کوروناکاپھیلائو: صارفین اپنے موبائل صاف رکھنے میں مصروف

8 months ago


الیکٹرانک مصنوعات کی صفائی سے متعلق ہدایات موجود
کورونا وائرس کے پھیلائو کے تناظر میں صارفین اپنے موبائل فون کو صاف ستھرا رکھنے کی کوشش میں ہیں تاکہ کووِنڈ 19 بیماری سے بچ سکیں مگر ایپل کے مطابق الیکٹرانک مصنوعات کی غلط طریقے سے صفائی ان مصنوعات کو خراب کر سکتی ہے۔ ایپل کی ویب سائٹ پر الیکٹرانک مصنوعات کی صفائی سے متعلق ہدایات موجود تھیںجن میں صفائی کے وقت ان آلات کا چارجنگ پر نہ ہونا اور بند ہونا شامل ہے جبکہ بہت سے مائعات کا صفائی کےلئے ان مصنوعات پر استعمال بھی منع ہے مگر اب ان ہدایات میں آئی فونز اور دیگر ایپل پروڈکٹس کو ڈس انفیکٹ کرنے سے متعلق اضافی معلومات درج کی گئی ہیں۔ ان ہدایات کے مطابق ستر فیصد آئیسوپروپیل الکوحل یا کلوروکس ڈس انفیکٹنگ وائپس کا نرمی کے ساتھ استعمال کرتے ہوئے آپ اپنی ایپل پروڈکٹ کو صاف کر سکتے ہیں، مثلاکی بورڈ اور دیگر ایکسٹرنل سطحوں کی۔ مزید لکھا ہے بلیچ کا استعمال کسی صورت نہ کریں۔ مصنوعات میں سپیکرز، ہیڈسیٹ اور چارجنگ کے مقامات کو نمی سے بچائیں اور صفائی کی مائعات کو ایپل مصنوعات پر استعمال نہ کریں اور عام کپڑے یا چمڑے کی سطحوں کو بھی اپیل مصنوعات پر مت ملیں۔ ایپل کا کہنا ہے کہ صارفین کے ہاتھوں کی چکنائی سے تحفظ کے لیے آئی فون اور آئی پیڈ جیسی ٹچ سکرین مصنوعات کی سطح پر ایک خاص کوٹنگ ہوتی ہے اور صفائی کے لیے غلط مواد کا استعمال اس کوٹنگ کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ یہ بات اہم ہے کہ کورونا وائرس سے تحفظ کےلئے ماہرین ہاتھوں کی بار بار صفائی کی ہدایت کرتے ہیں جبکہ موبائل فونز کی سطح اس وائرس کے پھیلائو میں کردار ادا کر سکتی ہے۔ ایپل ہدایات کے مطابق صرف نرم کپڑے کو صفائی کے لیے استعمال کریں اور کھردرا کپڑا، تولیا، پیپر ٹاول یا دیگر ایسے مواد کے استعمال سے اجتناب برتیں۔ ایپل کا کہنا ہے کہ صفائی کے لیے ایسا کوئی بھی مائع استعمال نہ کیا جائے جو ایپل کی ہدایات کے برخلاف ہو۔ اس ادارے کا مزید کہنا ہے کہ ایپل مصنوعات پر براہ راست صفائی کے مائعات کا چھڑکائو بھی کسی صورت نہ کیا جائے۔
شیئر کریں



یہ بھی پڑھیے


ماحول کے لئے نقصان دہ گیسوں کا نیا ریکارڈ
چین نے سکس(6) جی ٹیکنالوجی ٹیسٹ کرنے کیلئے سیارہ خلاءمیں بھیج دیا
ناساچاندپر4جی ٹاورزلگانے کیلئے نوکیاکی مددکرے گا

جاپان میں کوروناوائرس ختم کرنے والاآلہ تیار

2 months ago


قیمت 2 ہزار 860 ڈالر، صرف صحت کے ادارے آڈر دے سکتے ہیں

روشنی کے آلات کی جاپانی کمپنی اوشیو نے انسان کو نقصان پہنچائے بغیر کورونا وائرس کووِڈ19 کو ختم کرنے والی الٹرا وائلٹ شعاعیں پھیلانے والا آلہ تیار کرلیا۔

