شام: اسرائیلی حملے میں متعدد پاکستانی جنگجو ہلاک

1 month ago


ایرانی حمایت یافتہ ملیشیا کو ابوکمال نامی ٹاو¿ن کے قریب نشانہ بنایا گیا

خانہ جنگی کے شکارملک شام میں ہونے والے ایک اسرائیلی فضائی حملے میں کم ازکم 19ایرانی حمایت یافتہ جنگجومارے گئے۔ ہلاک ہونے والوں میں زیادہ ترتعداد ان پاکستانی جنگجوئوں کی ہے جوشام جا کر لڑ رہے ہیں۔

ڈی ڈبلیوکے مطابق شامی حالات پرنگاہ رکھنے والی تنظیم سیرئین آبزرویٹری فارہیومن رائٹس نے کہاہے کہ یہ اسرائیلی فضائی حملے تھےجن کے ذریعے ایرانی حمایت یافتہ ملیشیاکوابوکمال نامی ٹائون کے قریب نشانہ بنایا گیا۔

یہ علاقہ صوبہ دیر الزور میں واقع ہے۔ اس تنظیم نے اپنے ذرائع کے حوالے سے تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ہلاک ہونے والے زیادہ تر جنگجوو¿ں میں وہ پاکستانی شہری شامل ہیں جوصدراسدکی حمایت میں لڑ رہے ہیں۔

شام کاسرکاری میڈیااس طرح کے حملوں کوسرے سے رپورٹ ہی نہیں کرتاجبکہ اسرائیل بھی ایسے حملوں کے بعدخاموش ہی رہتاہے۔اسرائیل ماضی میں بھی درجنوں مرتبہ شام میں ایرانی حمایت یافتہ ملیشیا کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا چکا ہے۔

آبزرویٹری فارہیومن رائٹس کے مطابق ہفتے کے بعدسے اسرائیل نے ایرانی حمایت یافتہ ملیشیاکے خلاف دودیگرحملے بھی کئے ہیں۔آبزویٹری فارہیومن رائٹس لندن میں کام کرتی ہے لیکن شامی خانہ جنگی کے آغاز سے اس نے وہاں معلومات جمع کرنے کا وسیع نیٹ ورک قائم کر رکھا ہے۔

اسرائیل کی طرف سے تازہ حملے ایک ایسے وقت میں کئے گئے ہیں، جب اقوام متحدہ میں اسرائیلی سفیر گیلاد ایردن نے سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ شام سے ایرانی فورسز کو بے دخل کرنے کے لئے فوری اقدامات کیے جائیں۔

مبینہ طور پر ایران اپنے حلیف صدر بشارالاسد کی حمایت میں لڑنے کے لئے اب تک ہزاروں جنگ جو شام بھیج چکا ہے۔ ماضی میں ایران میں سابق فوجیوں کے امور کے سربراہ محمد علی شہیدی محلاتی کا تسنیم نیوز ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا،”مزارات کا دفاع کرتے ہوئے شہید ہونے والوں کی تعداد بڑھ گئی ہے۔“

اے ایف پی کے مطابق ایران شام میں نہ صرف اپنے فوجی مشیر بھیج چکا ہے بلکہ افغانستان اور پاکستان سے سینکڑوں جنگجو بھی شام بھیجے گئے ہیں، جو اسد کی فورسز کے ساتھ مل کر لڑائی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ انہیں’مزارات کے محافظ‘ کہا جاتا ہے۔ یہ نام شام میں شیعوں کے مقدس مقامات کے حوالے سے رکھا گیا ہے۔

شام میں نہ صرف ایرانی بلکہ پاکستانی،لبنانی حزب اللہ،عراقی اورافغان ہزارہ شیعہ کمیونٹی کے عسکریت پسندلڑرہے ہیں۔ ان تمام کی تعیناتی کامقصد اسد حکومت کی حفاظت کرناہے۔ دوسری جانب ایران حکومت ایسے کسی بھی دعوے کو مستردکرتی ہے کہ ان کے فوجی شام کی لڑائی میں شریک ہیں۔

