تمام بیماریوں کے وائرس کی کمزوری پکڑے جانے کادعویٰ

9 months ago


انسانیت کووائرس سے پاک کرنے کی خوشخبری جلدملنے کے امکانات روشن
امریکہ کے سائنسدانوں نے وائرس کی کمزوری کاپتہ لگانے کادعویٰ کیاہے جس سے یہ امیدپیداہوگئی ہے کہ تمام بیماریوں کاباعث بننے والے وائرسوں کاعلاج ممکن ہوسکے گا۔امریکی ریاست میساچوسٹس کے جنرل ہسپتال کے محققین نے یہ بھی امیدظاہر کی ہے کہ اب صرف ایک ویکسین تمام وائرسوں کے لئے کارگرثابت ہوگی۔ان کاکہناہے کہ ویکسین کی تیاری میں ابھی وقت لگ سکتاہے۔امریکہ میں یہ پیشرفت ایسے وقت میں ہوئی جب چین میں کروناوائرس کے باعث ایک ہزارسے زائدافرادجاں بحق اورپنتالیس ہزارسے زائدبیمارہیں اوراس وائرس کے باعث چین حقیقی طورپردنیاسے کٹ چکاہے۔ محققین کاکہناہے کہ ابھی تمام وائرس پرنئی سامنے آنے والی تحقیق کے ٹیسٹ کئے جائیں گے اس لئے ابھی کافی وقت درکارہے۔محققین کی ٹیم سربراہ کیٹ جیفری کاکہناہے کہ ان کی تحقیق کامقصدیہ ہے کہ انسان کاقوت مدافعت کانظام ایک ہی ویکسین پرکیسے ردعمل دے گا۔وائرس کاسب سے کمزورترین حصہ اس کے ساتھ جڑی ہوئی پروٹین اے جی او4کوقراردیاجارہاہے جس کے ممالی سیل میں منفرداثرات دیکھے گئے ہیں۔چوہوں پرتحقیق کے دوران محققین کے سامنے یہ بات آئی ہے کہ اے جی او4کی کمی والے سیل نزلہ جیسے وائرس کے لئے سب سے زیادہ حساس تھے۔ان کاکہناتھاکہ جب ہم انسانی جسم کواے جی او4کادفاعی نظام دیں گے تواس کے بعدوائرس انسانی قوت مدافعت پرحملہ کرنے کے قابل نہیں رہے گا۔انہوں نے کہاکہ اگلہ مرحلہ میں یہ دیکھناہوگاکہ اس طریقے سے کتنے قسم کے وائرس کے خلاف مدافعت پیداکی جاسکتی ہے پھرہم یہ تلاش کریں گے کہ کیسے اے جی او 4کوجسم میں بڑھایا جائے ۔اس سلسلے میں ابھی کافی کام کرناباقی ہے جس کے بعدانسانیت کویہ ا چھی خبرمل سکتی ہے کہ ہلاکت خیز وائرس سے انسان کونجات مل گئی ہے۔
شیئر کریں



یہ بھی پڑھیے


چین نے سکس(6) جی ٹیکنالوجی ٹیسٹ کرنے کیلئے سیارہ خلاءمیں بھیج دیا
ناساچاندپر4جی ٹاورزلگانے کیلئے نوکیاکی مددکرے گا
جاپان میں کوروناوائرس ختم کرنے والاآلہ تیار

پاکستان میں کورونا سے بچائو کی ویکسن کی آزمائش شروع

2 months ago


آزمائشی مرحلے میں8 سے 10 ہزار پاکستانی ہوں گے،وفاقی وزیراسدعمر

پاکستان میں کورونا سے بچائو کی ویکسن کی آزمائش شروع ہو گئی ہے۔وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ویکسن کا کلینکل ٹرائل صحت کے نظام میں بہتری کے لئے بھی اہم ہے۔انہوںنے بتایا کہ ویکسین کا کلینکل ٹرائل چین کے تعاون سے شروع کیا گیاہے، دوسرے مرحلے میں 508 افراد پر ٹرائل کیا گیا۔ تیسرے مرحلے میں 8 سے 10 ہزار افراد پر ویکسن کا ٹرائل ہو گا۔

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ پاکستان میں کورونا ویکسین کے تیسرے مرحلے کا آزمائشی آغاز ہو گیا ہے۔ کورونا ویکسین چینی کمپنی نے تیار کی ہے، ویکسین ٹرائل میں 7 ممالک کے 40 ہزار افراد رضاکارانہ شریک ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ آزمائشی مرحلے میں 8 سے 10 ہزار پاکستانی ہوں گے، ٹیسٹ کے ابتدائی نتائج 4 سے 6 ماہ میں متوقع ہیں۔



