امریکی صدارتی انتخابات:ٹرمپ،جوبائیڈن کے ایک دوسرے پرالزامات

1 month ago


مباحثے کے آغاز سے پہلے دونوں صدارتی امیدواروں نے مصافحہ نہیں کیا

3نومبر کو امریکہ میں ہونے والے صدارتی انتخاب کے لئے ریپبلکن امیدوار اور موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا مقابلہ ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے سابق نائب صدر جوبائیڈن سے ہو گا۔ اسی سلسلے میں دونوں امیدواروں کے درمیان دوسرا اور آخری صدارتی مباحثہ ریاست ٹینیسی کے شہر نیشول میں ہوا۔


نوے منٹ کے اس مباحثے کی میزبانی این بی سی نیوز چینل کی صحافی کرسٹن ویلکر نے کی اور فرداً فرداً دونوں امیدواروں سے سوالات پوچھے اور جواب کے لیے انھیں دودومنٹ کاوقت دیاگیا۔اس مباحثے کے آغاز سے پہلے دونوں صدارتی امیدواروں نے مصافحہ نہیں کیا جس کی وجہ کورونا وائرس کی وجہ سے سماجی دوری کے ضابطے پر عمل کرنا ہے۔


دوسرے اور آخری مباحثے میں کووڈ 19، قومی سلامتی، امریکی خاندانوں، نسل پرستی، موسمیاتی تبدیلی اور قائدانہ صلاحیتوں کے موضوعات پر بحث کی گئی۔واضح رہے کہ ایجنڈے میں صدارت کے لیے تین مباحثوں میں سے پہلا مباحثہ 30 ستمبر کو اوہائیو میں ہوا جبکہ 15 اکتوبر کو فلوریڈا کے شہر میامی میں ہونے والے دوسرا مباحثہ منسوخ کر دیا گیا۔


یاد رہے کہ امریکا میں صدارتی انتخاب کے امیدواروں کے درمیان بحث و مباحثے کے کمیشن نے اس مباحثے کے لیے ایک نیا ضابطہ اپنایا، جس کے تحت ابتدائی خطاب کے دوران دوسرے امیدوار کے مائیک کو دو منٹ کے لیے بند کر دیا گیا تاکہ حریف امیدوار بغیر کسی دخل اندازی کے اپنی بات پوری کر سکیں۔


بی بی سی کے مطابق دوسرے اور آخری صدارتی مباحثے کا آغاز کورونا وائرس کے سوال سے ہوا۔ جس کے جواب میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ کچھ ہی دنوں میں کورونا وائرس کی ویکسین آ جائے گی۔انھوں نے کہا کہ اس وائرس سے خود متاثر ہونے کے بعد انھوں نے اس بارے میں کافی کچھ سیکھا ہے۔


’99 فیصد نوجوان اس سے صحت یاب ہوئے ہیں، 99 فیصد لوگ صحت یاب ہوئے، ہمیں صحت یاب ہونا ہے۔‘انھوں نے مزید کہا: ’ہم وائرس کے ساتھ جینا سیکھ رہے ہیں۔ ہم جو بائیڈن کی طرح خود کو کسی تہہ خانے میں بند نہیں کر سکتے، لوگ ایسا نہیں کر سکتے۔‘جس کے جواب میں جو بائیڈن نے کہا ’لوگ اس کے ساتھ مرنا سیکھ رہے ہیں۔‘

جو بائیڈن نے یہ بھی کہا کہ ٹرمپ اس بحران کی ذمہ داری نہیں لیتے جس کے جواب میں ٹرمپ نے کہا کہ وہ ذمہ داری لیتے ہیں لیکن فوارً ہی انھوں نے اس بحران کا ذمہ دار چین کو ٹھہرا دیا۔صدر ٹرمپ نے کہا: ’وہ(چین) اسے دنیا میں پھیلنے سے نہیں روک سکے۔‘صدر ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ یہ ایک بہت بڑا ملک ہے اور اس کی معیشت بھی بہت بڑی ہے۔ لوگ اپنی نوکریاں کھو رہے ہیں اور خودکشیاں کر رہے ہیں۔ ان افراد کا ڈپریشن، شراب پینے اور دیگر نشے کرنے کا لیول بہت زیادہ ہو گیا ہے۔

