ایمنسٹی انٹرنیشنل کابھارت میں آپریشن بندکرنے کااعلان

3 weeks ago


حکومت نے ہراساں کرنے کے ساتھ اکاﺅنٹ منجمدکردیئے،تنظیم کاموقف

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اعلان کیا ہے کہ انہیں اپنے کام کی وجہ سے انڈیا کی حکومت کی جانب سے نشانہ بنایا جا رہا ہے اور وہ اس وجہ سے انڈیا میں اپنے آپریشن بند کر رہے ہیں۔
تنظیم نے انڈیا کی حکومت پر الزام لگایا ہے کہ وہ انسانی حقوق کی تنظیموں کے خلاف ایک مہم چلا رہی ہے۔ایمنسٹی کے مطابق ان کے بینک اکاو¿نٹ منجمد کر دیئے گئے ہیں اور انہیں اپنے ملازمین کو فارغ کر کے ملک میں جاری اپنا تمام کام روکنا پڑا ہے۔انڈیا کی حکومت نے اب تک ان الزامات پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔


ایمنسٹی انٹرنیشنل کے انڈیا میں سینئر ریسرچ ڈائریکٹر رجت کھوسلہ نے بی بی سی کو بتایا کہ انہیں حکومت کی جانب سے بے مثال ہراسانی کا سامنا ہے جس میںمنظم طریقے سے کئے جانے والے حملے، دھمکیاں اور ہراسانی شامل ہیں۔اس سب کی وجہ ہمارا انسانی حقوق کے لئے کام ہے اور صاف بات ہے کہ حکومت ہمارے سوالات کے جواب نہیں دینا چاہتی، چاہے وہ دہلی فسادات میں ہماری تحقیقات ہوں یا جموں و کشمیر میں آوازیں دبانے کی کوششیں۔


گذشتہ ماہ جاری ہونے والی ایک رپورٹ میں ایمنسٹی نے دعویٰ کیا تھا کہ دہلی پولیس نے فروری میں ہونے والے فسادات کے دوران انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کیں تاہم دہلی پولیس نے روزنامہ ہندو کو دیئے گئے ایک بیان میں ان دعوﺅں کو رد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایمنسٹی کی رپورٹ یکطرفہ، متعصبانہ اور بدنیتی پر مبنی ہے۔ایمنسٹی نے انڈین حکومت پر زور دیا تھا کہ وہ جموں کشمیر سے حراست میں لیے گئے تمام سیاسی رہنماو¿ں، کارکنوں اور صحافیوں کو رہا کرے۔

رواں سال اگست میں انڈیا کے زیِر انتظام کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کا ایک برس مکمل ہونے پر ایمنسٹی نے انڈین حکومت پر زور دیا تھا کہ وہ جموں کشمیر سے حراست میں لئے گئے تمام سیاسی رہنمائوں، کارکنوں اور صحافیوں کو رہا کرے اور خطے میں تیز رفتار انٹرنیٹ کی سہولت کو بحال کرے۔2019 میں ایمنسٹی نے جنوبی ایشیا میں انسانی حقوق سے متعلق امریکی خارجہ امور کی کمیٹی میں ایک سماعت کے دوران کشمیر میں طاقت اور تشدد کے بےتحاشہ استعمال اور جبری نظر بندیوں کے حوالے سے اپنی فائنڈنگز (نتائج) پر روشنی ڈالی تھی۔ایمنسٹی نے ماضی قریب میں بارہا انڈیا میں ’اختلاف رائے کے خلاف کریک ڈاو¿ن‘ کی مذمت کی ہے۔


ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ رواں ماہ کے آغاز میں بینک اکاو¿نٹس کو منجمد کرنے کا عمل جاری سلسلے کی آخری کڑی ہے۔یاد رہے اگست 2016 میں ایمنسٹی انڈیا کے خلاف بغاوت کا کیس ان الزمات کے تحت درج کیا گیا تھا کہ (ایمنسٹی انڈیا) کی جانب سے منعقد کروائی گئی ایک تقریب میں انڈیا مخالف نعرے لگائے گئے تھے تاہم اس کیس کے درج ہونے کے تین برس بعد عدالت نے ’بغاوت‘ کے الزامات کو ختم کرنے کا حکم سنایا تھا۔


