انڈیا کا ہر شہری کشمیر میں غیرزرعی زمین خریدنے کا اہل قرار

3 weeks ago


عمر عبداللہ ، محبوبہ مفتی نے فیصلے کو عوام دشمن قرار دے دیا

انڈیا کی حکومت کا دعویٰ تھا کہ کشمیر کی نیم خودمختار حیثیت کو ختم کرنے اور ریاست کو وفاق میں مکمل طور پر ضم کرنے سے انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں خوشحالی، امن اور ترقیوں کا نیا دور شروع ہو جائے گا تاہم گذشتہ ایک سال سے کشمیر میں حکومتِ ہند کے اعلانات سے اضطراب پھیلتا رہا ہے۔


تازہ اعلان زمینوں کی خریداری سے متعلق کیا گیا اور پہلے سے موجود جائیداد سے متعلق قوانین میں ترمیم کر کے اب انڈیا کے ہر شہری کو کشمیر میں غیرزرعی زمین خریدنے کا اہل قرار دیا ہے تاہم حکومت زرعی زمینوں کو 'مفاد عامہ' کے لئے استعمال کرسکتی ہے۔اس سے قبل فوج کو یہ اختیار دیا گیا تھا کہ وہ کسی بھی علاقے یا قطعہ ارض کو 'سٹریٹجک' یعنی تذویراتی اہمیت کا حامل قرار دے کر اسے اپنے قبضے میں لے سکتی ہے۔


اس اعلان سے حالیہ دنوں میں ہندنوازسیاسی جماعتوں کی طرف سے فاروق عبداللہ کی سربراہی میں بنائے گئے ’پیپلز الائنس‘ نامی اتحاد کو شدید دھچکہ لگا ہے اور اس اتحاد کے دو کلیدی رہنمائوں، عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی نے اس فیصلے کو عوام دشمن قرار دیا ہے۔


عمرعبداللہ نے اسی حوالے سے اپنی ایک ٹویٹ میں کہا: ’نئی دہلی نے جموں کشمیر کو برائے فروخت رکھ دیا ہے اور حد یہ ہے کہ حکومت نے لداخ میں ہِل کونسل انتخابات کا انتظار کیا تاکہ لداخ کو بھی اب فار سیل قرار دیا جاسکے۔'کم و بیش ایسے ہی الفاظ کا استعمال کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا 'جموں کشمیر کو لوٹنے کے انتظامات کئے جا رہے ہیں تاکہ کشمیری عوام مزید بےاختیار اور بے دست و پا ہو جائے۔

'
دلچسپ بات ہے کہ اس اعلان کے چوبیس گھنٹے بعد ایک معروف اخبار اور انسانی حقوق کے لئے سرگرم بعض انجمنوں کے دفاتر پر نیشنل انوسٹگیشن ایجنسی یعنی این آئی اے کے اہلکاروں نے چھاپے مارے۔ این آئی اے ملک میں دہشت گردی کے لئے غیرملکی فنڈنگ کی روک تھام کے لئے بنائی گئی ہے جسے عدالتی اختیارات بھی حاصل ہیں۔

گذشتہ برس تک انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے حوالے سے آئین کے آرٹیکل 370 میں ایک شق تھی جس میں زمین خریدنے کے لیے 'کشمیر کا مستقل شہری' ہونا ایک لازمی شرط تھی تاہم اس آرٹیکل کے خاتمے کے بعد جو نیا قانون آیا ہے اس میں اس شق کو ہٹا دیا گیا ہے۔حکومت کا موقف رہا ہے آرٹیکل 370 نے کشمیر میں ترقی کی راہ کو مسدود کر رکھا تھا کیونکہ سرمایہ کار وہاں پانچ اگست سنہ 2019 سے قبل زمین نہیں خرید سکتے تھے۔