بائیڈن نے امریکہ میں کورونا وائرس سے ہونے والی اموات کی ذمہ داری صدر ٹرمپ پر عائد کی اور کہا کہ جو بھی اتنی زیادہ اموات کا ذمہ دار ہے اسے امریکہ کا صدر نہیں ہونا چاہیے۔قومی سلامتی پر گفتگو غیر ملکی سیاسی اثر و رسوخ کے بارے میں ایک مباحثے میں تبدیل ہو گئی اور دونوں صدارتی امیدوار ایک دوسرے پر الزامات عائد کرتے رہے۔


ٹرمپ نے جو بائیڈن کے خاندان پر روس کے ریاستی عہدیداروں سے پیسے لینے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ’میں نے روس سے کبھی پیسے نہیں لیے، میں نے روس سے کوئی پیسہ نہیں لیا۔‘صدر ٹرمپ نے کہا کہ انھوں نے اپنے دور صدارت میں نیٹو ممالک کو روس سے حفاظت کے لیے رقم جمع کرنے کے لیے رضا مند کیا۔

انھوں نے کہا ’روس کے معاملے میں مجھ سے زیادہ سخت کوئی نہیں۔‘انھوں نے جو بائیڈن کو مخاطب کرتے ہوئے مزید کہا: ’وہ آپ کو بہت زیادہ رقم دے رہے تھے اور ممکنہ طور پر ابھی تک دے رہے ہیں۔‘صدر ٹرمپ نے اس لیپ ٹاپ پر پائی جانے والی ’خوفناک ای میلز‘ کا بھی ذکر کیا، جو مبینہ طور پر جو بائیڈن کے بیٹے ہنٹر کی ملکیت تھا۔

واضح رہے کہ جو بائیڈن کی نائب صدارت میں ان کے بیٹے یوکرین کی ایک گیس کمپنی میں کام کر رہے تھے۔جس کے جواب میں بائیڈن نے کہا: ’میں نے کبھی بھی کسی ملک سے ایک پیسہ نہیں لیا۔ انھوں نے مزید کہا کہ ٹرمپ کو چینیوں سمیت غیر ملکیوں نے مالا مال کیا۔


قانون نافذ کرنے والوں اداروں کی وکالت کرتے ہوئے ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ نہیں مانتے کہ امریکی پولیس میں نسل پرستی ایک داخلی مسئلہ ہے۔دوسری جانب بائیڈن جو نسل پرستی کو ایک منظم مسئلہ سمجھتے ہیں نے کہا کہ ’امریکہ میں ادارہ جاتی نسل پرستی ہے۔‘ٹرمپ نے سیاہ فام امریکیوں کے لیے بہترین صدر ہونے کے اپنے تصور کو بھی دہرایا۔ انھوں نے کہا کہ بائیڈن برسوں سے سیاست میں ہیں لیکن انھں نے سیاہ فام کمیونٹی کے لیے کچھ نہیں کیا۔


بائیڈن کا کہنا تھا کہ تشدد کے خاتمے کے علاوہ سیاہ فام کمیونٹی کو تعلیم، مالی مدد اور سکیورٹی جیسی چیزوں تک بہتر رسائی حاصل ہونی چاہیے۔موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے سوال کے جواب میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ انھیں ماحول سے محبت ہے اور وہ صاف ترین پانی اور ہوا چاہتے ہیں۔انھوں نے کہا ’ہمارے پاس کاربن کے اخراج کی سب سے بہترین کم تعداد ہے۔‘ اس کے برعکس انھوں نے چین اور روس پر ’غلیظ‘ ہونے کا الزام بھی لگایا۔


