امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغانستان زلمے خلیل زادپاکستان پہنچ گئے

1 week ago


سیاسی وعسکری حکام سے ملاقات کریں گے

امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغانستان زلمے خلیل زادپاکستان پہنچ گئے۔وہ پاکستان کے سیاسی وعسکری حکام سے ملاقات کریں گے۔ان کایہ دورہ انتہائی اہمیت کاحامل ہے ۔وہ دوحہ میں ہونے والے انٹرا افغان مذاکرات کے صرف دودن بعدپاکستان آئے ہیں۔زلمے خلیل زاد قطر(دوحہ) میں طالبان اورافغان حکومت کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے پاکستانی حکام سے تبادلہ خیال کریں گے۔ مذاکرات کے اگلے مرحلے کوبھی زیرغورلایاجائے گا۔

شیئر کریں



یہ بھی پڑھیے


جرمنی:عدالت نے اذان پرعائد پابندی ختم کردی
امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغانستان زلمے خلیل زادپاکستان پہنچ گئے
دوحہ میں بین الافغان مذاکرات شروع:مائیک پومپیوسمیت35وزراخارجہ شریک

اسرائیل اوربحرین کا تعلقات بحال کرنے پراتفاق

1 week ago


تعلقات بحالی کیلئے امریکہ،بحرین اوراسرائیل کامشترکہ بیان جاری

اسرائیل اوربحرین کے تعلقات بھی بحال ہونے جارہے ہیں۔یواے ای کے بعدیہ دوسراملک ہے جو اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات کوبحال کررہاہے۔اس بات کااعلان امریکی صدرڈونلڈٹرمپ نے اپنی ٹویٹ میں کیاہے۔ان کاکہناہے کہ یہ تاریخی پیشرفت ہے کہ ہمارے دوعظیم دوست اسرائیل اوربحرین کے بادشاہ امن معاہدے پرراضی ہوگئے ہیں۔


اس حوالے سے امریکہ،بحرین اوراسرائیل کی جانب سے ایک مشترکہ بیان بھی جاری کیاگیا ہے جس میں امریکی صدرڈونلڈٹرمپ،بحرین کے بادشاہ حمادبن عیسیٰ اوراسرائیلی صدرنیتن یاہونے اس پراتفاق کیاہے کہ اسرائیل اوربحرین کے درمیان سفارتی تعلقات کوبحال کیاجائے گا۔یہ مشرق وسطیٰ میں امن کے حوالے سے تاریخی پیشرفت ہے۔کہاگیاہے کہ دوملکوں کے درمیان براہ راست گفتگوہونے سے مشرق وسطیٰ میں قیام امن،استحکام اوربہتری کے نئے دورکاآغازہوگا۔



بین الافغان مذاکرات کل سے دوحہ میں شروع ہونگے

1 week ago


طالبان، افغان حکومت ، قطری حکام کی تصدیق

طالبان اور افغان حکومت کے درمیان امن مذاکرات کل یعنی ہفتے کے روز سے دوحہ میں شرو ع ہورہے ہیں، امید کی جارہی ہے کہ یہ مذاکرات تقریباً دو عشروں سے جنگ زدہ افغانستان میں قیام امن کے لئے اہم سنگ میل ثابت ہوں گے۔