1939میں چھٹی کے لئے لکھی گئی درخواست برآمد

2 months ago


طالبعلم کانام راج سنگھ،تعلق سرگودھاسے تھا

سرگودھاکی تحصیل ساہی وال میں ایک گھرکی مرمت کے دوران 80سال پرانی ہاتھ سے لکھی گئی درخواست نکل آئی۔درخواست چھٹی جماعت کے طالبعلم را ج سنگھ کی طرف سے لکھی گئی ہے جس میں بیماری کی وجہ سے رخصت مانگی گئی ہے۔

مذکورہ تاریخی مکان کوحالیہ بارشوں کی وجہ سے کافی نقصان پہنچاتھااورمکان کی دیوارکاایک حصہ گر گیا تھا ۔ دیوارکی دوبارہ تعمیرکے لئے جب کام آغازکیاگیاتواس میں سے ایک صفحہ برآمدہواجس پر چھٹی کے لئے درخواست لکھی ہوئی تھی۔درخواست اس وقت کے ہیڈماسٹرگورنمنٹ ہائی سکول کے نام لکھی گئی تھی جس پر29جون1939کی تاریخ درج ہے۔



کروناوائرس:چین کی تیار کردہ ویکسین دو ماہ میں دستیاب ہونے کاامکان

2 months ago


چار ویکسینز کے انسانوں پر تجربات آخری مراحل میں ہیں

چین کے سینٹرفارڈیزیزکنٹرول اینڈ پریوینشن(سی ڈی سی) کے حکام نے کہا ہے کہ کرونا وائرس سے بچائوکے لئے ملک میں بنائی جانے والی ویکسین اس سال کے آخرمیں عوامی سطح پرملنا شروع ہو جائے گی۔


چین میں کرونا وائرس کی چار ویکسینز کے انسانوں پر تجربات آخری مراحل میں ہیں۔ ان میں سے تین ویکسینز ایسی ہیں جو جولائی میں خصوصی طبی رضاکاروں کے لئے ہنگامی بنیاد پر شروع کئے گئے پروگرام کے تحت دی گئی ہیں۔سی ڈی سی کی سربراہ اور بائیو سیفٹی کی ماہر گویڑن وو کا کہنا تھا کہ ویکسین کے تیسرے مرحلے کے کلینکل ٹرائل حوصلہ افزا رہے ہیں اور نومبر یا دسمبر میں عوامی استعمال کے لئے ان کی فراہمی شروع ہو سکتی ہے۔


گویڑن وو کا کہنا تھا کہ انہوں نے خود بھی اپریل میں ویکسین استعمال کی تھی اور اس کے کسی قسم کے منفی اثرات دیکھنے میں نہیں آئے تھے تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ انہوں نے کون سی ویکسین استعمال کی تھی۔چین کی سرکاری دوا ساز کمپنی چائنہ نیشنل فارماسوٹیکل گروپ (سائنوفارم) اور امریکہ میں رجسٹرڈ چینی کمپنی سینووک بائیوٹیک نیشنل ایمرجنسی پروگرام کے تحت مشترکہ طور پر تین ویکسینز کی تیاری پر کام کر رہی ہیں۔


چوتھی ویکسین ”کین سینو بائیولوجکس“ نے تیار کی ہے جسے جون میں چین کے فوجیوں پر استعمال کرنے کی منظوری دی گئی تھی۔ دوا ساز کمپنی سائنو فارم نے جولائی میں کہا تھا کہ تیسرے مرحلے کے تجربات مکمل ہونے کے بعد کرونا وائرس سے بچائو کی ویکسین اس سال کے آخر تک دستیاب ہو جائے گی۔خیال رہے کہ کرونا وائرس سے دنیا بھر میں 9 لاکھ 25 ہزار سے زائد اموات ہو چکی ہیں۔ اسی وجہ سے ویکسین بنانے والے بین الاقوامی اداروں میں عالمی وبا کی ویکیسن جلد از جلد بنانے کی دوڑ لگی ہوئی ہے ۔

گزشتہ ہفتے برطانیہ میں کرونا وائرس کی ویکسین کے آخری مرحلے کے تجربات عارضی طور پر معطل کر دیئے گئے تھے جس کی وجہ یہ بتائی گئی تھی کہ جن رضاکاروں کو آزمائشی طور پر ویکسین دی جارہی تھی ان میں سے ایک شخص بیمار ہو گیا تھا۔وی اواے کے مطابق آکسفورڈ یونیورسٹی اور ایک دوا ساز کمپنی”آسٹرا زینیکا“ مشترکہ طور پر کرونا وائرس کی ویکسین تیارکرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ آسٹرا زینیکا کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ کرونا وائرس ویکسین کے ٹرائلز میں رضاکارانہ طورپر وقفہ کیا گیا ہے تاکہ ٹرائل کے دوران سامنے آنے والی بیماری کی چھان بین کی جا سکے اور ویکسین کی آزمائش کے معیار کو برقرار رکھا جا سکے۔