مباحثے کے اس حصے میں بائیڈن کا کہنا تھا کہ یہ ہماری اخلاقی ذمہ داری ہے کہ ہم آب و ہوا کی تبدیلی سے نمٹنے کی حکمت عملی تیار کریں۔ انھوں نے یہ بھی کہا مزید چار برس کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر بننے سے ہمیں اس سلسلے میں حقیقی پریشانی کا سامنا کرنا پڑے گا۔


جو بائیڈن نے یہ بھی کہا کہ صدر منتخب ہونے کی صورت میں ان کا آب و ہوا کا منصوبہ ’لاکھوں روزگار پیدا کرے گا۔صدر ٹرمپ سے جب ان کی امیگریشن پالیسی سے متعلق سوال کیا گیا اور ہزاروں بچوں کو ان کے والدین سے جدا کرنے سے متعلق بات کی گئی تو دونوں امیدواروں کے درمیان اس حوالے سے گرما گرم بحث ہوئی۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ اوباما انتظامیہ کے دوران بھی بچوں کو قید رکھا گیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ ’جو، وہ پنجرے کس نے بنائے تھے؟‘ ان کا اشارہ زنجیروں سے جڑے پنجروں کی جانب تھا۔ جہاں اوباما بائیڈن دور میں بچوں کو ان کے والدین سے دور رکھا گیا تھاتاہم اس حوالے سے بائیڈن کا کہنا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے ایک قدم آگے بڑھ کر ان بچوں کو ان کے والدین سے علیحدہ کر دیا جو ایک ’مجرمانہ‘ عمل ہے۔

شیئر کریں



یہ بھی پڑھیے


اسرائیلی وزیراعظم کادورہ سعودی عرب،ولی عہدسے ملاقات
روس نے آذربائیجان اورآرمینیاکے درمیان امن معاہدہ کرادیا
ترکی،زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 80سے تجاوزکرگئی

فرانس :چرچ کے قریب چاقوسے حملہ،3افرادہلاک

3 weeks ago


حملے کی وجوہات معمول نہ ہوسکیں،حملہ آورگرفتار

فرانس کے شہر نیس میں چرچ کے قریب ایک حملہ آورنے چاقو سے وارکرکے 3 افرادکو ہلاک جبکہ متعدد زخمی کوکردیا۔غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق نیس کے میئر نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں بتایا کہ چرچ کے باہر چاقو سے حملہ کیا گیاجس میں متعدد افراد زخمی بھی ہوئے، پولیس نے حملہ آور کو گرفتار کر لیا ہے۔میئرنے حملے کو دہشت گردی کا واقعہ قرار دے دیا۔


پولیس ذرائع کا کہنا تھا کہ چاقو سے خاتون کا گلا کاٹا گیا جبکہ فرانسیسی سیاستدان میرین لی پین نے بھی حملے میں گلا کاٹے جانے کا ذکر کیا۔دوسری جانب فرانسیسی وزیر داخلہ نے بھی حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ نیس شہر میں پولیس آپریشن جاری ہے۔فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوسکا کہ چاقو کے حملے کا مقصد کیا تھا اور کیا اس کا گستاخانہ خاکوں کے معاملے سے کوئی لینا دینا ہے یا نہیں۔

مذکورہ واقعے پر فرانسیسی پارلیمان کے اجلاس میں ایک منٹ کی خاموشی بھی اختیار کی گئی۔یاد رہے رواں ماہ کے آغاز میں فرانس کے ایک کالج میں تاریخ کے استاد کی جانب سے کلاس میں نبی کریم کی شان میں گستاخی سے متعلق خاکے دکھائے گئے تھے جس پر ایک مسلمان نوجوان نے مشتعل ہو کر اس ٹیچر کو قتل کر دیاتھا۔


