چین نے سکس(6) جی ٹیکنالوجی ٹیسٹ کرنے کیلئے سیارہ خلاءمیں بھیج دیا

2 weeks ago


مذکورہ ٹیکنالوجی5 جی سے 100 گنا تیز ہوگی،مصنوعی سیارہ فصلوں کی تباہ کاریوں کی نگرانی کرسکتا ہے

فائیو(5)جی نیٹ ورک کاابھی آغازنہیں ہوامگرچین ٹیکنالوجی کے میدان میں اس سے بھی آگے جاتاہوادکھائی دے رہاہے۔چین نے نے اس ہفتے دنیاکے پہلے سکس(6)جی سیٹلائٹ کو کامیابی کے ساتھ خلا میں روانہ کیا تاکہ اس ٹیکنالوجی کی کارکردگی کوجانچاجاسکے۔

جمعہ کے روز چین کے شمالی صوبے شانشی کے تائیوان سیٹلائٹ لانچ سنٹر سے سکس جنریشن ٹیلی مواصلات کی ٹیکنالوجی کے حامل تجرباتی سیٹلائٹ کوزمین کے مدار میں بھیجا گیا۔جدید ترین سیٹلائٹ کانام چین کی یونیورسٹی آف الیکٹرانک سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے نام پر رکھا گیا ہے۔ یہ خلا میں سکس جی فریکوئنسی بینڈ کی کارکردگی کی تصدیق کے لئے استعمال ہوگا۔

اگرچہ خیال کیا جاتا ہے کہ 6 جی ٹیکنالوجی ابھی ابتدائی مراحل میں ہے لیکن توقع کی جارہی ہے کہ یہ5 جی سے 100 گنا زیادہ تیز ہوگی۔بھیجے گئے مصنوعی سیارہ میں آپٹیکل ریموٹ سینسنگ سسٹم بھی موجود ہے جو فصلوں کی تباہ کاریوں کی نگرانی کرسکتا ہے ، سیلاب اور جنگل کی آگ کو روک سکتا ہے۔

شیئر کریں



یہ بھی پڑھیے


ناساچاندپر4جی ٹاورزلگانے کیلئے نوکیاکی مددکرے گا
جاپان میں کوروناوائرس ختم کرنے والاآلہ تیار
پاکستان میں کورونا سے بچائو کی ویکسن کی آزمائش شروع

1939میں چھٹی کے لئے لکھی گئی درخواست برآمد

2 months ago


طالبعلم کانام راج سنگھ،تعلق سرگودھاسے تھا

سرگودھاکی تحصیل ساہی وال میں ایک گھرکی مرمت کے دوران 80سال پرانی ہاتھ سے لکھی گئی درخواست نکل آئی۔درخواست چھٹی جماعت کے طالبعلم را ج سنگھ کی طرف سے لکھی گئی ہے جس میں بیماری کی وجہ سے رخصت مانگی گئی ہے۔

مذکورہ تاریخی مکان کوحالیہ بارشوں کی وجہ سے کافی نقصان پہنچاتھااورمکان کی دیوارکاایک حصہ گر گیا تھا ۔ دیوارکی دوبارہ تعمیرکے لئے جب کام آغازکیاگیاتواس میں سے ایک صفحہ برآمدہواجس پر چھٹی کے لئے درخواست لکھی ہوئی تھی۔درخواست اس وقت کے ہیڈماسٹرگورنمنٹ ہائی سکول کے نام لکھی گئی تھی جس پر29جون1939کی تاریخ درج ہے۔



کروناوائرس:چین کی تیار کردہ ویکسین دو ماہ میں دستیاب ہونے کاامکان

2 months ago


چار ویکسینز کے انسانوں پر تجربات آخری مراحل میں ہیں

چین کے سینٹرفارڈیزیزکنٹرول اینڈ پریوینشن(سی ڈی سی) کے حکام نے کہا ہے کہ کرونا وائرس سے بچائوکے لئے ملک میں بنائی جانے والی ویکسین اس سال کے آخرمیں عوامی سطح پرملنا شروع ہو جائے گی۔


چین میں کرونا وائرس کی چار ویکسینز کے انسانوں پر تجربات آخری مراحل میں ہیں۔ ان میں سے تین ویکسینز ایسی ہیں جو جولائی میں خصوصی طبی رضاکاروں کے لئے ہنگامی بنیاد پر شروع کئے گئے پروگرام کے تحت دی گئی ہیں۔سی ڈی سی کی سربراہ اور بائیو سیفٹی کی ماہر گویڑن وو کا کہنا تھا کہ ویکسین کے تیسرے مرحلے کے کلینکل ٹرائل حوصلہ افزا رہے ہیں اور نومبر یا دسمبر میں عوامی استعمال کے لئے ان کی فراہمی شروع ہو سکتی ہے۔


گویڑن وو کا کہنا تھا کہ انہوں نے خود بھی اپریل میں ویکسین استعمال کی تھی اور اس کے کسی قسم کے منفی اثرات دیکھنے میں نہیں آئے تھے تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ انہوں نے کون سی ویکسین استعمال کی تھی۔چین کی سرکاری دوا ساز کمپنی چائنہ نیشنل فارماسوٹیکل گروپ (سائنوفارم) اور امریکہ میں رجسٹرڈ چینی کمپنی سینووک بائیوٹیک نیشنل ایمرجنسی پروگرام کے تحت مشترکہ طور پر تین ویکسینز کی تیاری پر کام کر رہی ہیں۔


