امریکہ اورانڈیاکے درمیان دفاعی معاہدے پر دستخط

3 weeks ago


فوجی معاہدے پر دستخط دہلی میں منگل کے روز اعلیٰ سطحی مذاکرات کے بعد کئے گئے

امریکہ اورانڈیانے منگل کے روز حساس سیٹلائیٹ ڈیٹا کی فراہمی کے حوالے سے ایک دفاعی معاہدے پر دستخط کر دئیے ہیں۔ یہ معاہدہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب انڈیا کا چین کے ساتھ سرحدی تنازع زوروں پر ہے۔اس حساس ڈیٹا کی مدد سے انڈیا اس قابل ہو جائے گا کہ وہ میزائلوں، ڈرونز اور دیگر اہداف کو درست اور بالکل ٹھیک ٹھیک انداز سے نشانہ بنے سکے گا۔اس فوجی معاہدے پر دستخط دہلی میں منگل کے روز ہونے والے اعلیٰ سطحی مذاکرات کے بعد کئے گئے ہیں۔


عسکری ماہرین کا ماننا ہے کہ انڈیا اور امریکہ کے درمیان بڑھتے تعلقات اس خطے میں چین کے اثر و رسوخ کو کم کرنے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔بی بی سی کے مطابق اس معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو اور وزیر دفاع مارک ایسپر ان دنوں انڈیا کے دورے پر ہیں۔اس معاہدے کے بعد انڈیا کے وزیر خارجہ جئے شنکر نے کہا ہے کہ گذشتہ دو دہائیوں کے دوران ہمارے (انڈیا اور امریکہ کے) باہمی تعلقات معنی خیز انداز میں آگے بڑھے ہیں۔

حالیہ دنوں میں امریکی عہدیداروں سے ہونے والی بات چیت دونوں ممالک کو قومی سلامتی کے معاملات پر زیادہ تیزی سے نزدیک لائے گی۔اس رپورٹ میں آگے چل کر ہم انڈیا اور امریکہ کے تعلقات میں حالیہ گرمجوشی کا جائزہ لیں گے اور یہ جاننے کی کوشش کریں گے ان تعلقات کی بنیاد پر چین کی مشکلات میں کس حد تک اضافہ ہو سکتا ہے۔جنرل مارٹن ڈیمپسی نے 2014 میں امریکی چیف آف سٹاف کے عہدے سے سبکدوشی سے قبل چین کے بارے میں ایک پتے کی بات کہی تھی۔


انھوں نے کہا تھا کہ ’امریکہ جلد ہی کھل کر چین کا سامنا کرنے پر مجبور ہو سکتا ہے، جس طرح سرد جنگ کے دوران اسے سوویت یونین کا سامنا کرنا پڑا تھا۔‘ ان کی باتیں آج درست ثابت ہوتی نظر آ رہی ہیں۔جنرل ڈیمپسی نے یہ بات 2012 میں اوبامہ انتظامیہ کی مشرقی ایشیا کو ترجیح دینے کی خارجہ پالیسی کے تناظر میں کہی تھی۔اس میں کوئی شک نہیں کہ فی الوقت امریکہ کا سب سے بڑا مسئلہ چین ہے اور دونوں ممالک کے درمیان سنہ 2018 کے وسط سے ’ٹیرف وار‘ یعنی تجارتی جنگ جاری ہے۔


دونوں ممالک کے مابین تعلقات اس حد تک خراب ہو چکے ہیں کہ تجزیہ کار اس کا موازنہ سرد جنگ کے دنوں سے کرنے لگے ہیں۔مشرقی ایشیا کو ترجیح دینے کی امریکی خارجہ پالیسی چین کی بڑھتی ہوئی طاقت کو روکنے کے لیے بنائی گئی تھی۔ اس کے تحت نئے کثیرالجہتی اتحادوں کے ساتھ باہمی تعلقات کو مستحکم کرنے کے منصوبے تیار کیے گئے تھے۔اس وقت کی امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے امریکہ کی ’خطے میں وسیع تر فوجی موجودگی‘ کی وکالت کی تھی۔