یہ انتظام اس خطے کی متنازع حیثیت کے علاوہ نسلی شناخت کے تحفظ کے پیش نظر کیے گئے تھے۔ اس طرح کے انتظامات کئی شمال مشرقی ریاستوں بھی ہیں جہاں دوسری ریاستوں کے لوگ زمین نہیں خرید سکتے ہیں تاکہ وہاں کی آبادی کا تناسب اور تشخص نہ بدلے۔یاد رہے کہ انڈیا کی حکومت کے اعلانات پر اکثر کشمیر اور جموں میں مختلف ردعمل سامنے آتا ہے تاہم لینڈ لاز یعنی جائیداد کے حوالے سے قوانین میں ترمیم کے اعلان پر جموں میں بھی ناراضگی پائی جاتی ہے۔


جموں میں کانگریس کے رہنما رویندر شرما نے کہا ہے کہ یہ اعلان ان یقین دہانیوں کو جھوٹ ثابت کرتا ہے جو انڈیا کی حکومت نے بارہا لوگوں کو دی ہیں۔جموں میں مقیم جموں کشمیر پینتھرز پارٹی کے سربراہ ہرش دیو سنگھ نے کہا: ’بی جے پی جموں کشمیر کو برائے فروخت رکھ رہی ہے۔‘ انہوں نے جموں کشمیر کی سبھی سیاسی جماعتوں کو متحد ہو کر اس فیصلے کی مزاحمت کرنے کی اپیل کی ہے۔
جموں کے ہی ایک اور سیاسی کارکن سنیل ڈمپل نے کہا کہ ’جموں کشمیر کی ریاستی حیثیت اور خودمختاری یہاں کے عوام کی نوکریوں اور جائیداد کی حفاظتی ڈھال ہے اور اسے واپس لانے کے لئے سب کو جدوجہد کرناہوگی۔

ادھر پونچھ اور راجوری پر مشتمل پیر پنچال وادی میں بھی اس فیصلے کے خلاف سخت برہمی پائی جاتی ہے۔ پیرپنچال کے سماجی کارکن سہیل ملک نے کہا ''یہ فیصلہ غیرآئینی عمل ہے اور اسے منسوخ کروانے کے لئے سبھی حلقوں کومزاحمت کرنی چاہیے''۔بی جے پی کے لیے نرم گوشہ رکھنے والی 'اپنی پارٹی' کے صدر الطاف بخاری نے کہا ہے کہ وہ شہریت کے قوانین میں مناسب اور عوام دوست تبدیلی کے لئے وہ جدوجہد کریں گے۔ قابل ذکر ہے 'اپنی پارٹی' نے نیشنل کانفرنس کے سرپرست فاروق عبداللہ کی سربراہی میں قائم ہوئے پیپلز الائنس میں شمولیت نہیں کی ہے۔

کشمیر میں زمین خریدنے کے حکومت ہند کے نوٹیفیکیشن کے بعد سوشل میڈیا پر اس بابت گہما گہمی نظر آئی ہے۔معروف صحافی اور سیاسی مبصر کنچن گپتا نے اس کا خیر مقدم کرتے ہوئے لکھا: 'اب کوئی بھی انڈین شہری انڈیا کی یونین ٹیریٹری جموں کشمیر میں زمین خرید سکتا ہے۔ نہرو کی آرٹیکل 370 کے روپ میں کی جانے والی تاریخی غلطی کو سات دہائیوں کے بعد بالآخر پوری طرح الٹ دیا گیا۔'

صحافی آرتی ٹیکو سنگھ نے وزارت داخلہ اور امت شاہ کو شاباشی دیتے ہوئے لکھا: جموں کشمیر اور لداخ کو سارے انڈیا کے لیے کھولنے پر شکریہ۔ اس سے سرمایہ کاری، مقابلہ، جاب اور فری مارکٹ کے ساتھ خوشحالی آئے گی۔ اس کا سب سے زیادہ فائدہ غریبوں اور کم زمین رکھنے والوں کو ہوگا۔ حکمراں طبقے کی جاگیرداری کا دور آج ختم ہوا۔'

دہلی یونیورسٹی میں استاد دیویکا متل نے اس پیش قدمی کو حملہ قرار دیا اور لکھا: 'کسی بھی انڈین شہری کو جموں کشمیر کے متنازع خطے میں زمین خریدنے کا حق دینے والا 'زمین کا قانون' ایک حملہ ہے۔ یہ فاسشٹ حکومت کا کام ہے جو بات چت، جمہوریت اور انسانی حقوق میں یقین نہیں رکھتی۔

