یہ نہ رہے توزندگی کیسے چلے گی؟

8 months ago


حشرات،حیوانات،نباتات کوبچانابہت ضروری ہے
زمین پر پائے جانے والے تمام حیوانات اور نباتات اہم ہیں۔ہم ان میں سے کسی بھی جانور اور پودے کو کھونے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ اس میں شہدکی مکھیاں،چیونٹیاں،بندر،کیچوے،چمگادڑیں، مونگااور پھپھوندی خاص اہمیت کے حامل ہیں۔یہ سب پولینیشن،عمل تولید،ایکوسسٹم،بیج پھیلانے اورنئے پودے اگانے میں مددگارہوتے ہیں۔ شہد کی مکھیاں کتنی ضروری ہیں۔ پودوں کی کئی انواع کی زندگی اور نظام فطرت کو تندرست رکھنے کےلئے یہ شہد کی مکھیاں بہت ہی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ ہم جو اجناس کھاتے ہیں اس کا بڑاحصہ بھی انہی مکھیوں کے مرہون منت ہے۔ چیونٹیاں جن کو آفت سمجھتے ہیں لیکن چونٹیاں ایک ایسا کیڑا ہیں، جسے کم تر نہیں سمجھا جا سکتا۔ یہ انٹاکارٹیکا یا قطب جنوبی کے علاوہ تمام براعظموں میں پائی جاتی ہیں۔ ان کے مختلف کام ہیں، مٹی میں غذائیت کی ایک سے دوسری جگہ منتقلی یا گردش، بیجوں کو پھیلانا اور دیگر کیڑے مکوڑوں کو کھانا۔ ماہرین آج کل چونٹیوں کی بستیوں کے ماحولیاتی تبدیلیوں پر پڑنے والے اثرات پر تحقیق کر رہے ہیں۔ حیاتیاتی طور پر انسانوں سے قریب ترین بندر ہیں۔ یہ بارانی جنگلات میں ایک باغبان کے طور پر بیج پھیلانے اور نئے پودوں کے لیے جگہ بنانے کا بھی کام کرتے ہیں۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ وہ جنگل موجود رہیںتو ہمیں اس جانور کو تحفظ فراہم کرنا ہو گا۔ کیچوے زمین کے حیاتیاتی نظام کےلئے اتنے اہم ہیں۔ یہ چھوٹا سا رینگنے والا کیڑا زمین کو زرخیز بنانے اور نامیاتی مواد کو دوبارہ قابل استعمال بنانے یا ری سائیکل کرنے میں مصروف رہتا ہے۔ زمین میں تیزابیت بڑھنے کی وجہ سے جن کے ناپید ہونے کا خطرہ ہے۔ کیلے، بیوباب کے درختوں اور ٹکیلا میں کیا چیز مشترک ہے؟ یہ سب پولینیشن یا عمل تولید کےلئے چمگادڑوں پر انحصار کرتے ہیں۔ پوری دنیا میں چمگادڑوں کی مختلف اقسام نظام فطرت میں کچھ خاص قسم کی فصلوں کی افزائش کو یقینی بناتی ہیں۔ چمگادڑوں کی صحت مند آبادی سے لاکھوں ڈالر کی کیڑے مار ادویات کو بچایا جا سکتا ہے اور یہ ایک پائیدار ماحولیاتی نظام کے اہم علامت ہیں۔ ایک اندازہ کے مطابق مونگے کی چٹانیں آبی حیات کے ایک تہائی حصے کا گھر ہیں اور یہ زمین کا بہترین ایکوسسٹم ہیں۔ اگر مونگے کی چٹانیں ختم ہو گئیں تو اس کے ساتھ سمندری نوع کی بہت سی اقسام بھی ناپید ہو جائیں گی۔ پھپھوندی کے بغیر ہم شاید زندہ ہی نہیں رہ سکتے۔ یہ پانی، مٹی اور ہوا سمیت ہر جگہ موجود ہے۔ بنیادی طور پر دنیا کے غذائی اجزا ءکو دوبارہ سے قابل استعمال بناتی یا ری سائیکل کرتی ہے۔ یہ پارا اور پولی یوریتھین جیسی مضر صحت دھاتوں کو بھی جذب کر لیتی ہے۔ اسی طرح سمندری کائی زمین کی دو تہائی آکسیجن پیدا کرتی ہے اور اس کے بغیر فضا میں موجود آکسیجن کی مقدار بہت ہی کم ہو جائے گی، جس سے ماحول انتہائی خراب ہو جائے گا۔ یہ آبی ماحولیاتی نظام میں خوراک کا ایک بنیادی ذریعہ بھی ہے۔
شیئر کریں