خیال رہے کہ فرانس کو گستاخانہ خاکوں کے معاملے پر مسلم دنیا کی جانب سے شدید تنقید اور مذمت کا سامنا ہے۔علاوہ ازیں مشرق وسطیٰ سمیت کئی ممالک میں فرانسیسی مصنوعات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا چکا اور اس پر احتجاجی مظاہرے بھی کئے جارہے ہیں۔



امریکی صدارتی انتخابات:ٹرمپ،جوبائیڈن کے ایک دوسرے پرالزامات

1 month ago


مباحثے کے آغاز سے پہلے دونوں صدارتی امیدواروں نے مصافحہ نہیں کیا

3نومبر کو امریکہ میں ہونے والے صدارتی انتخاب کے لئے ریپبلکن امیدوار اور موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا مقابلہ ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے سابق نائب صدر جوبائیڈن سے ہو گا۔ اسی سلسلے میں دونوں امیدواروں کے درمیان دوسرا اور آخری صدارتی مباحثہ ریاست ٹینیسی کے شہر نیشول میں ہوا۔


نوے منٹ کے اس مباحثے کی میزبانی این بی سی نیوز چینل کی صحافی کرسٹن ویلکر نے کی اور فرداً فرداً دونوں امیدواروں سے سوالات پوچھے اور جواب کے لیے انھیں دودومنٹ کاوقت دیاگیا۔اس مباحثے کے آغاز سے پہلے دونوں صدارتی امیدواروں نے مصافحہ نہیں کیا جس کی وجہ کورونا وائرس کی وجہ سے سماجی دوری کے ضابطے پر عمل کرنا ہے۔


دوسرے اور آخری مباحثے میں کووڈ 19، قومی سلامتی، امریکی خاندانوں، نسل پرستی، موسمیاتی تبدیلی اور قائدانہ صلاحیتوں کے موضوعات پر بحث کی گئی۔واضح رہے کہ ایجنڈے میں صدارت کے لیے تین مباحثوں میں سے پہلا مباحثہ 30 ستمبر کو اوہائیو میں ہوا جبکہ 15 اکتوبر کو فلوریڈا کے شہر میامی میں ہونے والے دوسرا مباحثہ منسوخ کر دیا گیا۔


یاد رہے کہ امریکا میں صدارتی انتخاب کے امیدواروں کے درمیان بحث و مباحثے کے کمیشن نے اس مباحثے کے لیے ایک نیا ضابطہ اپنایا، جس کے تحت ابتدائی خطاب کے دوران دوسرے امیدوار کے مائیک کو دو منٹ کے لیے بند کر دیا گیا تاکہ حریف امیدوار بغیر کسی دخل اندازی کے اپنی بات پوری کر سکیں۔


بی بی سی کے مطابق دوسرے اور آخری صدارتی مباحثے کا آغاز کورونا وائرس کے سوال سے ہوا۔ جس کے جواب میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ کچھ ہی دنوں میں کورونا وائرس کی ویکسین آ جائے گی۔انھوں نے کہا کہ اس وائرس سے خود متاثر ہونے کے بعد انھوں نے اس بارے میں کافی کچھ سیکھا ہے۔


’99 فیصد نوجوان اس سے صحت یاب ہوئے ہیں، 99 فیصد لوگ صحت یاب ہوئے، ہمیں صحت یاب ہونا ہے۔‘انھوں نے مزید کہا: ’ہم وائرس کے ساتھ جینا سیکھ رہے ہیں۔ ہم جو بائیڈن کی طرح خود کو کسی تہہ خانے میں بند نہیں کر سکتے، لوگ ایسا نہیں کر سکتے۔‘جس کے جواب میں جو بائیڈن نے کہا ’لوگ اس کے ساتھ مرنا سیکھ رہے ہیں۔‘