ایرانی میڈیامیں نہ صرف ایرانیوں بلکہ افغانیوں اورپاکستانیوں کے ہلاک ہونے کی خبریں شائع ہوتی رہتی ہیں اوران کی تدفین ایران یاشام میں ہی کردی جاتی ہے۔روئٹرزکی اطلاعات کے مطابق شام میں لڑنے والے پاکستانی جنگ جو شیعہ عسکری گروپ زینیبون سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کا کام شام میں مزار زینب کی حفاظت کے لئے لڑنا بتایا جاتا ہے۔

اس نیوز ایجنسی کے مطابق خطے میں ایسے جنگجوو¿ں کی بھرتیاں ایران کے ذریعے ہو رہی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ پاکستانی گروپ زینیبون نے آغاز افغان شیعہ عسکری گروپ فاطمیون سے کیا تھا۔روئٹرز کی رپورٹوں کے مطابق متعدد افغان عسکریت پسندوں کو شام میں لڑنے کے عوض ایرانی شہریت اور ماہانہ تنخواہ دینے کا وعدہ کیا گیا تھا جبکہ پاکستانی گروپ بھی اسی طرح کی مراعات دینے کا وعدہ کرتا ہے۔

واشنگٹن میں مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ کے سینئر فیلو اور پاکستان، ایران کے درمیان تعلقات پر ایک کتاب کے مصنف ایلیکس ویٹینکا کہتے ہیں،”شیعہ کمیونٹی کے اندر بہت سے گروپ ایسے ہیں جو اپنی شناخت کے لئے ہتھیار اٹھانے کے لئے تیار ہیں اور پاسداران انقلاب اسی چیز کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔“

شیئر کریں



یہ بھی پڑھیے


بھارت:بین المذاہب شادی کے قانون کے تحت پہلی گرفتاری
شام: اسرائیلی حملے میں متعدد پاکستانی جنگجو ہلاک
کابل میں دھماکہ،فائرنگ،25افرادہلاک،درجنوں زخمی

انڈیا کا ہر شہری کشمیر میں غیرزرعی زمین خریدنے کا اہل قرار

2 months ago


عمر عبداللہ ، محبوبہ مفتی نے فیصلے کو عوام دشمن قرار دے دیا

انڈیا کی حکومت کا دعویٰ تھا کہ کشمیر کی نیم خودمختار حیثیت کو ختم کرنے اور ریاست کو وفاق میں مکمل طور پر ضم کرنے سے انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں خوشحالی، امن اور ترقیوں کا نیا دور شروع ہو جائے گا تاہم گذشتہ ایک سال سے کشمیر میں حکومتِ ہند کے اعلانات سے اضطراب پھیلتا رہا ہے۔


تازہ اعلان زمینوں کی خریداری سے متعلق کیا گیا اور پہلے سے موجود جائیداد سے متعلق قوانین میں ترمیم کر کے اب انڈیا کے ہر شہری کو کشمیر میں غیرزرعی زمین خریدنے کا اہل قرار دیا ہے تاہم حکومت زرعی زمینوں کو 'مفاد عامہ' کے لئے استعمال کرسکتی ہے۔اس سے قبل فوج کو یہ اختیار دیا گیا تھا کہ وہ کسی بھی علاقے یا قطعہ ارض کو 'سٹریٹجک' یعنی تذویراتی اہمیت کا حامل قرار دے کر اسے اپنے قبضے میں لے سکتی ہے۔


اس اعلان سے حالیہ دنوں میں ہندنوازسیاسی جماعتوں کی طرف سے فاروق عبداللہ کی سربراہی میں بنائے گئے ’پیپلز الائنس‘ نامی اتحاد کو شدید دھچکہ لگا ہے اور اس اتحاد کے دو کلیدی رہنمائوں، عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی نے اس فیصلے کو عوام دشمن قرار دیا ہے۔