یہ بھی پڑھیے


ماحول کے لئے نقصان دہ گیسوں کا نیا ریکارڈ
چین نے سکس(6) جی ٹیکنالوجی ٹیسٹ کرنے کیلئے سیارہ خلاءمیں بھیج دیا
ناساچاندپر4جی ٹاورزلگانے کیلئے نوکیاکی مددکرے گا

جاپان میں کوروناوائرس ختم کرنے والاآلہ تیار

2 months ago


قیمت 2 ہزار 860 ڈالر، صرف صحت کے ادارے آڈر دے سکتے ہیں

روشنی کے آلات کی جاپانی کمپنی اوشیو نے انسان کو نقصان پہنچائے بغیر کورونا وائرس کووِڈ19 کو ختم کرنے والی الٹرا وائلٹ شعاعیں پھیلانے والا آلہ تیار کرلیا۔

کولمبیا یونیورسٹی کے تعاون سے تیار کردہ کئیر222 نامی یہ آلہ 254 نینو میٹر لہروں والی UV شعاعیں پھیلانے والے روایتی آلات کے برعکس 222 نینو میٹر UV شعاعیں پھیلاتا ہے۔انسان کو نقصان پہنچائے بغیر جراثیم کو مارنے والا یہ آلہ رش والی بسوں، ٹرینوں، لفٹوں اور آفسوں کو جراثیم سے پاک کرنے کے لئے استعمال کیا جائے گا۔
ٹی آرٹی کے مطابق کئیر 222 نامی یہ آلہ مطلوبہ جگہ کی چھت سے لٹکایا جاتا ہے اور اڑھائی میٹر تک کے فاصلے پر ہوا میں موجود جراثیم کو 7 منٹ کے اندر 99 فیصد تک ختم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔کویوڈو خبر رساں ایجنسی کے مطابق 222 نینو میٹر UV شعاعوں کے انسانی صحت کے لئے م±ضر نہ ہونے کی غیر جانبدارانہ ٹیسٹ کے ساتھ ہیروشیما یونیورسٹی کی طرف سے تصدیق کی گئی ہے۔
3 لاکھ ین تقریباً 2 ہزار 860 ڈالر کے اور 1.2 کلوگرام وزنی کئیر 222 آلے کے لئے فی الحال صرف صحت کے اداروں کی طرف سے آڈر وصول کئے جا رہے ہیں۔



پاکستان میں کورونا سے بچائو کی ویکسن کی آزمائش شروع

2 months ago


آزمائشی مرحلے میں8 سے 10 ہزار پاکستانی ہوں گے،وفاقی وزیراسدعمر

پاکستان میں کورونا سے بچائو کی ویکسن کی آزمائش شروع ہو گئی ہے۔وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ویکسن کا کلینکل ٹرائل صحت کے نظام میں بہتری کے لئے بھی اہم ہے۔انہوںنے بتایا کہ ویکسین کا کلینکل ٹرائل چین کے تعاون سے شروع کیا گیاہے، دوسرے مرحلے میں 508 افراد پر ٹرائل کیا گیا۔ تیسرے مرحلے میں 8 سے 10 ہزار افراد پر ویکسن کا ٹرائل ہو گا۔

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ پاکستان میں کورونا ویکسین کے تیسرے مرحلے کا آزمائشی آغاز ہو گیا ہے۔ کورونا ویکسین چینی کمپنی نے تیار کی ہے، ویکسین ٹرائل میں 7 ممالک کے 40 ہزار افراد رضاکارانہ شریک ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ آزمائشی مرحلے میں 8 سے 10 ہزار پاکستانی ہوں گے، ٹیسٹ کے ابتدائی نتائج 4 سے 6 ماہ میں متوقع ہیں۔



1939میں چھٹی کے لئے لکھی گئی درخواست برآمد

2 months ago


طالبعلم کانام راج سنگھ،تعلق سرگودھاسے تھا

سرگودھاکی تحصیل ساہی وال میں ایک گھرکی مرمت کے دوران 80سال پرانی ہاتھ سے لکھی گئی درخواست نکل آئی۔درخواست چھٹی جماعت کے طالبعلم را ج سنگھ کی طرف سے لکھی گئی ہے جس میں بیماری کی وجہ سے رخصت مانگی گئی ہے۔

مذکورہ تاریخی مکان کوحالیہ بارشوں کی وجہ سے کافی نقصان پہنچاتھااورمکان کی دیوارکاایک حصہ گر گیا تھا ۔ دیوارکی دوبارہ تعمیرکے لئے جب کام آغازکیاگیاتواس میں سے ایک صفحہ برآمدہواجس پر چھٹی کے لئے درخواست لکھی ہوئی تھی۔درخواست اس وقت کے ہیڈماسٹرگورنمنٹ ہائی سکول کے نام لکھی گئی تھی جس پر29جون1939کی تاریخ درج ہے۔