جو بائیڈن نے یہ بھی کہا کہ ٹرمپ اس بحران کی ذمہ داری نہیں لیتے جس کے جواب میں ٹرمپ نے کہا کہ وہ ذمہ داری لیتے ہیں لیکن فوارً ہی انھوں نے اس بحران کا ذمہ دار چین کو ٹھہرا دیا۔صدر ٹرمپ نے کہا: ’وہ(چین) اسے دنیا میں پھیلنے سے نہیں روک سکے۔‘صدر ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ یہ ایک بہت بڑا ملک ہے اور اس کی معیشت بھی بہت بڑی ہے۔ لوگ اپنی نوکریاں کھو رہے ہیں اور خودکشیاں کر رہے ہیں۔ ان افراد کا ڈپریشن، شراب پینے اور دیگر نشے کرنے کا لیول بہت زیادہ ہو گیا ہے۔

بائیڈن نے امریکہ میں کورونا وائرس سے ہونے والی اموات کی ذمہ داری صدر ٹرمپ پر عائد کی اور کہا کہ جو بھی اتنی زیادہ اموات کا ذمہ دار ہے اسے امریکہ کا صدر نہیں ہونا چاہیے۔قومی سلامتی پر گفتگو غیر ملکی سیاسی اثر و رسوخ کے بارے میں ایک مباحثے میں تبدیل ہو گئی اور دونوں صدارتی امیدوار ایک دوسرے پر الزامات عائد کرتے رہے۔


ٹرمپ نے جو بائیڈن کے خاندان پر روس کے ریاستی عہدیداروں سے پیسے لینے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ’میں نے روس سے کبھی پیسے نہیں لیے، میں نے روس سے کوئی پیسہ نہیں لیا۔‘صدر ٹرمپ نے کہا کہ انھوں نے اپنے دور صدارت میں نیٹو ممالک کو روس سے حفاظت کے لیے رقم جمع کرنے کے لیے رضا مند کیا۔

انھوں نے کہا ’روس کے معاملے میں مجھ سے زیادہ سخت کوئی نہیں۔‘انھوں نے جو بائیڈن کو مخاطب کرتے ہوئے مزید کہا: ’وہ آپ کو بہت زیادہ رقم دے رہے تھے اور ممکنہ طور پر ابھی تک دے رہے ہیں۔‘صدر ٹرمپ نے اس لیپ ٹاپ پر پائی جانے والی ’خوفناک ای میلز‘ کا بھی ذکر کیا، جو مبینہ طور پر جو بائیڈن کے بیٹے ہنٹر کی ملکیت تھا۔

واضح رہے کہ جو بائیڈن کی نائب صدارت میں ان کے بیٹے یوکرین کی ایک گیس کمپنی میں کام کر رہے تھے۔جس کے جواب میں بائیڈن نے کہا: ’میں نے کبھی بھی کسی ملک سے ایک پیسہ نہیں لیا۔ انھوں نے مزید کہا کہ ٹرمپ کو چینیوں سمیت غیر ملکیوں نے مالا مال کیا۔


قانون نافذ کرنے والوں اداروں کی وکالت کرتے ہوئے ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ نہیں مانتے کہ امریکی پولیس میں نسل پرستی ایک داخلی مسئلہ ہے۔دوسری جانب بائیڈن جو نسل پرستی کو ایک منظم مسئلہ سمجھتے ہیں نے کہا کہ ’امریکہ میں ادارہ جاتی نسل پرستی ہے۔‘ٹرمپ نے سیاہ فام امریکیوں کے لیے بہترین صدر ہونے کے اپنے تصور کو بھی دہرایا۔ انھوں نے کہا کہ بائیڈن برسوں سے سیاست میں ہیں لیکن انھں نے سیاہ فام کمیونٹی کے لیے کچھ نہیں کیا۔