اس وقت سے امریکہ انڈیا سمیت ایشیا کے بہت سے ممالک کو چین کے خلاف اپنے فوجی اتحاد میں شامل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ایسا نہیں ہے کہ امریکہ کی کوشش صرف انڈیا کو اپنے اتحاد میں شامل کرنا ہے بلکہ وہ دوسرے ممالک کو بھی اپنی اس مہم میں شامل کرنے کی کوششوں میں مصروف عمل رہا ہے۔البتہ یہ بات ضرور ہے کہ وائٹ ہاو¿س نے چین کو روکنے میں مدد دینے کے لیے انڈیا کو اس خطے میں سب سے اہم ملک سمجھا ہے۔


انڈیا اور تین دیگر ممالک کے حالیہ دورے پر روانگی سے قبل امریکہ کے وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے کہا تھا کہ ’مجھے یقین ہے کہ میری ملاقاتوں میں اس بات پر بھی تبادلہ خیال ہو گا کہ کس طرح آزاد ریاستیں چینی کمیونسٹ پارٹی سے پیدا ہونے والے خطرات کو ناکام بنانے کے لیے مل کر کام کر سکتی ہیں۔‘امریکہ کے وزیر خارجہ فی الحال انڈیا میں ہیں جس کے بعد وہ سری لنکا، مالدیپ اور انڈونیشیا کا دورہ بھی کریں گے۔


وزیر اعظم نریندر مودی اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مابین اچھے تعلقات ہیں اور یہ بات سب کو معلوم ہے۔ اس کے پیش نظر ٹرمپ انتظامیہ دنیا کے دو سب سے بڑے جمہوری ممالک کے مابین دفاعی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے اپنی کوششیں تیز کر رہی ہے۔ان سب معاملوں کے درمیان مشرقی لداخ میں چین کے ساتھ جاری کشیدگی سے نمٹنے کی امید میں انڈیا کا جھکاو¿ امریکہ کی طرف بڑھتا نظر آتا ہے۔


چینی امور کے ماہر اور آکسفورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر رانا مِتتر کے مطابق انڈیا اگر امریکہ کی طرف مائل ہو رہا ہے تو اس کا ذمہ دار چین ہے۔لاس اینجیلس میں انڈین نڑاد صحافی جیوتی منگل کا کہنا ہے کہ ’گذشتہ سال اور رواں سال دونوں فریقین کے مابین سفارتی دوروں اور ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہوا ہے۔ یہ اس بات کا غماز ہے کہ انڈیا نہ چاہتے ہوئے بھی آہستہ آہستہ امریکہ کی طرف اپنا جھکاو¿ بڑھا رہا ہے، البتہ وہ (انڈیا) اس معاملے میں اب بھی احتیاط کا مظاہرہ کر رہا ہے۔

سابق سفارتکار اور ممبئی میں واقع تھنک ٹینک ’گیٹ وے ہاو¿س‘ کی نیلم دیو اس بات سے زیادہ متفق نہیں ہیں۔ ان کے خیال میں امریکہ کے ساتھ انڈیا کے تعلقات گذشتہ 20 برسوں سے مستقل انداز میں بہتری کی جانب گامزن ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ’موجودہ صدر آنے والے صدر کے لیے انڈیا کے ساتھ مزید بہتر تعلقات کی فضا بنا کر جاتا ہے۔‘منگل کو نئی دہلی میں ہونے والے تیسرے وزرا سطح کے اجلاس کو اس پس منظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ اسے آئندہ ماہ بحیرہ عرب اور بحر ہند میں انڈیا کے زیر قیادت ’مالابار بحری مشقوں‘ کے تناظر میں بھی دیکھا جانا چاہیے۔ان مشترکہ مشقوں میں شریک ممالک میں انڈیا، امریکہ، آسٹریلیا اور جاپان شامل ہیں۔

کواڈ گروپ انھی چاروں ممالک پر مبنی ہے۔ 12 سال پہلے چین کے دباو¿ کے تحت آسٹریلیا نے بحری مشقوں سے کنارہ کشی اختیار کر لی تھی۔ انڈیا نے آسٹریلیا کو ان مشقوں کا دوبارہ حصہ بننے کی دعوت دے کر اس بار چین کو کھلے عام چیلنج کیا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بات کا امکان موجود ہے کہ دونوں ممالک کے ’بنیادی تبادلہ اور تعاون معاہدہ‘ (بی ای سی اے) پر دستخط سے فوجی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے میں مدد ملے گی۔