عمرعبداللہ نے اسی حوالے سے اپنی ایک ٹویٹ میں کہا: ’نئی دہلی نے جموں کشمیر کو برائے فروخت رکھ دیا ہے اور حد یہ ہے کہ حکومت نے لداخ میں ہِل کونسل انتخابات کا انتظار کیا تاکہ لداخ کو بھی اب فار سیل قرار دیا جاسکے۔'کم و بیش ایسے ہی الفاظ کا استعمال کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا 'جموں کشمیر کو لوٹنے کے انتظامات کئے جا رہے ہیں تاکہ کشمیری عوام مزید بےاختیار اور بے دست و پا ہو جائے۔

'
دلچسپ بات ہے کہ اس اعلان کے چوبیس گھنٹے بعد ایک معروف اخبار اور انسانی حقوق کے لئے سرگرم بعض انجمنوں کے دفاتر پر نیشنل انوسٹگیشن ایجنسی یعنی این آئی اے کے اہلکاروں نے چھاپے مارے۔ این آئی اے ملک میں دہشت گردی کے لئے غیرملکی فنڈنگ کی روک تھام کے لئے بنائی گئی ہے جسے عدالتی اختیارات بھی حاصل ہیں۔

گذشتہ برس تک انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے حوالے سے آئین کے آرٹیکل 370 میں ایک شق تھی جس میں زمین خریدنے کے لیے 'کشمیر کا مستقل شہری' ہونا ایک لازمی شرط تھی تاہم اس آرٹیکل کے خاتمے کے بعد جو نیا قانون آیا ہے اس میں اس شق کو ہٹا دیا گیا ہے۔حکومت کا موقف رہا ہے آرٹیکل 370 نے کشمیر میں ترقی کی راہ کو مسدود کر رکھا تھا کیونکہ سرمایہ کار وہاں پانچ اگست سنہ 2019 سے قبل زمین نہیں خرید سکتے تھے۔


یہ انتظام اس خطے کی متنازع حیثیت کے علاوہ نسلی شناخت کے تحفظ کے پیش نظر کیے گئے تھے۔ اس طرح کے انتظامات کئی شمال مشرقی ریاستوں بھی ہیں جہاں دوسری ریاستوں کے لوگ زمین نہیں خرید سکتے ہیں تاکہ وہاں کی آبادی کا تناسب اور تشخص نہ بدلے۔یاد رہے کہ انڈیا کی حکومت کے اعلانات پر اکثر کشمیر اور جموں میں مختلف ردعمل سامنے آتا ہے تاہم لینڈ لاز یعنی جائیداد کے حوالے سے قوانین میں ترمیم کے اعلان پر جموں میں بھی ناراضگی پائی جاتی ہے۔


جموں میں کانگریس کے رہنما رویندر شرما نے کہا ہے کہ یہ اعلان ان یقین دہانیوں کو جھوٹ ثابت کرتا ہے جو انڈیا کی حکومت نے بارہا لوگوں کو دی ہیں۔جموں میں مقیم جموں کشمیر پینتھرز پارٹی کے سربراہ ہرش دیو سنگھ نے کہا: ’بی جے پی جموں کشمیر کو برائے فروخت رکھ رہی ہے۔‘ انہوں نے جموں کشمیر کی سبھی سیاسی جماعتوں کو متحد ہو کر اس فیصلے کی مزاحمت کرنے کی اپیل کی ہے۔
جموں کے ہی ایک اور سیاسی کارکن سنیل ڈمپل نے کہا کہ ’جموں کشمیر کی ریاستی حیثیت اور خودمختاری یہاں کے عوام کی نوکریوں اور جائیداد کی حفاظتی ڈھال ہے اور اسے واپس لانے کے لئے سب کو جدوجہد کرناہوگی۔