قطری حکام نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ کئی ماہ سے تاخیر کا شکار طالبان اور افغان حکومت کے درمیان بین الافغان امن مذاکرات کا آغاز کل (ہفتے) سے دارالحکومت دوحہ میں ہورہا ہے۔
یہ پیش رفت امن مذاکرات کے آغاز میں حائل آخری رکاوٹ یعنی مغربی ملکوں کے چھ طالبان قیدیوں کی رہائی کی مخالفت ختم ہوجانے کے بعد ہوئی ۔ حکام نے امید ظاہر کی ہے کہ یہ مذاکرات افغانستان میں پچھلے 19 برسوں سے جاری جنگ کے خاتمے اور ملک میں امن کے قیام کے لئے اہم سنگ میل ثابت ہوں گے۔
یہ مذاکرات امریکا کی حمایت سے ہورہے ہیں اور امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو اس میں شرکت کے لیے دوحہ پہنچ رہے ہیں۔ کیونکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نومبر میں ہونے والے صدارتی انتخابات سے پہلے جس میں وہ دوبارہ منتخب ہونے کی کوشش کررہے ہیںامریکی افواج کولامتناہی جنگوںسے نکالنے کے اپنے انتخابی وعدوں کو پورا کرنا چاہتے ہیں۔خیال رہے بین الافغان مذاکرات مارچ میں ہی شروع ہونے والے تھے لیکن سینکڑوں سخت گیر طالبان جنگجووں سمیت دیگر قیدیوں کے تبادلے کے معاملے پر تنازعات کی وجہ سے اس عمل کو متعدد بار ٹالنا پڑا تاہم اشرف غنی حکومت کی جانب سے تقریباً تمام جنگجووں کی رہائی کے بعد یہ مذاکرات بالآخر ہفتے کے روز سے شروع ہورہے ہیں۔


صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ پومپیو بین الافغان امن مذاکرات کے آغاز کے لئے دوحہ کے تاریخی دورے پر جارہے ہیں۔طالبان، افغان حکومت اور قطری حکام نے جمعرات کودوحہ میں ایک تقریب میں اس بات کی تصدیق کی کہ ہفتے کے روز سے مذکرات شرو ع ہورہے ہیں۔امریکی وزیر خارجہ پومپیو نے ایک بیان میں ان مذاکرات کو دہائیوں کی جنگ اور خونریزی کے خاتمے کا ایک تاریخی موقع قراردیتے ہوئے کہااس موقع کو ضائع نہیں کیا جانا چاہئے۔قطری وزارت خارجہ نے بھی اپنے بیان میں کہا کہ یہ مذاکراتی عمل افغانستان میں پائیدار امن کے قیام کی جانب ایک سنجیدہ اور اہم قدم ہے۔

افغانستان کے سابق چیف ایگزیکٹیو اور افغانستان کی اعلیٰ قومی مفاہمتی کونسل کے سربراہ عبداللہ عبداللہ بھی آج قطر روانہ ہورہے ہیں۔مفاہمتی کونسل کی طرف سے ٹوئٹر پر جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اعلیٰ قومی مفاہمتی کونسل کو امید ہے کہ طویل انتظار کے بعد یہ مذاکرات ملک میں مستقل امن اور استحکام اور جنگ کے خاتمے کا باعث بنے گی۔


یہ مذاکرات ایسے وقت ہو رہے ہیں جب ڈونلڈ ٹرمپ کو تین نومبر کے انتخابات میں غیر یقینی صورت حال کا سامنا ہے اور وہ افغانستان سے امریکی افواج کی واپسی پر زور دیتے رہے ہیں۔ جن کی تعداد ان کی حکومت میں 12000سے زیادہ ہوگئی تھی تاہم فروری میں امریکا اور طالبان کے درمیان معاہدے کے بعد امریکی افواج کی واپسی کا عمل شروع ہوا اور جولائی میں ان کی تعداد 8600 رہ گئی تھی اور امید کی جارہی ہے کہ مزید افواج کے انخلاءکے بعد اکتوبر تک ان کی تعداد گھٹ کر 4500 تک رہ جائے گی۔

ٹرمپ کو امید ہے کہ افغانستان سے افواج کی واپسی کے بعد امریکی ووٹروں میں ان کی مقبولیت میں اضافہ ہوگا۔خیا ل رہے امن مذاکرات کی راہ میں آخری رکاوٹ فرانسیسی اور آسٹریلوی شہریوں اور فوجیوں کی ہلاکت میں ملوث چھ طالبان قیدیوں کی رہائی کے حوالے سے تھی اور اس رکاوٹ کے خاتمے کے چند گھنٹے کے بعد ہی امن مذاکرات کے آغاز کا اعلان کردیا گیا۔فرانس اور آسٹریلیا نے ان چھ طالبان جنگجوئوں کو رہا کرنے پراعتراض کیا تھا تاہم ایسا لگتا ہے کہ ان قیدیوں کو قطر بھیج کر ایک سمجھوتہ ہوگیا ہے۔ ان چھ افراد میں ایک سابق افغان فوجی بھی شامل ہیں جن پر 2012 میں پانچ فرانسیسی فوجیوں کو ہلاک اور 13 دیگر کو زخمی کرنے کا الزام ہے جبکہ آسٹریلیا کے تین فوجیوں کو قتل کرنے والے ایک اور سابق افغان فوجی بھی ان چھ افراد میں شامل ہیں۔

