رات کے وقت بجلی بنانے والے اینٹی سولرپینل تیار

3 months ago


پرانے پینلز کے مقابلے میں 120 فی صد اضافی بجلی بناتے ہیں،سائنسدان
ایک نئی تحقیق کے بعد سائنس دانوں نے ایسے ”اینٹی سولر“ پینل بنا لئے ہیں جو رات کے وقت زمین کی گرمی سے بجلی بنائیں گے اور صاف توانائی کا ایک ذریعہ بنیں گے۔ سولر پینل سورج کی روشنی سے ٹھنڈے ہوتے ہیں اور اس سے بجلی بناتے ہیں جب کہ ”اینٹی سولر“ پینل رات کے وقت زمین سے نکلنے والی ریڈی ایشن سے ٹھنڈے ہوتے ہیں اور اس سے بجلی بناتے ہیں۔ اس تحقیق کے مطابق خصوصی طور پر ٹھنڈے کئے گئے پینلز اپنے ارد گرد معمولی سی بھی توانائی کو کھینچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جسے وہ بجلی میں بدل دیتے ہیں۔ سولر پینلز سے بننے والی بجلی رات کو استعمال کرنے کے لئے سٹوریج پر بہت سا خرچہ آتا ہے۔ اس کے مقابلے میں سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ رات کو زمین کی ریڈی ایشن یعنی تابکاری سے توانائی حاصل کر کے اخراجات کم کئے جا سکتے ہیں۔ یہ ٹیکنالوجی ایسے ممالک میں بھی بہت کارآمد ہو سکتی ہے جہاں دن کے اکثر حصے میں سورج کی روشنی نہیں رہتی یا قطب شمالی کے قریب واقع ممالک جہاں آدھا سال رات رہتی ہے۔ اس تحقیق میں شامل ایک سائنس دان لنگلنگ فئیر کا کہنا ہے کہ وہ اس نظام کی مدد سے چلتی ہوئی کاروں سے ضائع ہونے والی توانائی کو بھی بچا کر اس سے بجلی بنا سکتے ہیں۔ محققین کا کہنا ہے کہ اینٹی سولر پینل عموماً سورج سے بجلی بنانے والے سولر پینلز کی ایک چوتھائی بجلی بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ نئی تحقیق پیر کو 'آپٹک ایکسپریس' نامی سائنسی جریدے میں شائع ہوئی ہے۔ سٹین فورڈ یونیورسٹی اور ٹیکنو اسرائیل انسٹی ٹیوٹ کے محققین کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ نتائج تھرمو الیکٹرک جنریٹر میں بہتری پیدا کر کے حاصل کئے ہیں۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اب یہ پینل فی مربع میٹر 2.2 واٹ توانائی پیدا کرتے ہیں۔ یہ پرانے پینلز کے مقابلے میں 120 فی صد اضافی بجلی ہے۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ابھی تجربات جاری ہیں جبکہ اس ٹیکنالوجی کے حصول میں مارکیٹ میں موجود پرزے اور متعلقہ ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ہے۔ وی اواے کے مطابق سائنس دان اس نئی تحقیق کو صاف توانائی کی ضروریات پوری کرنے میں معاون قرار دے رہے ہیں۔
شیئر کریں



یہ بھی پڑھیے


ماحول کے لئے نقصان دہ گیسوں کا نیا ریکارڈ
چین نے سکس(6) جی ٹیکنالوجی ٹیسٹ کرنے کیلئے سیارہ خلاءمیں بھیج دیا
ناساچاندپر4جی ٹاورزلگانے کیلئے نوکیاکی مددکرے گا

جاپان میں کوروناوائرس ختم کرنے والاآلہ تیار

2 months ago


قیمت 2 ہزار 860 ڈالر، صرف صحت کے ادارے آڈر دے سکتے ہیں

روشنی کے آلات کی جاپانی کمپنی اوشیو نے انسان کو نقصان پہنچائے بغیر کورونا وائرس کووِڈ19 کو ختم کرنے والی الٹرا وائلٹ شعاعیں پھیلانے والا آلہ تیار کرلیا۔