چوتھی ویکسین ”کین سینو بائیولوجکس“ نے تیار کی ہے جسے جون میں چین کے فوجیوں پر استعمال کرنے کی منظوری دی گئی تھی۔ دوا ساز کمپنی سائنو فارم نے جولائی میں کہا تھا کہ تیسرے مرحلے کے تجربات مکمل ہونے کے بعد کرونا وائرس سے بچائو کی ویکسین اس سال کے آخر تک دستیاب ہو جائے گی۔خیال رہے کہ کرونا وائرس سے دنیا بھر میں 9 لاکھ 25 ہزار سے زائد اموات ہو چکی ہیں۔ اسی وجہ سے ویکسین بنانے والے بین الاقوامی اداروں میں عالمی وبا کی ویکیسن جلد از جلد بنانے کی دوڑ لگی ہوئی ہے ۔

گزشتہ ہفتے برطانیہ میں کرونا وائرس کی ویکسین کے آخری مرحلے کے تجربات عارضی طور پر معطل کر دیئے گئے تھے جس کی وجہ یہ بتائی گئی تھی کہ جن رضاکاروں کو آزمائشی طور پر ویکسین دی جارہی تھی ان میں سے ایک شخص بیمار ہو گیا تھا۔وی اواے کے مطابق آکسفورڈ یونیورسٹی اور ایک دوا ساز کمپنی”آسٹرا زینیکا“ مشترکہ طور پر کرونا وائرس کی ویکسین تیارکرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ آسٹرا زینیکا کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ کرونا وائرس ویکسین کے ٹرائلز میں رضاکارانہ طورپر وقفہ کیا گیا ہے تاکہ ٹرائل کے دوران سامنے آنے والی بیماری کی چھان بین کی جا سکے اور ویکسین کی آزمائش کے معیار کو برقرار رکھا جا سکے۔



رات کے وقت بجلی بنانے والے اینٹی سولرپینل تیار

2 months ago


پرانے پینلز کے مقابلے میں 120 فی صد اضافی بجلی بناتے ہیں،سائنسدان
ایک نئی تحقیق کے بعد سائنس دانوں نے ایسے ”اینٹی سولر“ پینل بنا لئے ہیں جو رات کے وقت زمین کی گرمی سے بجلی بنائیں گے اور صاف توانائی کا ایک ذریعہ بنیں گے۔ سولر پینل سورج کی روشنی سے ٹھنڈے ہوتے ہیں اور اس سے بجلی بناتے ہیں جب کہ ”اینٹی سولر“ پینل رات کے وقت زمین سے نکلنے والی ریڈی ایشن سے ٹھنڈے ہوتے ہیں اور اس سے بجلی بناتے ہیں۔ اس تحقیق کے مطابق خصوصی طور پر ٹھنڈے کئے گئے پینلز اپنے ارد گرد معمولی سی بھی توانائی کو کھینچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جسے وہ بجلی میں بدل دیتے ہیں۔ سولر پینلز سے بننے والی بجلی رات کو استعمال کرنے کے لئے سٹوریج پر بہت سا خرچہ آتا ہے۔ اس کے مقابلے میں سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ رات کو زمین کی ریڈی ایشن یعنی تابکاری سے توانائی حاصل کر کے اخراجات کم کئے جا سکتے ہیں۔ یہ ٹیکنالوجی ایسے ممالک میں بھی بہت کارآمد ہو سکتی ہے جہاں دن کے اکثر حصے میں سورج کی روشنی نہیں رہتی یا قطب شمالی کے قریب واقع ممالک جہاں آدھا سال رات رہتی ہے۔ اس تحقیق میں شامل ایک سائنس دان لنگلنگ فئیر کا کہنا ہے کہ وہ اس نظام کی مدد سے چلتی ہوئی کاروں سے ضائع ہونے والی توانائی کو بھی بچا کر اس سے بجلی بنا سکتے ہیں۔ محققین کا کہنا ہے کہ اینٹی سولر پینل عموماً سورج سے بجلی بنانے والے سولر پینلز کی ایک چوتھائی بجلی بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ نئی تحقیق پیر کو 'آپٹک ایکسپریس' نامی سائنسی جریدے میں شائع ہوئی ہے۔ سٹین فورڈ یونیورسٹی اور ٹیکنو اسرائیل انسٹی ٹیوٹ کے محققین کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ نتائج تھرمو الیکٹرک جنریٹر میں بہتری پیدا کر کے حاصل کئے ہیں۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اب یہ پینل فی مربع میٹر 2.2 واٹ توانائی پیدا کرتے ہیں۔ یہ پرانے پینلز کے مقابلے میں 120 فی صد اضافی بجلی ہے۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ابھی تجربات جاری ہیں جبکہ اس ٹیکنالوجی کے حصول میں مارکیٹ میں موجود پرزے اور متعلقہ ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ہے۔ وی اواے کے مطابق سائنس دان اس نئی تحقیق کو صاف توانائی کی ضروریات پوری کرنے میں معاون قرار دے رہے ہیں۔