دوسرے لفظوں میں امریکی ٹیکنالوجی کی فراہمی سے انڈیا کو خطے کے کسی بھی ملک کے طیاروں کی نقل و حرکت اور ان کی پرواز کے راستے کے بارے میں صحیح معلومات حاصل ہوں گی۔اس معاہدے کے تحت امریکہ انڈیا کے ساتھ زمین پر فضائی طیاروں اور ٹینکوں کے راستوں اور سرگرمیوں کا سراغ لگانے کی صحیح معلومات شیئر کرے گا۔ان معلومات کی بنیاد پر انڈیا جوابی کارروائی کر سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی میزائلوں اور مسلح ڈرونز کودرست انداز میں نشانہ بنانے میں بھی مدد ملے گی۔


امریکی محکمہ خارجہ کے ایک سینیئر عہدیدار ڈین تھامسن نے جمعہ کے روز ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ’ہم انڈیا کے ساتھ بہت سے امور پر تبادلہ خیال کرنے جا رہے ہیں۔ میں جانتا ہوں کہ بنیادی تبادلہ اور تعاون کا معاہدہ اور دیگر معاملات معاہدوں کی فہرست میں شامل ہیں۔‘امریکی محکمہ خارجہ نے اتوار کے روز ایک پریس ریلیز میں انڈیا کی جمہوریت کی تعریف کی اور دونوں ممالک کے مابین منگل کے روز ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ ’گذشتہ دو دہائیوں میں دفاعی تجارت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

انڈیا امریکہ کے بعد سی 17 اور پی 8 طیاروں کا سب سے بڑا بیڑا رکھتا ہے۔ امریکہ اور انڈیا کے مابین دفاعی صنعتی تعاون بڑھتا جا رہا ہے۔ امریکہ اور انڈیا دفاعی ساز و سامان کی تیاری اور ترقی پر مل کر کام کر رہے ہیں۔‘رواں سال اب تک امریکہ نے انڈیا کو 20 ارب ڈالر سے زیادہ کا دفاعی ساز و سامان فروخت کیا ہے۔’بنیادی تبادلہ اور تعاون کا معاہدہ‘ دونوں ممالک کے مابین پہلے سے ہی مضبوط دفاعی تعلقات کو مزید تقویت بخشے گا۔


اس سے قبل اگست 2016 میں دونوں ممالک نے ’لاجسٹک ایکسچینج میمورنڈم آف ایگریمنٹ‘ یا ایل ای ایم او اے پر دستخط کیے تھے۔معاہدے پر مکمل طور پر متفق ہونے میں تقریبا دس سال لگے۔ اس پر اوباما انتظامیہ کے آخری مہینوں کے دوران دستخط کیے گئے تھے۔اس معاہدے کے تحت ایک ملک کی فوج کو دوسرے کی سہولیات، ہوائی اڈوں اور بندرگاہوں سے فراہمی اور دیگر خدمات کے لیے ایک دوسرے کے دفاعی ٹھکانوں کو استعمال کرنے کی اجازت ہو گی۔


اس معاہدے نے انڈو بحر الکاہل خطے میں بحریہ کے مابین تعاون کو آسان بنا دیا ہے۔ اس کے علاوہ انڈیا اور امریکہ نے ایک اور دفاعی معاہدہ کیا ہے جس ’کوکاسا‘ یا ’مواصلات مطابقت اور سلامتی معاہدہ‘ کہا جاتا ہے۔اس پر ستمبر 2018 میں دہلی میں پہلے ’ٹو پلس ٹو مکالمے‘ کے دوران دستخط کیے گئے تھے۔اس معاہدے سے انڈین اور امریکی فوجی کمانڈروں، ان کے طیاروں اور دیگر سازوسامان کے لیے خفیہ اور محفوظ مواصلاتی نیٹ ورکس پر معلومات کا تبادلہ کرنا آسان ہو جاتا ہے۔


نئی دہلی میں سنہ 2018 اور سنہ 2019 میں واشنگٹن میں منعقدہ پہلے دو وزارتی سطح کے ڈائیلاگ سرخیاں نہیں بنا سکے، لیکن ماہرین کہتے ہیں کہ منگل کی ملاقات بہت اہم ہے۔مسئلہ چین ہے اور انڈیا اور امریکہ دونوں ہی چین سے لڑنے کی مختلف وجوہات رکھتے ہیں۔ اور چین کو روکنا ہی دونوں ممالک کا مقصد ہے۔امریکہ میں کچھ ماہرین نے صدارتی انتخابات سے ایک ہفتہ قبل اس دورے کے وقت پر سوال اٹھایا ہے۔ لیکن انڈیا میں یہ کوئی مسئلہ نہیں ہے۔