ادھر پونچھ اور راجوری پر مشتمل پیر پنچال وادی میں بھی اس فیصلے کے خلاف سخت برہمی پائی جاتی ہے۔ پیرپنچال کے سماجی کارکن سہیل ملک نے کہا ''یہ فیصلہ غیرآئینی عمل ہے اور اسے منسوخ کروانے کے لئے سبھی حلقوں کومزاحمت کرنی چاہیے''۔بی جے پی کے لیے نرم گوشہ رکھنے والی 'اپنی پارٹی' کے صدر الطاف بخاری نے کہا ہے کہ وہ شہریت کے قوانین میں مناسب اور عوام دوست تبدیلی کے لئے وہ جدوجہد کریں گے۔ قابل ذکر ہے 'اپنی پارٹی' نے نیشنل کانفرنس کے سرپرست فاروق عبداللہ کی سربراہی میں قائم ہوئے پیپلز الائنس میں شمولیت نہیں کی ہے۔

کشمیر میں زمین خریدنے کے حکومت ہند کے نوٹیفیکیشن کے بعد سوشل میڈیا پر اس بابت گہما گہمی نظر آئی ہے۔معروف صحافی اور سیاسی مبصر کنچن گپتا نے اس کا خیر مقدم کرتے ہوئے لکھا: 'اب کوئی بھی انڈین شہری انڈیا کی یونین ٹیریٹری جموں کشمیر میں زمین خرید سکتا ہے۔ نہرو کی آرٹیکل 370 کے روپ میں کی جانے والی تاریخی غلطی کو سات دہائیوں کے بعد بالآخر پوری طرح الٹ دیا گیا۔'

صحافی آرتی ٹیکو سنگھ نے وزارت داخلہ اور امت شاہ کو شاباشی دیتے ہوئے لکھا: جموں کشمیر اور لداخ کو سارے انڈیا کے لیے کھولنے پر شکریہ۔ اس سے سرمایہ کاری، مقابلہ، جاب اور فری مارکٹ کے ساتھ خوشحالی آئے گی۔ اس کا سب سے زیادہ فائدہ غریبوں اور کم زمین رکھنے والوں کو ہوگا۔ حکمراں طبقے کی جاگیرداری کا دور آج ختم ہوا۔'

دہلی یونیورسٹی میں استاد دیویکا متل نے اس پیش قدمی کو حملہ قرار دیا اور لکھا: 'کسی بھی انڈین شہری کو جموں کشمیر کے متنازع خطے میں زمین خریدنے کا حق دینے والا 'زمین کا قانون' ایک حملہ ہے۔ یہ فاسشٹ حکومت کا کام ہے جو بات چت، جمہوریت اور انسانی حقوق میں یقین نہیں رکھتی۔

'
کئی صارفین نے پوچھا کہ وہاں زمین کی کیا قیمت ہے جبکہ ایک صارف نے لکھا کہ جب بہار کے نوجوان روزگار کی بات کرتے ہیں تو انھیں کہا جاتا ہے کہ کشمیر میں زمین خریدنے کے قانون پر خوش ہوں۔ٹرانسپیرنسی ایکٹیوسٹ ساکیت گوکھلے نے لکھا: 'یوگی کی مقبولیت کا پتہ 2022 کے اترپردیش کے انتخابات میں ہوگا۔ لیکن صحیح معنوں میں یوگی بی جے پی کے لیے تمام ریاستوں کی انتخابی مہم میں سٹار کمپینر کے طور پر تباہی لائے ہیں۔ آج بہار کے نوجوان جب روزگار کی تلاش میں ہیں تو وہ انھیں کہہ رہے ہیں کہ وہ کشمیر میں زمین خرید سکتے ہیں اس بات پر خوش رہیں

(بشکریہ بی بی سی)



امریکہ اورانڈیاکے درمیان دفاعی معاہدے پر دستخط

2 months ago


فوجی معاہدے پر دستخط دہلی میں منگل کے روز اعلیٰ سطحی مذاکرات کے بعد کئے گئے

امریکہ اورانڈیانے منگل کے روز حساس سیٹلائیٹ ڈیٹا کی فراہمی کے حوالے سے ایک دفاعی معاہدے پر دستخط کر دئیے ہیں۔ یہ معاہدہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب انڈیا کا چین کے ساتھ سرحدی تنازع زوروں پر ہے۔اس حساس ڈیٹا کی مدد سے انڈیا اس قابل ہو جائے گا کہ وہ میزائلوں، ڈرونز اور دیگر اہداف کو درست اور بالکل ٹھیک ٹھیک انداز سے نشانہ بنے سکے گا۔اس فوجی معاہدے پر دستخط دہلی میں منگل کے روز ہونے والے اعلیٰ سطحی مذاکرات کے بعد کئے گئے ہیں۔


