کرکٹرعمراکمل کی سزامیں کمی،ڈیڑھ سال رہ گئی

1 week ago


وہ بکی کی جانب سے میچ فکسنگ کی پیشکش کی اطلاع بروقت پی سی بی کونہیں دے سکے تھے

کرکٹرعمراکمل کی سزامیں کمی کردی گئی۔عمراکمل کی تین سالہ پابندی کیخلاف اپیل کا فیصلہ سنا یا گیا جس کے مطابق ان کی سزا میں ڈیڑھ سال کی کمی کردی گئی ہے۔ آزاد ایڈجیوڈیکٹر جسٹس ریٹائرڈ فقیر محمد کھوکھر نے عمر اکمل کی اپیل پر 13 جولائی کوہونے والی واحد سماعت میں فیصلہ محفوظ کیا تھا جس کا فیصلہ آج سنایا گیا ۔ عمر اکمل کی اپیل پر آزاد ایڈجیوڈیکٹر نے انہیں ریلیف دیا اور تین سال کی سزا کم کرکے ڈیڑھ سال کردی ۔ فیصلے پر عمر اکمل کے وکیل نے کہا آزاد ایڈجیوڈیکٹر کے شکر گزار ہیں، ہمارا موقف مانا گیا اور سزا ڈیڑھ سال کر دی گئی۔انہوں نے مزید کہا کہ جو امید کر رہے تھے ایسا فیصلہ نہیں۔ یاد رہے20 فروری کو پاکستان کرکٹ بورڈ نے اینٹی کرپشن کوڈ کی دفعہ 4.7.1 کے تحت عمر اکمل کو فوری طور پر معطل کر دیا تھا اور اینٹی کرپشن یونٹ کی جانب سے جاری تحقیقات شروع کی گئی تھیں۔ اس معطلی کی وجہ سے عمر اکمل پاکستان سپر لیگ 5 میں بھی حصہ نہیں لے سکے تھے۔ یہ خبریں سامنے آئیں کہ عمر اکمل کو بکی نے میچ فکسنگ کی پیشکش کی تاہم وہ اس کی اطلاع بروقت پی سی بی کو دینے میں ناکام رہے۔ عمر اکمل کے فون کا ڈیٹا پی سی بی کے اینٹی کرپشن یونٹ نے اپنے پاس رکھ لیا اور عمر اکمل کو طلب کرکے ان کے دونوں فونز قبضے میں لے لئے۔ ریکارڈ کے مطابق پی ایس ایل 2020سے پہلے بکی نے عمر اکمل سے رابطہ کیا اور انہیں فکسنگ کی پیشکش کی۔ ان شواہد کے ہاتھ لگنے کے بعد پی سی بی نے کارروائی کی اور عمرل اکمل نے بھی بکی سے رابطہ ہونے کا اعتراف کیا تاہم پی سی بی یا ٹیم منیجمنٹ کو بروقت آگاہ نہ کرنے پر ان کی معطلی برقرار رکھی گئی۔ 20 مارچ کو کرکٹر عمر اکمل پر اینٹی کرپش کوڈ کی خلاف ورزی کی فردجرم عائد کی گئی اور 31 مارچ تک جواب داخل کرنے کی مہلت ملی ۔ ٹیسٹ کرکٹر کو اینٹی کرپشن کوڈ 4.2.2 کے تحت چارج کیا گیا اور ان پر الزام عائد کیا گیا کہ انہوں نے دو بار قانون کی خلاف ورزی کی۔

شیئر کریں



یہ بھی پڑھیے


ٹی وی امپائر کے پاس اوورسٹیپنگ کی صورت میں نو بال دینے کا اختیار
فٹنس کے تصور کو بدل دینے والے بھاری بھرکم کرکٹرز
پاکستانی کھلاڑیوں کی نقل وحرکت پرنظررکھنے کیلئے کارڈجاری