وزارت خارجہ کے ایک ذریعے نے بتایا کہ انڈین حکومت کو اس بات کی زیادہ پرواہ نہیں ہے کہ انتخابات کے بعد کون اقتدار میں آئے گا۔ اقتدار میں تبدیلی سے اس علاقے کی صورتحال تبدیل نہیں ہو گی اور یہی وجہ ہے کہ امریکی ترجیحات میں بھی تبدیلی نہیں آئے گی۔انڈیا اور امریکہ کے درمیان دس برسوں کی بات چیت اور دو صدور کی تبدیلی کے باوجود بھی سنہ 2016 میں ’لاجسٹک ایکسچینج میمورنڈم‘ معاہدے پر دستخط ہوئے تھے۔یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ خارجہ پالیسیاں ہر وقت اقتدار میں ہونے والی تبدیلیوں سے متاثر نہیں ہوتی ہیں۔

انڈین حکومت جانتی ہے کہ انڈیا کے بارے میں امریکی پالیسیوں میں ڈیموکریٹک پارٹی اور ریپبلکن پارٹی میں اتفاق رائے ہے۔انڈیا میں کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار جو بائیڈن کی فتح مسئلہ کشمیر کے معاملے پر پریشانی کا سبب بن سکتی ہے۔لیکن نیلم دیو کہتی ہیں کہ متعدد صدور نے مسئلہ کشمیر کو اٹھایا ہے لیکن انڈیا کے ساتھ امریکی تعلقات میں اضافہ ہوتا رہا ہے۔ان کے خیال میں بائیڈن کے صدر بننے کی صورت میں انڈیا کو چین کے ساتھ معاملات کے نمٹانے میں آسانی ہو گی کیونکہ بائیڈن کثیر الجہتی نقطہ نظر اور اتفاق رائے کے حامی ہیں۔دوسری طرف ٹرمپ چین سے تنہا یا صرف چند ممالک کے ساتھ مقابلہ کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں۔

 

شیئر کریں



یہ بھی پڑھیے


کابل میں دھماکہ،فائرنگ،25افرادہلاک،درجنوں زخمی
انڈیا کا ہر شہری کشمیر میں غیرزرعی زمین خریدنے کا اہل قرار
امریکہ اورانڈیاکے درمیان دفاعی معاہدے پر دستخط

بدتمیزی کیوں کی،خاتون نے ٹریفک اہلکارکوپیٹ ڈالا

4 weeks ago


گریبان پکڑکرتھپڑوں کی بارش،عوام کی بڑی تعدادموجود

انڈیامیں خاتون نے بدتمیزی کرنے والے ٹریفک پولیس اہلکار کی مجمعے میں درگت بنا دی۔مشہوربھارتی اخبار کے سوشل میڈیا اکائونٹ پر ڈالی گئی ویڈیو میں دکھایاگیا ہے کہ خاتون کی جانب سے ایک اہلکار کو پیٹنے کی ویڈیو بہت وائرل ہو رہی ہے۔


وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ نیلے لباس میں ملبوس خاتون نے ٹریفک اہلکار کو گریبان سے پکڑ رکھا ہے اور اس پر تھپڑبرسا رہی ہے۔ خاتون کے ہاتھوں اہلکار کی درگت بنائے جانے کے دوران ایک اور پولیس اہلکار بھی ساتھ کھڑا ہے جبکہ عوام کی بھی بڑی تعداد موجودہے۔کہاجارہاہے کہ ٹریفک اہلکارکو بدتمیزی کرنے اور گالیاں دینے پر خاتون کی جانب سے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔



بڑھتا تشددافغان امن مذاکرات کے عمل کو نقصان پہنچا سکتا ہے،زلمے خلیل زاد

1 month ago


آہستہ آہستہ تشدد کم کرنے کے عزم کو نظرانداز نہیں کرنا چاہئے

امریکا کے نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد نے کہاہے کہ افغانستان میں حد سے زیادہ بڑھتا تشدد افغان حکومت اور طالبان کے درمیان جاری امن مذاکرات کے عمل کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔واشنگٹن میں انہوں نے بیان دیاکہ خلاف ورزیوں کے بے بنیادالزامات اور اشتعال انگیز بیانات امن کو فروغ نہیں دیتے۔ڈان رپورٹ کے مطابق ان کاکہناتھاکہ اس کے برعکس ہمیں امریکا،افغانستان اور امریکا،طالبان مشترکہ معاہدوں کے تمام آرٹیکل پرسختی سے عمل پیرا ہونا چاہئے اور آہستہ آہستہ تشدد کو کم کرنے کے عزم کو نظرانداز نہیں کرنا چاہئے۔