عسکری ماہرین کا ماننا ہے کہ انڈیا اور امریکہ کے درمیان بڑھتے تعلقات اس خطے میں چین کے اثر و رسوخ کو کم کرنے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔بی بی سی کے مطابق اس معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو اور وزیر دفاع مارک ایسپر ان دنوں انڈیا کے دورے پر ہیں۔اس معاہدے کے بعد انڈیا کے وزیر خارجہ جئے شنکر نے کہا ہے کہ گذشتہ دو دہائیوں کے دوران ہمارے (انڈیا اور امریکہ کے) باہمی تعلقات معنی خیز انداز میں آگے بڑھے ہیں۔

حالیہ دنوں میں امریکی عہدیداروں سے ہونے والی بات چیت دونوں ممالک کو قومی سلامتی کے معاملات پر زیادہ تیزی سے نزدیک لائے گی۔اس رپورٹ میں آگے چل کر ہم انڈیا اور امریکہ کے تعلقات میں حالیہ گرمجوشی کا جائزہ لیں گے اور یہ جاننے کی کوشش کریں گے ان تعلقات کی بنیاد پر چین کی مشکلات میں کس حد تک اضافہ ہو سکتا ہے۔جنرل مارٹن ڈیمپسی نے 2014 میں امریکی چیف آف سٹاف کے عہدے سے سبکدوشی سے قبل چین کے بارے میں ایک پتے کی بات کہی تھی۔


انھوں نے کہا تھا کہ ’امریکہ جلد ہی کھل کر چین کا سامنا کرنے پر مجبور ہو سکتا ہے، جس طرح سرد جنگ کے دوران اسے سوویت یونین کا سامنا کرنا پڑا تھا۔‘ ان کی باتیں آج درست ثابت ہوتی نظر آ رہی ہیں۔جنرل ڈیمپسی نے یہ بات 2012 میں اوبامہ انتظامیہ کی مشرقی ایشیا کو ترجیح دینے کی خارجہ پالیسی کے تناظر میں کہی تھی۔اس میں کوئی شک نہیں کہ فی الوقت امریکہ کا سب سے بڑا مسئلہ چین ہے اور دونوں ممالک کے درمیان سنہ 2018 کے وسط سے ’ٹیرف وار‘ یعنی تجارتی جنگ جاری ہے۔


دونوں ممالک کے مابین تعلقات اس حد تک خراب ہو چکے ہیں کہ تجزیہ کار اس کا موازنہ سرد جنگ کے دنوں سے کرنے لگے ہیں۔مشرقی ایشیا کو ترجیح دینے کی امریکی خارجہ پالیسی چین کی بڑھتی ہوئی طاقت کو روکنے کے لیے بنائی گئی تھی۔ اس کے تحت نئے کثیرالجہتی اتحادوں کے ساتھ باہمی تعلقات کو مستحکم کرنے کے منصوبے تیار کیے گئے تھے۔اس وقت کی امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے امریکہ کی ’خطے میں وسیع تر فوجی موجودگی‘ کی وکالت کی تھی۔


اس وقت سے امریکہ انڈیا سمیت ایشیا کے بہت سے ممالک کو چین کے خلاف اپنے فوجی اتحاد میں شامل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ایسا نہیں ہے کہ امریکہ کی کوشش صرف انڈیا کو اپنے اتحاد میں شامل کرنا ہے بلکہ وہ دوسرے ممالک کو بھی اپنی اس مہم میں شامل کرنے کی کوششوں میں مصروف عمل رہا ہے۔البتہ یہ بات ضرور ہے کہ وائٹ ہاو¿س نے چین کو روکنے میں مدد دینے کے لیے انڈیا کو اس خطے میں سب سے اہم ملک سمجھا ہے۔