کولمبیا یونیورسٹی کے تعاون سے تیار کردہ کئیر222 نامی یہ آلہ 254 نینو میٹر لہروں والی UV شعاعیں پھیلانے والے روایتی آلات کے برعکس 222 نینو میٹر UV شعاعیں پھیلاتا ہے۔انسان کو نقصان پہنچائے بغیر جراثیم کو مارنے والا یہ آلہ رش والی بسوں، ٹرینوں، لفٹوں اور آفسوں کو جراثیم سے پاک کرنے کے لئے استعمال کیا جائے گا۔
ٹی آرٹی کے مطابق کئیر 222 نامی یہ آلہ مطلوبہ جگہ کی چھت سے لٹکایا جاتا ہے اور اڑھائی میٹر تک کے فاصلے پر ہوا میں موجود جراثیم کو 7 منٹ کے اندر 99 فیصد تک ختم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔کویوڈو خبر رساں ایجنسی کے مطابق 222 نینو میٹر UV شعاعوں کے انسانی صحت کے لئے م±ضر نہ ہونے کی غیر جانبدارانہ ٹیسٹ کے ساتھ ہیروشیما یونیورسٹی کی طرف سے تصدیق کی گئی ہے۔
3 لاکھ ین تقریباً 2 ہزار 860 ڈالر کے اور 1.2 کلوگرام وزنی کئیر 222 آلے کے لئے فی الحال صرف صحت کے اداروں کی طرف سے آڈر وصول کئے جا رہے ہیں۔



پاکستان میں کورونا سے بچائو کی ویکسن کی آزمائش شروع

2 months ago


آزمائشی مرحلے میں8 سے 10 ہزار پاکستانی ہوں گے،وفاقی وزیراسدعمر

پاکستان میں کورونا سے بچائو کی ویکسن کی آزمائش شروع ہو گئی ہے۔وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ویکسن کا کلینکل ٹرائل صحت کے نظام میں بہتری کے لئے بھی اہم ہے۔انہوںنے بتایا کہ ویکسین کا کلینکل ٹرائل چین کے تعاون سے شروع کیا گیاہے، دوسرے مرحلے میں 508 افراد پر ٹرائل کیا گیا۔ تیسرے مرحلے میں 8 سے 10 ہزار افراد پر ویکسن کا ٹرائل ہو گا۔

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ پاکستان میں کورونا ویکسین کے تیسرے مرحلے کا آزمائشی آغاز ہو گیا ہے۔ کورونا ویکسین چینی کمپنی نے تیار کی ہے، ویکسین ٹرائل میں 7 ممالک کے 40 ہزار افراد رضاکارانہ شریک ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ آزمائشی مرحلے میں 8 سے 10 ہزار پاکستانی ہوں گے، ٹیسٹ کے ابتدائی نتائج 4 سے 6 ماہ میں متوقع ہیں۔



1939میں چھٹی کے لئے لکھی گئی درخواست برآمد

2 months ago


طالبعلم کانام راج سنگھ،تعلق سرگودھاسے تھا

سرگودھاکی تحصیل ساہی وال میں ایک گھرکی مرمت کے دوران 80سال پرانی ہاتھ سے لکھی گئی درخواست نکل آئی۔درخواست چھٹی جماعت کے طالبعلم را ج سنگھ کی طرف سے لکھی گئی ہے جس میں بیماری کی وجہ سے رخصت مانگی گئی ہے۔

مذکورہ تاریخی مکان کوحالیہ بارشوں کی وجہ سے کافی نقصان پہنچاتھااورمکان کی دیوارکاایک حصہ گر گیا تھا ۔ دیوارکی دوبارہ تعمیرکے لئے جب کام آغازکیاگیاتواس میں سے ایک صفحہ برآمدہواجس پر چھٹی کے لئے درخواست لکھی ہوئی تھی۔درخواست اس وقت کے ہیڈماسٹرگورنمنٹ ہائی سکول کے نام لکھی گئی تھی جس پر29جون1939کی تاریخ درج ہے۔