'
کئی صارفین نے پوچھا کہ وہاں زمین کی کیا قیمت ہے جبکہ ایک صارف نے لکھا کہ جب بہار کے نوجوان روزگار کی بات کرتے ہیں تو انھیں کہا جاتا ہے کہ کشمیر میں زمین خریدنے کے قانون پر خوش ہوں۔ٹرانسپیرنسی ایکٹیوسٹ ساکیت گوکھلے نے لکھا: 'یوگی کی مقبولیت کا پتہ 2022 کے اترپردیش کے انتخابات میں ہوگا۔ لیکن صحیح معنوں میں یوگی بی جے پی کے لیے تمام ریاستوں کی انتخابی مہم میں سٹار کمپینر کے طور پر تباہی لائے ہیں۔ آج بہار کے نوجوان جب روزگار کی تلاش میں ہیں تو وہ انھیں کہہ رہے ہیں کہ وہ کشمیر میں زمین خرید سکتے ہیں اس بات پر خوش رہیں

(بشکریہ بی بی سی)

شیئر کریں



یہ بھی پڑھیے


کابل میں دھماکہ،فائرنگ،25افرادہلاک،درجنوں زخمی
انڈیا کا ہر شہری کشمیر میں غیرزرعی زمین خریدنے کا اہل قرار
امریکہ اورانڈیاکے درمیان دفاعی معاہدے پر دستخط

بدتمیزی کیوں کی،خاتون نے ٹریفک اہلکارکوپیٹ ڈالا

4 weeks ago


گریبان پکڑکرتھپڑوں کی بارش،عوام کی بڑی تعدادموجود

انڈیامیں خاتون نے بدتمیزی کرنے والے ٹریفک پولیس اہلکار کی مجمعے میں درگت بنا دی۔مشہوربھارتی اخبار کے سوشل میڈیا اکائونٹ پر ڈالی گئی ویڈیو میں دکھایاگیا ہے کہ خاتون کی جانب سے ایک اہلکار کو پیٹنے کی ویڈیو بہت وائرل ہو رہی ہے۔


وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ نیلے لباس میں ملبوس خاتون نے ٹریفک اہلکار کو گریبان سے پکڑ رکھا ہے اور اس پر تھپڑبرسا رہی ہے۔ خاتون کے ہاتھوں اہلکار کی درگت بنائے جانے کے دوران ایک اور پولیس اہلکار بھی ساتھ کھڑا ہے جبکہ عوام کی بھی بڑی تعداد موجودہے۔کہاجارہاہے کہ ٹریفک اہلکارکو بدتمیزی کرنے اور گالیاں دینے پر خاتون کی جانب سے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔



بڑھتا تشددافغان امن مذاکرات کے عمل کو نقصان پہنچا سکتا ہے،زلمے خلیل زاد

1 month ago


آہستہ آہستہ تشدد کم کرنے کے عزم کو نظرانداز نہیں کرنا چاہئے

امریکا کے نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد نے کہاہے کہ افغانستان میں حد سے زیادہ بڑھتا تشدد افغان حکومت اور طالبان کے درمیان جاری امن مذاکرات کے عمل کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔واشنگٹن میں انہوں نے بیان دیاکہ خلاف ورزیوں کے بے بنیادالزامات اور اشتعال انگیز بیانات امن کو فروغ نہیں دیتے۔ڈان رپورٹ کے مطابق ان کاکہناتھاکہ اس کے برعکس ہمیں امریکا،افغانستان اور امریکا،طالبان مشترکہ معاہدوں کے تمام آرٹیکل پرسختی سے عمل پیرا ہونا چاہئے اور آہستہ آہستہ تشدد کو کم کرنے کے عزم کو نظرانداز نہیں کرنا چاہئے۔