انڈیا اور تین دیگر ممالک کے حالیہ دورے پر روانگی سے قبل امریکہ کے وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے کہا تھا کہ ’مجھے یقین ہے کہ میری ملاقاتوں میں اس بات پر بھی تبادلہ خیال ہو گا کہ کس طرح آزاد ریاستیں چینی کمیونسٹ پارٹی سے پیدا ہونے والے خطرات کو ناکام بنانے کے لیے مل کر کام کر سکتی ہیں۔‘امریکہ کے وزیر خارجہ فی الحال انڈیا میں ہیں جس کے بعد وہ سری لنکا، مالدیپ اور انڈونیشیا کا دورہ بھی کریں گے۔


وزیر اعظم نریندر مودی اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مابین اچھے تعلقات ہیں اور یہ بات سب کو معلوم ہے۔ اس کے پیش نظر ٹرمپ انتظامیہ دنیا کے دو سب سے بڑے جمہوری ممالک کے مابین دفاعی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے اپنی کوششیں تیز کر رہی ہے۔ان سب معاملوں کے درمیان مشرقی لداخ میں چین کے ساتھ جاری کشیدگی سے نمٹنے کی امید میں انڈیا کا جھکاو¿ امریکہ کی طرف بڑھتا نظر آتا ہے۔


چینی امور کے ماہر اور آکسفورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر رانا مِتتر کے مطابق انڈیا اگر امریکہ کی طرف مائل ہو رہا ہے تو اس کا ذمہ دار چین ہے۔لاس اینجیلس میں انڈین نڑاد صحافی جیوتی منگل کا کہنا ہے کہ ’گذشتہ سال اور رواں سال دونوں فریقین کے مابین سفارتی دوروں اور ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہوا ہے۔ یہ اس بات کا غماز ہے کہ انڈیا نہ چاہتے ہوئے بھی آہستہ آہستہ امریکہ کی طرف اپنا جھکاو¿ بڑھا رہا ہے، البتہ وہ (انڈیا) اس معاملے میں اب بھی احتیاط کا مظاہرہ کر رہا ہے۔

سابق سفارتکار اور ممبئی میں واقع تھنک ٹینک ’گیٹ وے ہاو¿س‘ کی نیلم دیو اس بات سے زیادہ متفق نہیں ہیں۔ ان کے خیال میں امریکہ کے ساتھ انڈیا کے تعلقات گذشتہ 20 برسوں سے مستقل انداز میں بہتری کی جانب گامزن ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ’موجودہ صدر آنے والے صدر کے لیے انڈیا کے ساتھ مزید بہتر تعلقات کی فضا بنا کر جاتا ہے۔‘منگل کو نئی دہلی میں ہونے والے تیسرے وزرا سطح کے اجلاس کو اس پس منظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ اسے آئندہ ماہ بحیرہ عرب اور بحر ہند میں انڈیا کے زیر قیادت ’مالابار بحری مشقوں‘ کے تناظر میں بھی دیکھا جانا چاہیے۔ان مشترکہ مشقوں میں شریک ممالک میں انڈیا، امریکہ، آسٹریلیا اور جاپان شامل ہیں۔

کواڈ گروپ انھی چاروں ممالک پر مبنی ہے۔ 12 سال پہلے چین کے دباو¿ کے تحت آسٹریلیا نے بحری مشقوں سے کنارہ کشی اختیار کر لی تھی۔ انڈیا نے آسٹریلیا کو ان مشقوں کا دوبارہ حصہ بننے کی دعوت دے کر اس بار چین کو کھلے عام چیلنج کیا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بات کا امکان موجود ہے کہ دونوں ممالک کے ’بنیادی تبادلہ اور تعاون معاہدہ‘ (بی ای سی اے) پر دستخط سے فوجی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے میں مدد ملے گی۔