ہاکی ٹیم سمگلنگ کیلئے استعمال ہوئی،سابق کپتان

2 months ago


ٹیم کے کچھ آفیشلزملوث تھے،حنیف خان کاانکشاف

کرکٹ کے بعد ہاکی کا بھی سکینڈل دوبارہ کھلنے لگا۔سابق کپتان اولمپئن حنیف خان نے ہنڈورس باکس کھول دیا ۔حنیف خان کاکہناہے کہ 1983میں سمگلنگ کیلئے پاکستان ہاکی ٹیم کا سہارا لیا گیا ۔1983میں وہ ٹیم کے کپتان تھے پاکستان ٹیم ہانگ کانگ سے وطن واپس آرہی تھی۔ہانگ کانگ ایئر پورٹ پر ہی سمگلنگ کا سامان پاکستان ہاکی ٹیم کے سامان کے ساتھ روانہ کیا گیا ۔ایئر پورٹ پر کسٹم حکام نے پاکستان ہاکی ٹیم کو سمگلنگ کے سامان سے آگاہ کیا۔سامان میں گاڑیوں کے پارٹس ، چشموں کے فریم اور وی سی آر شامل تھے۔ اس وقت اس سامان کی لاگت ایک سے ڈیڑھ کروڑ روپے تھی۔پاکستان ہاکی ٹیم کی بدنامی ہوئی تھی ۔تحقیقات ہوئیں تو ٹیم کے کچھ آفیشلز بھی ملوث تھے ۔پاکستان کا نام مزید بدنام ہونے کی وجہ سے کیس کو دبا دیا گیا تھا۔



پی سی بی نے سینٹرل کنٹریکٹ کااعلان کردیا

2 months ago


بابراعظم ون ڈے،ٹی ٹونٹی کے کپتان ہونگے

پاکستان کرکٹ بورڈ(پی سی بی) نے سینٹرل کنٹریکٹ کااعلان کردیا۔بابراعظم کوون ڈے کاکپتان مقررکیاگیاہے۔18کھلاڑیوں کوسنٹرل کنٹریکٹ دیاگیاہے۔بابراعظم کیٹگری اے جبکہ ٹیسٹ کپتان اظہرعلی کی کیٹگری اے میں ترقی ہوگئی ہے۔بابراعظم ٹی ٹونٹی کے بھی کپتان ہیں۔شاہین شاہ آفریدی بھی اے کیٹگری میں شامل ہیں۔بی کیٹگری میں9کھلاڑی ہیںسرفرازاحمداوریاسرشاہ بی کیٹگری میں آگئے ہیں۔عابدعلی،اسدشفیق،حارث سہیل،محمدعباس ،محمدرضوان،شان مسعوداورشاداب خان بی کیٹگری کاحصہ ہیں۔عثمان شنواری،امام الحق،فخرزمان اورآل رائونڈرعمادوسیم سی کیٹگری میں شامل ہیں۔افتخار احمداورنسیم شاہ کوسنٹرل کنٹریکٹ میں شامل کیاگیاہے۔



کرکٹرعمر اکمل پر 3 سال کیلئے پابندی

3 months ago


پابندی میچ فکسنگ کی بروقت اطلاع نہ دینے پرلگائی گئی

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے میچ فکسکنگ سے متعلق ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے کیس میں کرکٹر عمر اکمل پر 3 سال کی پابندی عائد کردی۔ پی سی بی ڈسپلنری پینل نے عمراکمل کےخلاف کیس کا فیصلہ سنایا جس کے سربراہی جسٹس ریٹائرڈ فیصل میراں چوہان کررہے تھے ۔ کیس کی سماعت نیشنل کرکٹ اکیڈمی لاہور میں ہوئی جہاں عمر اکمل پیش ہوئے ۔ پی ایس ایل 2020سے پہلے بکی نے عمر اکمل سے رابطہ کیا اور انہیں فکسنگ کی پیشکش کی۔ٹھوس شواہد کے ہاتھ لگنے کے بعد پی سی بی نے کارروائی کی اور پھر عمرل اکمل نے بھی بکی سے رابطہ ہونے کا اعتراف کرلیا۔ 20 مارچ کو کرکٹر عمر اکمل پر اینٹی کرپش کوڈ کی خلاف ورزی کی فردجرم عائد کی گئی اور عمر اکمل کو 31 مارچ تک جواب داخل کرنے کی مہلت دی گئی۔ ٹیسٹ کرکٹر کو اینٹی کرپشن کوڈ 4.2.2 کے تحت چارج کیا گیا اور ان پر الزام عائد کیا گیا کہ انہوں نے دو بار قانون کی خلاف ورزی کی۔