ڈی ڈبلیوکے مطابق طالبان نے اس بات کی تصدیق کردی ہے کہ یہ قیدی دوحہ پہنچ گئے ہیں۔ اس سے قبل طالبان کے ایک ذرائع نے پاکستان میں اے ایف پی کو بتایا کہ ان قیدیوں کو ایک خصوصی طیارے کے ذریعہ کابل سے باہر بھیج دیا گیا ہے۔طالبان کے عہدیدار نے بتایا کہ اقوام متحدہ رفیوجی ایجنسی کے لئے کام کرنے والی ایک فرانسیسی خاتون کے قتل میں ملوث دو دیگر طالبان قیدیوں کو افغانستان میں ہی رہا کردیا گیا ہے۔ حالانکہ ابتدا میں مذکورہ خاتون کے اہل خانہ اور پیر س نے بھی مخالفت کی تھی۔ افغان حکومت نے طالبان کے عہدیدار کے ان دعوﺅں کی فوری طور پر تصدیق نہیں کی ۔



قطر،نوکری تبدیل کرنے کیلئے صرف نوٹس دیناہوگا

3 weeks ago


کم سے کم اجرت کانفاذ،رہائش اورکھانادینابھی لازم قرار
قطرنے نوکری کی تبدیلی کے لئےکفیل کی رضامندی کاقانون ختم کردیا جبکہ کم سے کم ماہانہ اجرت ایک ہزار قطری ریال ( 274ڈاکر)کابھی نفاذکردیاگیا۔ یہ تاریخی اعلان سماجی امور کی وزارت کی جانب سے اتوار کے روزکیاگیاجو مزدوروں کے لئے کئے جانے والی اصلاحات کے سلسلے کی تازہ کڑی ہے۔ فیفاورلڈکپ2022کی میزبانی ملنے کے بعدسے تارکین وطن مزدوروں کے ساتھ سلوک اور انسانی حقوق کا ریکارڈ زیربحث ہے ۔ قطر کا”کفالہ“سسٹم جس کے تحت تارکین وطن مزدوروں کو ملازمت کی تبدیلی سے قبل اپنے مالک کی اجازت حاصل کرنا ضروری ہوتا تھا جسے استحصال کا باعث ماناجاتاہے۔نئے اعلان کے ساتھ ہی تارکین وطن کارکنان معاہدہ ختم ہونے سے پہلے صرف ایک نوٹس دے کر ملازمت تبدیل کرسکتے ہیں۔ سماجی امورکی وزارت کے ایک بیان میں کہا گیاہے کہ کسی بھی فریق کو نوکری کے معاہدہ کے پہلے دو سال میں ایک ماہ کا تحریری نوٹس یا معاہدہ کے دوسرے سال سے آگے دو ماہ کا نوٹس دینا ضروری ہے۔ اس میں مزید کہا گیا ہے کہ وزارت روزگار کے تمام معاہدوں کو اپ ڈیٹ کرنے کے لئے کفیلوں کے ساتھ مل کر کام کرے گی جہاں کارکنان نئے قانون کے تحت کم سے کم اجرت حاصل کرپائیں گے جو سرکاری گزٹ میں اس کی اشاعت کے 6 ماہ بعد نافذ ہوجائے گی۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق وزارت کی جانب سے کم سے کم اجرت کے علاو ہ رہائش کے لئے 500 ریال ( 137ڈالر) اور کھانے کے لئے 300 ریال ( 82.2ڈالر) کی فراہمی کا بھی اعلان کیا گیاہے اگر یہ اخراجات معاہدے کے حصے کے طور پر فراہم نہیں کئے جاتے ۔