دوسرے لفظوں میں امریکی ٹیکنالوجی کی فراہمی سے انڈیا کو خطے کے کسی بھی ملک کے طیاروں کی نقل و حرکت اور ان کی پرواز کے راستے کے بارے میں صحیح معلومات حاصل ہوں گی۔اس معاہدے کے تحت امریکہ انڈیا کے ساتھ زمین پر فضائی طیاروں اور ٹینکوں کے راستوں اور سرگرمیوں کا سراغ لگانے کی صحیح معلومات شیئر کرے گا۔ان معلومات کی بنیاد پر انڈیا جوابی کارروائی کر سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی میزائلوں اور مسلح ڈرونز کودرست انداز میں نشانہ بنانے میں بھی مدد ملے گی۔


امریکی محکمہ خارجہ کے ایک سینیئر عہدیدار ڈین تھامسن نے جمعہ کے روز ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ’ہم انڈیا کے ساتھ بہت سے امور پر تبادلہ خیال کرنے جا رہے ہیں۔ میں جانتا ہوں کہ بنیادی تبادلہ اور تعاون کا معاہدہ اور دیگر معاملات معاہدوں کی فہرست میں شامل ہیں۔‘امریکی محکمہ خارجہ نے اتوار کے روز ایک پریس ریلیز میں انڈیا کی جمہوریت کی تعریف کی اور دونوں ممالک کے مابین منگل کے روز ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ ’گذشتہ دو دہائیوں میں دفاعی تجارت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

انڈیا امریکہ کے بعد سی 17 اور پی 8 طیاروں کا سب سے بڑا بیڑا رکھتا ہے۔ امریکہ اور انڈیا کے مابین دفاعی صنعتی تعاون بڑھتا جا رہا ہے۔ امریکہ اور انڈیا دفاعی ساز و سامان کی تیاری اور ترقی پر مل کر کام کر رہے ہیں۔‘رواں سال اب تک امریکہ نے انڈیا کو 20 ارب ڈالر سے زیادہ کا دفاعی ساز و سامان فروخت کیا ہے۔’بنیادی تبادلہ اور تعاون کا معاہدہ‘ دونوں ممالک کے مابین پہلے سے ہی مضبوط دفاعی تعلقات کو مزید تقویت بخشے گا۔


اس سے قبل اگست 2016 میں دونوں ممالک نے ’لاجسٹک ایکسچینج میمورنڈم آف ایگریمنٹ‘ یا ایل ای ایم او اے پر دستخط کیے تھے۔معاہدے پر مکمل طور پر متفق ہونے میں تقریبا دس سال لگے۔ اس پر اوباما انتظامیہ کے آخری مہینوں کے دوران دستخط کیے گئے تھے۔اس معاہدے کے تحت ایک ملک کی فوج کو دوسرے کی سہولیات، ہوائی اڈوں اور بندرگاہوں سے فراہمی اور دیگر خدمات کے لیے ایک دوسرے کے دفاعی ٹھکانوں کو استعمال کرنے کی اجازت ہو گی۔


اس معاہدے نے انڈو بحر الکاہل خطے میں بحریہ کے مابین تعاون کو آسان بنا دیا ہے۔ اس کے علاوہ انڈیا اور امریکہ نے ایک اور دفاعی معاہدہ کیا ہے جس ’کوکاسا‘ یا ’مواصلات مطابقت اور سلامتی معاہدہ‘ کہا جاتا ہے۔اس پر ستمبر 2018 میں دہلی میں پہلے ’ٹو پلس ٹو مکالمے‘ کے دوران دستخط کیے گئے تھے۔اس معاہدے سے انڈین اور امریکی فوجی کمانڈروں، ان کے طیاروں اور دیگر سازوسامان کے لیے خفیہ اور محفوظ مواصلاتی نیٹ ورکس پر معلومات کا تبادلہ کرنا آسان ہو جاتا ہے۔