بائیڈن کا کہنا تھا کہ تشدد کے خاتمے کے علاوہ سیاہ فام کمیونٹی کو تعلیم، مالی مدد اور سکیورٹی جیسی چیزوں تک بہتر رسائی حاصل ہونی چاہیے۔موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے سوال کے جواب میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ انھیں ماحول سے محبت ہے اور وہ صاف ترین پانی اور ہوا چاہتے ہیں۔انھوں نے کہا ’ہمارے پاس کاربن کے اخراج کی سب سے بہترین کم تعداد ہے۔‘ اس کے برعکس انھوں نے چین اور روس پر ’غلیظ‘ ہونے کا الزام بھی لگایا۔


مباحثے کے اس حصے میں بائیڈن کا کہنا تھا کہ یہ ہماری اخلاقی ذمہ داری ہے کہ ہم آب و ہوا کی تبدیلی سے نمٹنے کی حکمت عملی تیار کریں۔ انھوں نے یہ بھی کہا مزید چار برس کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر بننے سے ہمیں اس سلسلے میں حقیقی پریشانی کا سامنا کرنا پڑے گا۔


جو بائیڈن نے یہ بھی کہا کہ صدر منتخب ہونے کی صورت میں ان کا آب و ہوا کا منصوبہ ’لاکھوں روزگار پیدا کرے گا۔صدر ٹرمپ سے جب ان کی امیگریشن پالیسی سے متعلق سوال کیا گیا اور ہزاروں بچوں کو ان کے والدین سے جدا کرنے سے متعلق بات کی گئی تو دونوں امیدواروں کے درمیان اس حوالے سے گرما گرم بحث ہوئی۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ اوباما انتظامیہ کے دوران بھی بچوں کو قید رکھا گیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ ’جو، وہ پنجرے کس نے بنائے تھے؟‘ ان کا اشارہ زنجیروں سے جڑے پنجروں کی جانب تھا۔ جہاں اوباما بائیڈن دور میں بچوں کو ان کے والدین سے دور رکھا گیا تھاتاہم اس حوالے سے بائیڈن کا کہنا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے ایک قدم آگے بڑھ کر ان بچوں کو ان کے والدین سے علیحدہ کر دیا جو ایک ’مجرمانہ‘ عمل ہے۔



ٹرمپ اہلیہ ملینیاسمیت کوروناوائرس کاشکار

1 month ago


امریکی صدر ماسک نہ پہننے پر تنقید کا نشانہ بن چکے ہیں

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی اہلیہ ملینیا ٹرمپ کورونا وائرس کا شکار ہو گئے ۔ٹوئٹر پر امریکی صدر نے کورونا وائرس کا شکار ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ وہ قرنطینہ میں جا رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہم نے اپنی بحالی کا عمل فوری شروع کردیا۔اس سے قبل مشیر اور معاون کا کورونا ٹیسٹ مثبت آنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور خاتون اول میلانیا ٹرمپ نے خود کو قرنطینہ منتقل کرنے کا اعلان کیا تھا۔امریکی صدر کے ڈاکٹر شان کونلی نے میڈیا کو ایک خط جاری کیا جس میں امریکی صدر کا ٹیسٹ مثبت آنے کی تصدیق کی گئی۔انہوں نے کہا صدر اور خاتون اول دونوں اس وقت اچھے ہیں اور انہوں نے قرنطینہ میں وائٹ ہاو¿س میں رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔


ملینیا ٹرمپ نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ وہ اور ٹرمپ کورونا وائرس کا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد گھر میں قرنطینہ میں رہیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم اچھا محسوس کر رہے ہیں اور اپنی تمام مصروفیات کو ترک کردیا ہے۔کورونا وائرس سے اب تک امریکا میں 2 لاکھ سے زائد افراد موت کے منہ میں جا چکے ہیں۔جب ابتدا میں وائرس امریکا پہنچا تو ٹرمپ نے کہا تھا کہ یہ جس طرح آیا ہے ویسے ہی غائب ہو جائے گا جبکہ وہ کئی مرتبہ عوامی مقامات پر ماسک نہ پہننے پر بھی تنقید کا نشانہ بن چکے ہیں۔