واضح رہے زلمے خلیل زادٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے افغان امن عمل میں امریکا کے نمائندہ خصوصی ہیں اور انہوں نے رواں سال امریکا اور طالبان کے امن معاہدے اور مشترکہ اعلامیے میں اہم کردار ادا کیا۔نمائندہ خصوصی نے گزشتہ ماہ قطر میں طالبان اور افغان حکومت کے درمیان مذاکرات کے آغاز کی حوصلہ افزائی بھی کی لیکن یہ شریعی تشریحات کے باعث دب گئیں۔زلمے خلیل زاد کا یہ بیان جنوبی افغانستان میں طویل عرصے تک طالبان کے مضبوط گڑھ رہنے والے ہلمند میں ہونے والی لڑائی کے بعد سامنے آئے۔


واضح رہے جمعہ کو طالبان نے امریکا کی جانب سے علاقے میں فضائی حملے روکنے کی بنیاد پر اپنے حملے روکنے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔امریکی نمائندہ خصوصی نے دونوں فریقین کو یاد دلایا کہ بڑھتا تشدد امن عمل خطرہ ہوسکتا ہے جبکہ معاہدے اور بنیادی سمجھوتے کے مطابق تنازع کا کوئی فوجی حل نہیں۔



بین الافغان امن مذاکرات تمام طالبان قیدیوں کی رہائی سے مشروط

2 months ago


کابل حکومت سے مذاکرات کرنے والی ٹیم بااختیارہے:طالبان
افغان طالبان نے کہا ہے کہ بین الافغان مذاکرات کے لئے فیصلہ سازی کا کلی اختیار 21 رکنی مذاکراتی ٹیم کو دیا گیا ہے جبکہ کابل حکومت کی مذاکراتی ٹیم کے پاس یہ اختیار نہیں۔ افغان طالبان کے سربراہ ملا ہیبت اللہ اخونزادہ نے رواں ہفتے ہی شیر محمد عباس استنکزئی کی سربراہی میں 21 رکنی مذاکراتی ٹیم تشکیل دی ہے جس میں افغان طالبان کی رہبر شوریٰ کے 13 ارکان بھی شامل ہیں ۔ افغان طالبان کا کہنا ہے کہ مرکزی رہبر شوریٰ سے 65 فی صد اراکین کو مذاکراتی ٹیم کا حصہ بنانے کا مقصد ٹیم کو بااختیار بنانا ہے تاکہ امن مذاکرات درست سمت میں آگے بڑھ سکیں۔ وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے مذاکراتی ٹیم کے سربراہ شیر محمد عباس استنکزئی نے بتایا کہ طالبان قیادت نے اس مذاکراتی ٹیم کو تمام معاملات کو اپنے طور پر حل کرنے کا اختیار دیا ہے تاکہ امن کی راہ میں کسی قسم کی کوئی تاخیر نہ ہو۔ ان کے بقول طالبان کے برعکس کابل حکومت کی جانب سے بنائی گئی مذاکراتی کمیٹی بات چیت کے بعد اپنی تمام سفارشات حکومت کے سامنے رکھے گی تاہم طالبان کی ٹیم مذاکرات کی میز پر ہی تمام فیصلہ سازی کا اختیار رکھتی ہے۔ یاد رہے کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں بھی طالبان وفد کی سربراہی شیر عباس استنکزئی نے کی تھی۔ ان کے مطابق امن مذاکرات کا عمل مکمل ہونے کے بعد وہ پیشرفت سے طالبان چیف ملا ہیبت اللہ کو آگاہ کریں گے۔ طالبان کی ٹیم ملا ہیبت اللہ کے علاوہ کسی کو بھی جواب دہ نہیں ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس ٹیم کا اختیار بین الافغان امن مذاکرات، امریکہ کے ساتھ امن معاہدے پر عمل درآمد، قیدیوں کی رہائی اور تمام امور پر بات چیت ہے۔ عباس استنکزئی نے بتایا کہ مذاکراتی ٹیم کے نمائندگان میں شیخ عبدالحکیم بھی شامل ہیں جو اس وقت طالبان تحریک میں بطور چیف جسٹس کام کر رہے ہیں۔ ان کے بقول مولوی عبدالکبیر، مولوی نور محمد ثاقب، ملا محمد زاہد احمد زئی، ملا شرین اخوند، ملا عبدالطیف منصور ، قاری دین محمد، ملا عبدالسلام حنفی، ملا عبدالمنان عمری، شیخ محمد قاسم ترکمن، ملا محمد فاضل مظلوم، ملا نور اللہ نوری، ملا عبدالحق وسیق، مولوی مطیع الحق خالص، انس حقانی، ملا محمد نبی عمری، محمد سہیل شاہین، ملا خیر اللہ خیرخوا، مولوی شہاب الدین اور مولوی فرید ہی بین الافغان مذاکراتی ٹیم میں شامل ہیں۔ یاد رہے کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان رواں برس فروری میں قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امن معاہدہ طے پایا تھا۔ اس معاہدے کے تحت طالبان اور کابل حکومت کے درمیان بین الافغان مذاکرات مارچ میں شروع ہونا تھے لیکن قیدیوں کے تبادلے پر ڈیڈلاک کے باعث اب تک یہ مذاکرات شروع نہیں ہو سکے ہیں۔ طالبان مذاکراتی ٹیم کے سربراہ نے بتایا کہ امن معاہدے کے تحت طالبان نے افغان حکومت کے تمام ایک ہزار قیدی رہا کر دیے ہیں جب کہ کابل انتظامیہ نے طالبان کی جانب سے پانچ ہزار قیدیوں کی فہرست کے مطابق اب تک صرف 4680 طالبان رہا کیے ہیں۔ عباس استنکزئی کے مطابق امن معاہدے کی رو سے اگر 10 مارچ تک قیدیوں کی رہائی کا عمل مکمل ہو جاتا تو اب تک بہت سے دو طرفہ مسائل حل ہو چکے ہوتے۔ انہوں نے کہا کہ طالبان قیادت جلد از جلد بین الافغان امن مذاکرات شروع کرنے کی خواہش مند ہے تاکہ افغانستان میں جنگ کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہو سکے اور ایسی اسلامی حکومت قائم کی جائے جو افغانستان کی اکثریت کے لیے قابلِ قبول ہو۔ افغان صدر اشرف غنی نے سنگین جرائم میں ملوث طالبان قیدیوں کی رہائی پر لویا جرگہ بلوایا تھا جس میں مشترکہ طور پر تمام طالبان قیدیوں کی رہائی کی منظوری دی گئی تھی تاہم اس کے باوجود باقی ماندہ قیدیوں کی رہائی تاخیر کا شکار ہے۔ دوسری جانب فرانس اور آسٹریلیا نے بعض طالبان قیدیوں کی رہائی پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔ مذکورہ ملکوں کا کہنا تھا کہ یہ قیدی افغانستان میں تعینات ان کے اہلکاروں پر حملوں میں ملوث تھے۔ عباس استنکزئی نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جن افراد نے آسٹریلوی اور فرانسیسی فوجیوں کو مارا ہے وہ طالبان تحریک کا حصہ نہیں تھے۔ ان کے بقول وہ یا تو افغان نیشنل آرمی یا پولیس کا حصہ تھے، لیکن چونکہ وہ افغانستان کے شہری ہیں اس لیے طالبان ان کی حمایت کرتے ہیں۔ افغان طالبان کے رہنما نے بتایا کہ طالبان نے امن معاہدے سے دو ماہ قبل 5000 طالبان قیدیوں کی فہرست امریکہ کو دی تھی اور امریکہ کی تصدیق کے بعد انہوں نے وہی فہرست افغان حکومت کے ساتھ شیئر کی اور انھوں نے بھی اس کی تائید کی۔ ان کے مطابق قیدیوں کی رہائی کے معاملے پر امریکہ یا افغان حکومت سے کوئی اختلاف نہیں تھا اور اسی لیے امن معاہدے میں بین الافغان امن مذاکرات کی تاریخ 10 مارچ مقرر کی گئی تھی۔ امن معاہدے کے مطابق مذاکرت سے قبل افغان حکومت کو تمام قیدیوں کو رہا کرنا تھا۔استنکزئی نے بین الافغان امن مذاکرات کو اپنے تمام قیدیوں کی رہائی سے مشروط قرار دیا ہے۔ افغانستان کی قومی سلامتی کونسل میں ڈائریکٹر برائے امن اور شہریوں کے تحفظ کے عہدے پر فائز سید انتظار خادم کے مطابق جن چھ طالبان کی رہائی پر فرانس اور آسٹریلیا کی حکومتیں اعتراض کر رہیں ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا کیوں کہ جو چار ہزار سے زائد قیدی افغان حکومت نے رہا کیے ہیں وہ بھی افغانستان کی لڑائی میں ملوث تھے۔ ان کی رہائی پر تو فرانس اور آسٹریلیا نے اعتراض نہیں کیا۔انہوں نے کہا کہ ان افراد کی رہائی میں رکاوٹ امن عمل کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ انتظار خادم نے مزید بتایا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ یہ دونوں حکومتیں اپنے اعتراضات پر غور کریں تاکہ افغانستان میں امن کے حوالے سے ایک نئے باب کی شروعات ہو سکے۔ دوسری جانب افغان حکومت نے چند ماہ قبل ہی اپنی مذاکراتی ٹیم کا اعلان کیا تھا۔سید انتظار خادم کے مطابق بین الافغان امن مذاکرات کے لیے افغانستان نے تمام فریقوں کے اتفاق رائے سے 21 رکنی ٹیم نامزد کی ہے۔ جس کی سربراہی افغانستان کے انٹیلی جنس کے سابق سربراہ محمد معصوم استنکزئی کریں گے۔انتظار خادم کے مطابق یہ ایک جامع ٹیم ہے اور ہر طرح کی صلاحیت رکھتی ہے۔ انہوں نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ امن مذاکرات شروع کرنے اور منطقی انجام پر پہنچنے میں وقت ضرور لگے گا کیوں کہ جنگ کو صلح میں تبدیل کرنا، لوگوں کے ہاتھوں سے بندوق لے کر انہیں قلم کی طرف راغب کرنا، لوگوں کے ذہنوں میں دشمنی کے بجائے محبت کا درس دینا ہے۔ اس کے لیے یقیناً وقت لگے گا۔ انہوں نے کہا کہ افغان حکومت کی یہ کوشش ہوگی کہ یہ کام اگر ہفتوں میں نہ سہی تو مہینوں میں ضرور ہو جائے کیوں کہ اس عمل میں جتنی تاخیر ہو گی امن کے مخالفین اس سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں گے۔ انتظار خادم کے مطابق افغان حکومت کی کوشش ہے کہ امن مذاکرات جلد سے جلد منطقی انجام تک پہنچائے جائیں کیوں کہ افغان عوام نے بہت زیادہ تشدد دیکھ لیا ہے اور اب انہیں امن دیکھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ افغان حکومت امریکہ اور طالبان کے درمیان ہونے والے امن معاہدے کا حصہ نہیں تھی۔ اگر دیکھا جائے تو ان کے درمیان بھی مذاکرات کئی مہینوں تک جاری رہے تھے۔ حالانکہ طالبان اور امریکہ کے درمیان زیادہ پیچیدہ معاملات نہیں تھے۔ ان کے بقول افغان حکومت کے طالبان کے ساتھ حکومتی مسائل، حکومتی نظام، حکومت میں شراکت داری، بنیادی حقوق، اسلامی حکومت کا طریقہ کار اور جمہوریت سمیت مختلف مسائل پر بات چیت ہو گی۔ طالبان قیدیوں کی رہائی میں تاخیر سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ ایک دن میں تمام قیدیوں کی رہائی ممکن نہ تھی کیونکہ افغانستان میں قانونی حکومت ہے اور قیدیوں کی رہائی کے لیے کچھ طریقہ کار اور ضابطے ہوتے ہیں جن کے تحت انہیں رہا کیا جا رہا ہے۔ سید انتظار خادم نے کہا کہ اگر صدیوں جنگ لڑی جائے تو بھی حل کے لیے مذاکرات کی میز پر لازمی آنا ہوتا ہے اور اس سے قبل کہ افغانستان کی تمام عورتیں بیوہ ہو جائیں، جلد از جلد بین الافغان امن کے بامعنی اور نتیجہ خیز مذاکرات شروع کرنے چاہئیں۔