نئی دہلی میں سنہ 2018 اور سنہ 2019 میں واشنگٹن میں منعقدہ پہلے دو وزارتی سطح کے ڈائیلاگ سرخیاں نہیں بنا سکے، لیکن ماہرین کہتے ہیں کہ منگل کی ملاقات بہت اہم ہے۔مسئلہ چین ہے اور انڈیا اور امریکہ دونوں ہی چین سے لڑنے کی مختلف وجوہات رکھتے ہیں۔ اور چین کو روکنا ہی دونوں ممالک کا مقصد ہے۔امریکہ میں کچھ ماہرین نے صدارتی انتخابات سے ایک ہفتہ قبل اس دورے کے وقت پر سوال اٹھایا ہے۔ لیکن انڈیا میں یہ کوئی مسئلہ نہیں ہے۔


وزارت خارجہ کے ایک ذریعے نے بتایا کہ انڈین حکومت کو اس بات کی زیادہ پرواہ نہیں ہے کہ انتخابات کے بعد کون اقتدار میں آئے گا۔ اقتدار میں تبدیلی سے اس علاقے کی صورتحال تبدیل نہیں ہو گی اور یہی وجہ ہے کہ امریکی ترجیحات میں بھی تبدیلی نہیں آئے گی۔انڈیا اور امریکہ کے درمیان دس برسوں کی بات چیت اور دو صدور کی تبدیلی کے باوجود بھی سنہ 2016 میں ’لاجسٹک ایکسچینج میمورنڈم‘ معاہدے پر دستخط ہوئے تھے۔یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ خارجہ پالیسیاں ہر وقت اقتدار میں ہونے والی تبدیلیوں سے متاثر نہیں ہوتی ہیں۔

انڈین حکومت جانتی ہے کہ انڈیا کے بارے میں امریکی پالیسیوں میں ڈیموکریٹک پارٹی اور ریپبلکن پارٹی میں اتفاق رائے ہے۔انڈیا میں کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار جو بائیڈن کی فتح مسئلہ کشمیر کے معاملے پر پریشانی کا سبب بن سکتی ہے۔لیکن نیلم دیو کہتی ہیں کہ متعدد صدور نے مسئلہ کشمیر کو اٹھایا ہے لیکن انڈیا کے ساتھ امریکی تعلقات میں اضافہ ہوتا رہا ہے۔ان کے خیال میں بائیڈن کے صدر بننے کی صورت میں انڈیا کو چین کے ساتھ معاملات کے نمٹانے میں آسانی ہو گی کیونکہ بائیڈن کثیر الجہتی نقطہ نظر اور اتفاق رائے کے حامی ہیں۔دوسری طرف ٹرمپ چین سے تنہا یا صرف چند ممالک کے ساتھ مقابلہ کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں۔

 



بدتمیزی کیوں کی،خاتون نے ٹریفک اہلکارکوپیٹ ڈالا

2 months ago


گریبان پکڑکرتھپڑوں کی بارش،عوام کی بڑی تعدادموجود

انڈیامیں خاتون نے بدتمیزی کرنے والے ٹریفک پولیس اہلکار کی مجمعے میں درگت بنا دی۔مشہوربھارتی اخبار کے سوشل میڈیا اکائونٹ پر ڈالی گئی ویڈیو میں دکھایاگیا ہے کہ خاتون کی جانب سے ایک اہلکار کو پیٹنے کی ویڈیو بہت وائرل ہو رہی ہے۔


وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ نیلے لباس میں ملبوس خاتون نے ٹریفک اہلکار کو گریبان سے پکڑ رکھا ہے اور اس پر تھپڑبرسا رہی ہے۔ خاتون کے ہاتھوں اہلکار کی درگت بنائے جانے کے دوران ایک اور پولیس اہلکار بھی ساتھ کھڑا ہے جبکہ عوام کی بھی بڑی تعداد موجودہے۔کہاجارہاہے کہ ٹریفک اہلکارکو بدتمیزی کرنے اور گالیاں دینے پر خاتون کی جانب سے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