاہے۔آصف علی زرداری اجلاس سے ویڈیولنک کے ذریعے خطاب کریں گے۔اس کے ساتھ ہی پیپلزپارٹی نے اپوزیشن کی دیگرپارٹیوں سے رابطے تیزکرتے ہوئے دونکاتی ایجنڈا جاری کردیاجس میں دوسالہ حکومت کی کارکردگی اورمستقبل کی حکمت عملی پرغورکے بعدتمام جماعتیں حکومت کوٹف ٹائم دینے کے لئے تجویزدیں گی۔ایوان کے اندراورباہرکی حکمت عملی،جلسے جلوس،سڑکوں پراحتجاج،سپیکرکے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے سمیت دیگرآپشنز پرغورکیاجائے گا۔

ادھرمریم نوازنے کہاہے کہ نوازشریف کااے پی سی سے خطاب سوشل میڈیاپردکھانے کے لئے اقدامات کئے جارہے ہیں جس سے صاف ظاہرہورہاہے کہ نوازشریف اجلاس میں ضرورورچوئل شرکت کریں گے۔ادھرحکومتی ترجمان شہبازگل کاکہناہے کہ اگرمفرورمجرم نے اے پی سی سے خطاب کیااوروہ نشرہواتو پیمرا اوردیگرقانونی آپشن استعمال ہوں گے۔

گورنرپنجاب کہتے ہیں کہ اے پی سی سے حکومت کوکوئی خطرہ نہیں،مدت سے ایک منٹ پہلے بھی حکومت نہیں جائے گی۔



مبینہ زیادتی کوشش سے متاثرہ خاتون نے خودکشی کرلی

6 days ago


خودکشی پولیس کے نامناسب رویہ پرکی گئی:ملزم،متعلقہ پولیس اہلکارگرفتار

پولیس کی جانب سے مناسب دادرسی نہ ہونے پرمبینہ زیادتی کوشش سے متاثرہ خاتون نے خودکشی کرلی۔بہاولپورکے نواحی علاقہ موضع چیلے واہن میں مبینہ زیادتی کی کوشش کی متاثرہ خاتون ط بی بی نے دلبرداشتہ ہوکر زہر پی لیاجسے ہسپتال لے جایاگیامگروہ جانبرنہ ہوسکی۔واقعہ کے مطابق 16 ستمبر کو ملزم لقمان نے ط بی بی سے مبینہ زیادتی کی کوشش کی تھی۔ متوفیہ کی والدہ کی مدعیت میں تھانہ خیر پور ٹامیوالی پولیس نے مقدمہ درج کر لیا۔ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر محمد صہیب اشرف نے موقع کا وزٹ کیا اور لواحقین سے ملاقات کی۔ڈی پی او نے مدعیہ مقدمہ کو انصاف فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔


ادھر تھانہ خیر پور ٹامیوالی پولیس نے ڈی پی او کی ہدایت پر فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزم لقمان کو گرفتار کرلیا۔ مدعیہ کی مناسب دادرسی نہ کرنے پر ایس ایچ او انوارالحق ،تفتیشی آفیسر اے ایس آئی اشفاق اور محرر محمد صدیق کو بھی گرفتار کرکے بند حوالات کردیاگیا۔



سہیل وڑائچ کی کتاب”یہ کمپنی نہیں چلے گی“مارکیٹ سے غائب

1 week ago


حکومت نے کتاب کے ٹائٹل کے حوالے سے احتجاج کیاتھا،مصنف کی ایم این این سے گفتگو

معروف صحافی اوراینکرسہیل وڑائچ کی شائع ہونے والی کتاب”یہ کمپنی نہیں چلے گی“کومارکیٹ سے اٹھا لیا گیا۔سرکاری اہلکاروں نے ان کی کتاب کومختلف دکانوں سے ضبط کرلیا۔

ایم این این سے گفتگوکرتے ہوئے سہیل وڑائچ کاکہناہے کہ ان کی کتاب کے ٹائٹل پرحکومت نے ان سے احتجاج کیاتھا۔حکومت کتاب کے ٹائٹل سے خوش نہیں ہے۔کتاب کے پبلشرکوتاحال کسی نے کچھ نہیں کہا۔سوشل میڈیاپراس واقعہ کے بعدمختلف حلقوں کی جانب سے حکومت پرشدیدتنقیدکی جارہی ہے جسے اظہاررائے پرقدغن کے مترادف قراردیاجارہے۔


ہیومن رائٹس کمیشن بھی پاکستان میں اظہاررائے کے حوالے سے تشویش کااظہارکرچکاہے۔ہیومن رائٹس کے مطابق پاکستان میں اظہاررائے کے مواقع کم ہوتے جارہے ہیں۔کہاگیاہے کہ گزشتہ دنوں اسلام آبادسے مطیع اللہ کااٹھایاجانا،اسدطورپرمقدمہ کااندراج اورکراچی میں بلال فاروقی کی گرفتاری اس کی مثالیں ہیں کہ اظہاررائے کوبرداشت نہیں کیاجارہااورصحافیوں کے لئے کام کرنے کے مواقع کومحدودکردیاگیاہے