کراچی کے شہریوں کاڈی ایچ اے،سی بی سی کے خلاف احتجاج

3 weeks ago


سیلاب سے نجات کے نام پرجمع شدہ فنڈزکے آڈٹ کامطالبہ

کراچی میں ریکارڈ بارشوں کے 5 روز بعد بھی شہریوں کی پریشانی ختم نہ ہوسکی۔ شہر کے چند حصے اب تک زیر آب اور بجلی بند ہے۔عوام نے مایوس ہوکر ڈی ایچ اے اور کنٹونمنٹ بورڈکلفٹن (سی بی سی) کے دفتر کے باہر احتجاج کیا۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ علاقوں میں نکاسی آب کے نظام کو بہتر بنایا جائے اور سڑکیں دوبارہ تعمیر کی جائیں۔ انہوں نے سیلاب سے نجات کے نام پر جمع شدہ فنڈز کے آڈٹ کا بھی مطالبہ کیا اور بورڈ سے صفائی کے کام کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔ حکومت سندھ کے ترجمان مرتضیٰ وہاب نے بتایا ہے کہ صوبائی حکومت نے بخاری کمرشل سے بارش کا پانی نکالنے کے لیئے اپنی مشینیں خیابان محافظ اور خیابانِ شجاعت میں لگائی ہیں۔ہمیں ڈی ایچ اے کے نالوں کے حوالے سے مشکلات کا سامنا ہے تاہم ہم اپنی کوش کر رہے ہیں۔ دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز کا کہنا ہے کہ بارشوں کے باعث شہر قائد کے عوام ایک امتحان سے گزررہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری قوم کی ہمدردیاں ان کےساتھ ہیں، وفاقی حکومت اور اس سے منسلک اداروں کی جانب سے صوبائی حکومت کو ہر ممکن تعاون فراہم کیا جارہا ہے۔ کراچی کے چند علاقوں میں بارشوں کے بعد جہاں نکاسی کا عمل اب تک جاری ہے وہیں 5 روز سے غائب بجلی کی بحالی کے لئے کے الیکٹرک کی فیلڈ ٹیمیں اور آپریشنل عملے کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔ کے الیکٹرک کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق بحالی کے کام میں رکاوٹوں ، ڈی ایچ اے اور کلفٹن کے متعدد حصوں میں بارش کا پانی اب تک کے کھڑے ہونے کے باوجود کے الیکٹرک شہر کے 95 فیصد سے زائد حصے میں دوبارہ بجلی فراہم کرنے میں کامیاب رہی ہے۔ کے الیکٹرک کے ڈسٹری بیوشن ہیڈ حسن انیس نے نجی نشریاتی ادارے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ڈیفنس اور کلفٹن کے علاوہ کہیں پانی کھڑا ہونے کا اتنا مسئلہ پیدا نہیں ہوا اور کہیں بھی بجلی کے مسائل نہیں ۔ دوسری جانب رہائشیوں نے کنٹونمنٹ بورڈ کلفٹن اور ڈیفنس ہائوسنگ اتھارٹی کی مینجمنٹ کے خلاف احتجاج کا اعلان کر رکھا ہے۔

شیئر کریں



یہ بھی پڑھیے


آصف زرداری کی تین ضمنی ریفرنس خارج کرنے کی استدعا مسترد
سانحہ بلدیہ فیکٹری : رحمان بھولا، زبیر چریا کو سزائے موت
نواز شریف کی پرانی میڈیکل رپورٹس جعلی نہیں،وزیرصحت پنجاب

پیپلزپارٹی کی اے پی سی کل،نوازشریف خطاب کریں گے

5 days ago


حکومت خطاب روکنے کے لئے متحرک،مجرم کاخطاب نشرہواتوپیمراسمیت دیگرآپشن استعمال ہوں گے،شہبازگل

پیپلزپارٹی کی میزبانی میں کل بروزاتوار20ستمبرکواسلام آبادمیں ہونے والی آل پارٹیزکانفرنس(اے پی سی )میں ن لیگ کا11رکنی وفدشرکت کرے گا۔وفدکی قیادت شہبازشریف کریں گے۔وفدمیں مریم نوازبھی شامل ہوں گی،وفدکے دیگرارکان میں شاہد خاقان عباسی،راناثنااللہ،احسن اقبال،سعدرفیق ،ایازصادق،خواجہ آصف ،مریم اورنگزیب و دیگر شامل ہوں گے۔


چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹونے نوازشریف کواجلاس میں ورچوئل شرکت کی دعوت دی ہے جسے نواز شریف نے بہترصحت سے مشروط کردیاہے۔آصف علی زرداری اجلاس سے ویڈیولنک کے ذریعے خطاب کریں گے۔اس کے ساتھ ہی پیپلزپارٹی نے اپوزیشن کی دیگرپارٹیوں سے رابطے تیزکرتے ہوئے دونکاتی ایجنڈا جاری کردیاجس میں دوسالہ حکومت کی کارکردگی اورمستقبل کی حکمت عملی پرغورکے بعدتمام جماعتیں حکومت کوٹف ٹائم دینے کے لئے تجویزدیں گی۔ایوان کے اندراورباہرکی حکمت عملی،جلسے جلوس،سڑکوں پراحتجاج،سپیکرکے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے سمیت دیگرآپشنز پرغورکیاجائے گا۔

ادھرمریم نوازنے کہاہے کہ نوازشریف کااے پی سی سے خطاب سوشل میڈیاپردکھانے کے لئے اقدامات کئے جارہے ہیں جس سے صاف ظاہرہورہاہے کہ نوازشریف اجلاس میں ضرورورچوئل شرکت کریں گے۔ادھرحکومتی ترجمان شہبازگل کاکہناہے کہ اگرمفرورمجرم نے اے پی سی سے خطاب کیااوروہ نشرہواتو پیمرا اوردیگرقانونی آپشن استعمال ہوں گے۔

گورنرپنجاب کہتے ہیں کہ اے پی سی سے حکومت کوکوئی خطرہ نہیں،مدت سے ایک منٹ پہلے بھی حکومت نہیں جائے گی۔



مبینہ زیادتی کوشش سے متاثرہ خاتون نے خودکشی کرلی

6 days ago


خودکشی پولیس کے نامناسب رویہ پرکی گئی:ملزم،متعلقہ پولیس اہلکارگرفتار

پولیس کی جانب سے مناسب دادرسی نہ ہونے پرمبینہ زیادتی کوشش سے متاثرہ خاتون نے خودکشی کرلی۔بہاولپورکے نواحی علاقہ موضع چیلے واہن میں مبینہ زیادتی کی کوشش کی متاثرہ خاتون ط بی بی نے دلبرداشتہ ہوکر زہر پی لیاجسے ہسپتال لے جایاگیامگروہ جانبرنہ ہوسکی۔واقعہ کے مطابق 16 ستمبر کو ملزم لقمان نے ط بی بی سے مبینہ زیادتی کی کوشش کی تھی۔ متوفیہ کی والدہ کی مدعیت میں تھانہ خیر پور ٹامیوالی پولیس نے مقدمہ درج کر لیا۔ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر محمد صہیب اشرف نے موقع کا وزٹ کیا اور لواحقین سے ملاقات کی۔ڈی پی او نے مدعیہ مقدمہ کو انصاف فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔


ادھر تھانہ خیر پور ٹامیوالی پولیس نے ڈی پی او کی ہدایت پر فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزم لقمان کو گرفتار کرلیا۔ مدعیہ کی مناسب دادرسی نہ کرنے پر ایس ایچ او انوارالحق ،تفتیشی آفیسر اے ایس آئی اشفاق اور محرر محمد صدیق کو بھی گرفتار کرکے بند حوالات کردیاگیا۔



سہیل وڑائچ کی کتاب”یہ کمپنی نہیں چلے گی“مارکیٹ سے غائب

1 week ago


حکومت نے کتاب کے ٹائٹل کے حوالے سے احتجاج کیاتھا،مصنف کی ایم این این سے گفتگو

معروف صحافی اوراینکرسہیل وڑائچ کی شائع ہونے والی کتاب”یہ کمپنی نہیں چلے گی“کومارکیٹ سے اٹھا لیا گیا۔سرکاری اہلکاروں نے ان کی کتاب کومختلف دکانوں سے ضبط کرلیا۔

ایم این این سے گفتگوکرتے ہوئے سہیل وڑائچ کاکہناہے کہ ان کی کتاب کے ٹائٹل پرحکومت نے ان سے احتجاج کیاتھا۔حکومت کتاب کے ٹائٹل سے خوش نہیں ہے۔کتاب کے پبلشرکوتاحال کسی نے کچھ نہیں کہا۔سوشل میڈیاپراس واقعہ کے بعدمختلف حلقوں کی جانب سے حکومت پرشدیدتنقیدکی جارہی ہے جسے اظہاررائے پرقدغن کے مترادف قراردیاجارہے۔


ہیومن رائٹس کمیشن بھی پاکستان میں اظہاررائے کے حوالے سے تشویش کااظہارکرچکاہے۔ہیومن رائٹس کے مطابق پاکستان میں اظہاررائے کے مواقع کم ہوتے جارہے ہیں۔کہاگیاہے کہ گزشتہ دنوں اسلام آبادسے مطیع اللہ کااٹھایاجانا،اسدطورپرمقدمہ کااندراج اورکراچی میں بلال فاروقی کی گرفتاری اس کی مثالیں ہیں کہ اظہاررائے کوبرداشت نہیں کیاجارہااورصحافیوں کے لئے کام کرنے کے مواقع کومحدودکردیاگیاہے