واضح رہے زلمے خلیل زادٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے افغان امن عمل میں امریکا کے نمائندہ خصوصی ہیں اور انہوں نے رواں سال امریکا اور طالبان کے امن معاہدے اور مشترکہ اعلامیے میں اہم کردار ادا کیا۔نمائندہ خصوصی نے گزشتہ ماہ قطر میں طالبان اور افغان حکومت کے درمیان مذاکرات کے آغاز کی حوصلہ افزائی بھی کی لیکن یہ شریعی تشریحات کے باعث دب گئیں۔زلمے خلیل زاد کا یہ بیان جنوبی افغانستان میں طویل عرصے تک طالبان کے مضبوط گڑھ رہنے والے ہلمند میں ہونے والی لڑائی کے بعد سامنے آئے۔


واضح رہے جمعہ کو طالبان نے امریکا کی جانب سے علاقے میں فضائی حملے روکنے کی بنیاد پر اپنے حملے روکنے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔امریکی نمائندہ خصوصی نے دونوں فریقین کو یاد دلایا کہ بڑھتا تشدد امن عمل خطرہ ہوسکتا ہے جبکہ معاہدے اور بنیادی سمجھوتے کے مطابق تنازع کا کوئی فوجی حل نہیں۔



بین الافغان امن مذاکرات تمام طالبان قیدیوں کی رہائی سے مشروط

2 months ago


کابل حکومت سے مذاکرات کرنے والی ٹیم بااختیارہے:طالبان
افغان طالبان نے کہا ہے کہ بین الافغان مذاکرات کے لئے فیصلہ سازی کا کلی اختیار 21 رکنی مذاکراتی ٹیم کو دیا گیا ہے جبکہ کابل حکومت کی مذاکراتی ٹیم کے پاس یہ اختیار نہیں۔ افغان طالبان کے سربراہ ملا ہیبت اللہ اخونزادہ نے رواں ہفتے ہی شیر محمد عباس استنکزئی کی سربراہی میں 21 رکنی مذاکراتی ٹیم تشکیل دی ہے جس میں افغان طالبان کی رہبر شوریٰ کے 13 ارکان بھی شامل ہیں ۔ افغان طالبان کا کہنا ہے کہ مرکزی رہبر شوریٰ سے 65 فی صد اراکین کو مذاکراتی ٹیم کا حصہ بنانے کا مقصد ٹیم کو بااختیار بنانا ہے تاکہ امن مذاکرات درست سمت میں آگے بڑھ سکیں۔ وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے مذاکراتی ٹیم کے سربراہ شیر محمد عباس استنکزئی نے بتایا کہ طالبان قیادت نے اس مذاکراتی ٹیم کو تمام معاملات کو اپنے طور پر حل کرنے کا اختیار دیا ہے تاکہ امن کی راہ میں کسی قسم کی کوئی تاخیر نہ ہو۔ ان کے بقول طالبان کے برعکس کابل حکومت کی جانب سے بنائی گئی مذاکراتی کمیٹی بات چیت کے بعد اپنی تمام سفارشات حکومت کے سامنے رکھے گی تاہم طالبان کی ٹیم مذاکرات کی میز پر ہی تمام فیصلہ سازی کا اختیار رکھتی ہے۔ یاد رہے کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں بھی طالبان وفد کی سربراہی شیر عباس استنکزئی نے کی تھی۔ ان کے مطابق امن مذاکرات کا عمل مکمل ہونے کے بعد وہ پیشرفت سے طالبان چیف ملا ہیبت اللہ کو آگاہ کریں گے۔ طالبان کی ٹیم ملا ہیبت اللہ کے علاوہ کسی کو بھی جواب دہ نہیں ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس ٹیم کا اختیار بین الافغان امن مذاکرات، امریکہ کے ساتھ امن معاہدے پر عمل درآمد، قیدیوں کی رہائی اور تمام امور پر بات چیت ہے۔ عباس استنکزئی نے بتایا کہ مذاکراتی ٹیم کے نمائندگان میں شیخ عبدالحکیم بھی شامل ہیں جو اس وقت طالبان تحریک میں بطور چیف جسٹس کام کر رہے ہیں۔ ان کے بقول مولوی عبدالکبیر، مولوی نور محمد ثاقب، ملا محمد زاہد احمد زئی، ملا شرین اخوند، ملا عبدالطیف منصور ، قاری دین محمد، ملا عبدالسلام حنفی، ملا عبدالمنان عمری، شیخ محمد قاسم ترکمن، ملا محمد فاضل مظلوم، ملا نور اللہ نوری، ملا عبدالحق وسیق، مولوی مطیع الحق خالص، انس حقانی، ملا محمد نبی عمری، محمد سہیل شاہین، ملا خیر اللہ خیرخوا، مولوی شہاب الدین اور مولوی فرید ہی بین الافغان مذاکراتی ٹیم میں شامل ہیں۔ یاد رہے کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان رواں برس فروری میں قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امن معاہدہ طے پایا تھا۔ اس معاہدے کے تحت طالبان اور کابل حکومت کے درمیان بین الافغان مذاکرات مارچ میں شروع ہونا تھے لیکن قیدیوں کے تبادلے پر ڈیڈلاک کے باعث اب تک یہ مذاکرات شروع نہیں ہو سکے ہیں۔ طالبان مذاکراتی ٹیم کے سربراہ نے بتایا کہ امن معاہدے کے تحت طالبان نے افغان حکومت کے تمام ایک ہزار قیدی رہا کر دیے ہیں جب کہ کابل انتظامیہ نے طالبان کی جانب سے پانچ ہزار قیدیوں کی فہرست کے مطابق اب تک صرف 4680 طالبان رہا کیے ہیں۔ عباس استنکزئی کے مطابق امن معاہدے کی رو سے اگر 10 مارچ تک قیدیوں کی رہائی کا عمل مکمل ہو جاتا تو اب تک بہت سے دو طرفہ مسائل حل ہو چکے ہوتے۔ انہوں نے کہا کہ طالبان قیادت جلد از جلد بین الافغان امن مذاکرات شروع کرنے کی خواہش مند ہے تاکہ افغانستان میں جنگ کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہو سکے اور ایسی اسلامی حکومت قائم کی جائے جو افغانستان کی اکثریت کے لیے قابلِ قبول ہو۔ افغان صدر اشرف غنی نے سنگین جرائم میں ملوث طالبان قیدیوں کی رہائی پر لویا جرگہ بلوایا تھا جس میں مشترکہ طور پر تمام طالبان قیدیوں کی رہائی کی منظوری دی گئی تھی تاہم اس کے باوجود باقی ماندہ قیدیوں کی رہائی تاخیر کا شکار ہے۔ دوسری جانب فرانس اور آسٹریلیا نے بعض طالبان قیدیوں کی رہائی پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔ مذکورہ ملکوں کا کہنا تھا کہ یہ قیدی افغانستان میں تعینات ان کے اہلکاروں پر حملوں میں ملوث تھے۔ عباس استنکزئی نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جن افراد نے آسٹریلوی اور فرانسیسی فوجیوں کو مارا ہے وہ طالبان تحریک کا حصہ نہیں تھے۔ ان کے بقول وہ یا تو افغان نیشنل آرمی یا پولیس کا حصہ تھے، لیکن چونکہ وہ افغانستان کے شہری ہیں اس لیے طالبان ان کی حمایت کرتے ہیں۔ افغان طالبان کے رہنما نے بتایا کہ طالبان نے امن معاہدے سے دو ماہ قبل 5000 طالبان قیدیوں کی فہرست امریکہ کو دی تھی اور امریکہ کی تصدیق کے بعد انہوں نے وہی فہرست افغان حکومت کے ساتھ شیئر کی اور انھوں نے بھی اس کی تائید کی۔ ان کے مطابق قیدیوں کی رہائی کے معاملے پر امریکہ یا افغان حکومت سے کوئی اختلاف نہیں تھا اور اسی لیے امن معاہدے میں بین الافغان امن مذاکرات کی تاریخ 10 مارچ مقرر کی گئی تھی۔ امن معاہدے کے مطابق مذاکرت سے قبل افغان حکومت کو تمام قیدیوں کو رہا کرنا تھا۔استنکزئی نے بین الافغان امن مذاکرات کو اپنے تمام قیدیوں کی رہائی سے مشروط قرار دیا ہے۔ افغانستان کی قومی سلامتی کونسل میں ڈائریکٹر برائے امن اور شہریوں کے تحفظ کے عہدے پر فائز سید انتظار خادم کے مطابق جن چھ طالبان کی رہائی پر فرانس اور آسٹریلیا کی حکومتیں اعتراض کر رہیں ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا کیوں کہ جو چار ہزار سے زائد قیدی افغان حکومت نے رہا کیے ہیں وہ بھی افغانستان کی لڑائی میں ملوث تھے۔ ان کی رہائی پر تو فرانس اور آسٹریلیا نے اعتراض نہیں کیا۔انہوں نے کہا کہ ان افراد کی رہائی میں رکاوٹ امن عمل کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ انتظار خادم نے مزید بتایا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ یہ دونوں حکومتیں اپنے اعتراضات پر غور کریں تاکہ افغانستان میں امن کے حوالے سے ایک نئے باب کی شروعات ہو سکے۔ دوسری جانب افغان حکومت نے چند ماہ قبل ہی اپنی مذاکراتی ٹیم کا اعلان کیا تھا۔سید انتظار خادم کے مطابق بین الافغان امن مذاکرات کے لیے افغانستان نے تمام فریقوں کے اتفاق رائے سے 21 رکنی ٹیم نامزد کی ہے۔ جس کی سربراہی افغانستان کے انٹیلی جنس کے سابق سربراہ محمد معصوم استنکزئی کریں گے۔انتظار خادم کے مطابق یہ ایک جامع ٹیم ہے اور ہر طرح کی صلاحیت رکھتی ہے۔ انہوں نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ امن مذاکرات شروع کرنے اور منطقی انجام پر پہنچنے میں وقت ضرور لگے گا کیوں کہ جنگ کو صلح میں تبدیل کرنا، لوگوں کے ہاتھوں سے بندوق لے کر انہیں قلم کی طرف راغب کرنا، لوگوں کے ذہنوں میں دشمنی کے بجائے محبت کا درس دینا ہے۔ اس کے لیے یقیناً وقت لگے گا۔ انہوں نے کہا کہ افغان حکومت کی یہ کوشش ہوگی کہ یہ کام اگر ہفتوں میں نہ سہی تو مہینوں میں ضرور ہو جائے کیوں کہ اس عمل میں جتنی تاخیر ہو گی امن کے مخالفین اس سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں گے۔ انتظار خادم کے مطابق افغان حکومت کی کوشش ہے کہ امن مذاکرات جلد سے جلد منطقی انجام تک پہنچائے جائیں کیوں کہ افغان عوام نے بہت زیادہ تشدد دیکھ لیا ہے اور اب انہیں امن دیکھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ افغان حکومت امریکہ اور طالبان کے درمیان ہونے والے امن معاہدے کا حصہ نہیں تھی۔ اگر دیکھا جائے تو ان کے درمیان بھی مذاکرات کئی مہینوں تک جاری رہے تھے۔ حالانکہ طالبان اور امریکہ کے درمیان زیادہ پیچیدہ معاملات نہیں تھے۔ ان کے بقول افغان حکومت کے طالبان کے ساتھ حکومتی مسائل، حکومتی نظام، حکومت میں شراکت داری، بنیادی حقوق، اسلامی حکومت کا طریقہ کار اور جمہوریت سمیت مختلف مسائل پر بات چیت ہو گی۔ طالبان قیدیوں کی رہائی میں تاخیر سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ ایک دن میں تمام قیدیوں کی رہائی ممکن نہ تھی کیونکہ افغانستان میں قانونی حکومت ہے اور قیدیوں کی رہائی کے لیے کچھ طریقہ کار اور ضابطے ہوتے ہیں جن کے تحت انہیں رہا کیا جا رہا ہے۔ سید انتظار خادم نے کہا کہ اگر صدیوں جنگ لڑی جائے تو بھی حل کے لیے مذاکرات کی میز پر لازمی آنا ہوتا ہے اور اس سے قبل کہ افغانستان کی تمام عورتیں بیوہ ہو جائیں، جلد از جلد بین الافغان امن کے بامعنی اور نتیجہ خیز مذاکرات شروع کرنے چاہئیں۔