کولمبیا یونیورسٹی کے تعاون سے تیار کردہ کئیر222 نامی یہ آلہ 254 نینو میٹر لہروں والی UV شعاعیں پھیلانے والے روایتی آلات کے برعکس 222 نینو میٹر UV شعاعیں پھیلاتا ہے۔انسان کو نقصان پہنچائے بغیر جراثیم کو مارنے والا یہ آلہ رش والی بسوں، ٹرینوں، لفٹوں اور آفسوں کو جراثیم سے پاک کرنے کے لئے استعمال کیا جائے گا۔
ٹی آرٹی کے مطابق کئیر 222 نامی یہ آلہ مطلوبہ جگہ کی چھت سے لٹکایا جاتا ہے اور اڑھائی میٹر تک کے فاصلے پر ہوا میں موجود جراثیم کو 7 منٹ کے اندر 99 فیصد تک ختم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔کویوڈو خبر رساں ایجنسی کے مطابق 222 نینو میٹر UV شعاعوں کے انسانی صحت کے لئے م±ضر نہ ہونے کی غیر جانبدارانہ ٹیسٹ کے ساتھ ہیروشیما یونیورسٹی کی طرف سے تصدیق کی گئی ہے۔
3 لاکھ ین تقریباً 2 ہزار 860 ڈالر کے اور 1.2 کلوگرام وزنی کئیر 222 آلے کے لئے فی الحال صرف صحت کے اداروں کی طرف سے آڈر وصول کئے جا رہے ہیں۔



پاکستان میں کورونا سے بچائو کی ویکسن کی آزمائش شروع

2 months ago


آزمائشی مرحلے میں8 سے 10 ہزار پاکستانی ہوں گے،وفاقی وزیراسدعمر

پاکستان میں کورونا سے بچائو کی ویکسن کی آزمائش شروع ہو گئی ہے۔وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ویکسن کا کلینکل ٹرائل صحت کے نظام میں بہتری کے لئے بھی اہم ہے۔انہوںنے بتایا کہ ویکسین کا کلینکل ٹرائل چین کے تعاون سے شروع کیا گیاہے، دوسرے مرحلے میں 508 افراد پر ٹرائل کیا گیا۔ تیسرے مرحلے میں 8 سے 10 ہزار افراد پر ویکسن کا ٹرائل ہو گا۔

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ پاکستان میں کورونا ویکسین کے تیسرے مرحلے کا آزمائشی آغاز ہو گیا ہے۔ کورونا ویکسین چینی کمپنی نے تیار کی ہے، ویکسین ٹرائل میں 7 ممالک کے 40 ہزار افراد رضاکارانہ شریک ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ آزمائشی مرحلے میں 8 سے 10 ہزار پاکستانی ہوں گے، ٹیسٹ کے ابتدائی نتائج 4 سے 6 ماہ میں متوقع ہیں۔



1939میں چھٹی کے لئے لکھی گئی درخواست برآمد

2 months ago


طالبعلم کانام راج سنگھ،تعلق سرگودھاسے تھا

سرگودھاکی تحصیل ساہی وال میں ایک گھرکی مرمت کے دوران 80سال پرانی ہاتھ سے لکھی گئی درخواست نکل آئی۔درخواست چھٹی جماعت کے طالبعلم را ج سنگھ کی طرف سے لکھی گئی ہے جس میں بیماری کی وجہ سے رخصت مانگی گئی ہے۔

مذکورہ تاریخی مکان کوحالیہ بارشوں کی وجہ سے کافی نقصان پہنچاتھااورمکان کی دیوارکاایک حصہ گر گیا تھا ۔ دیوارکی دوبارہ تعمیرکے لئے جب کام آغازکیاگیاتواس میں سے ایک صفحہ برآمدہواجس پر چھٹی کے لئے درخواست لکھی ہوئی تھی۔درخواست اس وقت کے ہیڈماسٹرگورنمنٹ ہائی سکول کے نام لکھی گئی تھی جس پر29جون1939کی تاریخ درج ہے۔