اکتوبر 2018 میں انڈیا کے جنوبی شہر بنگلور میں واقع ایمنسٹی کے دفاتر پر انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے چھاپے مارے تھے۔ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کا کام مالیاتی جرائم کی تحقیق کرنا ہے۔ اس وقت بھی ایمنسٹی کے بینک اکاو¿نٹس کو منجمد کر دیا گیا تھا تاہم عدالت کے احکامات کے بعد یہ بینک اکاو¿نٹس بحال کر دیئے گئے تھے۔ایمنٹسی کا کہنا ہے کہ 2019 کے اوائل میں انڈیا کے انکم ٹیکس محکمے کی جانب سے ان افراد کو نوٹسز بھجوائے گئے تھے جو ایمنسٹی کو چھوٹے پیمانے پر عطیات بھیجتے ہیں۔

2019 میں ہی ایک مرتبہ پھر ایمنسٹی کے دفاتر پر ’سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن‘ کی ٹیموں کی جانب سے چھاپے مارے گئے۔ یہ چھاپے اس کیس کے سلسلے میں مارے گئے تھے جو انڈین وزارتِ داخلہ کی جانب سے ایمنسٹی کے خلاف درج کیا گیا تھا۔انڈیا میں آنے والی حکومتیں غیر ملکی مالی اعانت سے چلنے والے غیر منافع بخش گروپس خصوصاً انسانی حقوق کی تنظیموں سے نالاں رہی ہیں۔ 2009 میں بھی ایمنسٹی کو انڈیا میں اپنے آپریشنز اس وقت بند کرنا پڑے تھے جب اس تنظیم کی جانب سے بیرون ممالک سے فنڈز وصول کرنے کے لائسنس کو حکومت کی جانب سے بار بار مسترد کیا گیا۔ ا±س وقت انڈیا میں کانگریس برسراقتدار تھی جو کہ اب اپوزیشن میں ہے۔


گذشتہ برسوں میں انڈین حکام کی جانب سے غیر ملکی رقوم کے حصول کے قواعد کو سخت کر دیا گیا ہے اور ہزاروں غیر منافع بخش تنظیموں کے بیرون ممالک سے رقوم وصول کرنے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔برسراقتدار بی جے پی کی حکومت پہلے بھی کہہ چکی ہے کہ ایمنسٹی کے خلاف تحقیقات ان شکوک و شبہات کی بنا پر کی جا رہی ہیں کہ کہیں یہ گروپ غیر ملکی مالی اعانت سے متعلق انڈین قوانین کی خلاف ورزی تو نہیں کر رہا ہے۔

رجت کھوسلا نے بی بی سی کو بتایا کہ ’یہ ایک سفید جھوٹ ہے۔ ایمنسٹی انڈیا تمام مقامی اور بین الاقوامی قوانین کی سختی سے پابندی کرتی ہے۔‘رجت کھوسلا کہتے ہیں کہ ’ایمنسٹی انٹرنیشنل 70 سے زائد ممالک میں کام کرتی ہے اور روس وہ آخری ملک تھا جس نے 2016 میں ایمنسٹی کو اپنے آپریشنز بند کرنے پرمجبور کیا تھا۔ مجھے امید ہے کہ دنیا بھر سے ذمہ داران بیٹھیں گے اور اس معاملے کا نوٹس لیں گے۔ ہم نے یہ فیصلہ بہت بوجھل دل اور غم کے گہرے احساس کے ساتھ لیا ہے۔‘ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ وہ انڈیا میں اپنے خلاف دائر ہونے والے قانونی کیسز کی پیروی جاری رکھیں گے۔

شیئر کریں



یہ بھی پڑھیے


ٹرمپ اہلیہ ملینیاسمیت کوروناوائرس کاشکار
ایمنسٹی انٹرنیشنل کابھارت میں آپریشن بندکرنے کااعلان
فرانس میں چاقوحملہ دہشتگردی قرار،پاکستانی سمیت7گرفتار

جرمنی:عدالت نے اذان پرعائد پابندی ختم کردی

3 weeks ago


مسیحی جوڑے کی شکایت پر جمعے کی نماز کے لئے مسجد میں اذان دینے پر پابندی لگا ئی گئی تھی

اذان دینے پر یہ پابندی ایک مسیحی جوڑے کی شکایت پر عائد کی گئی تھی کہ اذان سے ان کی مذہبی آزادی میں مداخلت ہوتی ہے تاہم عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اذان کی آواز سننے والوں کے کسی حقوق کی خلاف ورزی نہیں ہوتی۔مغربی جرمنی کے شہر مونسٹر کی عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ مقامی مسجد کو نماز جمعہ کے لئے اذان دینے کی اجازت ہے۔ عدالت نے یہ فیصلہ اوہرایر کنشویک قصبے کی انتظامیہ کی اس اپیل پر سنایا جس میں مسجد کو اذان دینے پر عائد پابندی کے سابقہ فیصلے کو منسوخ کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔


جج Annette Kleinschnittger نے اپنے فیصلے میں کہا کہ”ہر سماج کو یہ بات تسلیم کرنی چاہئے کہ لوگوں کواس کا علم ہونا چاہئے کہ دوسرے مذاہب کے ماننے والے اپنے عقائد پر کس طرح عمل کرتے ہیں۔"خیال رہے 2018 میں جرمنی میں ایک مقامی عدالت نے مسجد کے قریب رہنے والے ایک مقامی مسیحی جوڑے کی شکایت پر جمعے کی نماز کے لئے مسجد میں اذان دینے پر پابندی لگا دی تھی۔ یہ جوڑا مسجد سے تقریباً ایک کلومیٹر کے فاصلے پر رہتا تھا۔ اس نے اپنی شکایت میں کہا تھا کہ مسجد کے موذن کے ذریعہ جمعے کے روز لائوڈسپیکر پر دی جانے والی اذان ان کے مسیحی عقائد اور مذہبی آزادی کے منافی ہے۔

مونسٹر کی عدالت نے پایا کہ مذہبی آزادی کے قانون کے ایک حصے کی 'منفی مذہبی آزادی‘ کے طور پر تشریح کی گئی تھی جبکہ یہ قوانین کسی دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کے اعتقاد میں مداخلت کا حق نہیں دیتے بلکہ یہ ان کی مرضی کے برخلاف مذہبی امور میں شرکت کرنے کے لئے مجبور کرنے سے تحفظ فراہم کرتے ہیں۔اذان کے خلاف درخواست دینے والے مسیحی جوڑے کے وکیل نے اپنی دلیل میں کہا کہ ان کی شکایت اذان سے پیدا ہونے والے شور پر نہیں بلکہ اذان میں استعمال ہونے والے الفاظ پر تھی۔

درخواست گزار کے وکیل نے اپنے موقف میں کہا، ”اذان کا تقابل کلیسا میں بجنے والی گھنٹی سے نہیں کیا جا سکتا۔ موذن کی اذان میں الفاظ کے ذریعے عقائد کا اظہار کیا جاتا ہے جس کے ذریعے اذان سننے والے کو نماز میں شرکت کے لئے مجبور کیا جاتا ہے۔"خیال رہے کہ نماز کے لئے دی جانے والی اذان میں حئی علی الصلواة اور حئی علی الفلاح یعنی نماز کی طرف آﺅ اور کامیابی کی طرف آﺅ کے جملے بھی ادا کئے جاتے ہیں۔


اذان دینے کی اجازت منسوخ کئے جانے سے قبل مسجد کو ہفتہ میں ایک مرتبہ دو منٹ کے لئے اذان دینے کی اجازت تھی۔ یہ مسجد ڈی آئی ٹی آئی بی نامی تنظیم کے زیر انتظام ہے، جو جرمنی میں 900 مساجد کا انتظام و انصرام کرنے والی سب سے بڑ ی تنظیم ہے۔ اس کے امام تعلیم یافتہ ہیں اور اس کے اخراجات ترکی حکومت برداشت کرتی ہے تاہم یہ تنظیم جرمنی کی داخلی انٹیلی جنس ایجنسی کی نگاہ میں بھی ہے۔

مسجد کو اذان دینے کی اجازت منسوخ کرنے والی مقامی انتظامی عدالت نے 2018 میں اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ مقامی حکام کو قواعد و ضوابط کے مطابق لائوڈسپیکر پر اذان کی اجازت دیتے وقت مسجد کے قریب رہنے والے رہائشیوں سے اس عمل کے 'سماجی طور پر قابل قبول‘ ہونے کے حوالے سے بھی مشاورت کرنا چاہئے تھی جبکہ حکام نے صرف یہ بات پیش نظر رکھی کہ لائوڈسپیکر کی آواز کتنی بلند ہے۔مقامی عدالت نے تاہم مذکورہ مسیحی جوڑے کے اس موقف سے اتفاق نہیں کیا تھا کہ اذان ان کی 'مذہبی آزادی‘ کے خلاف ہے۔
ّ(بشکریہ ڈی ڈبلیو)



امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغانستان زلمے خلیل زادپاکستان پہنچ گئے

1 month ago


سیاسی وعسکری حکام سے ملاقات کریں گے

امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغانستان زلمے خلیل زادپاکستان پہنچ گئے۔وہ پاکستان کے سیاسی وعسکری حکام سے ملاقات کریں گے۔ان کایہ دورہ انتہائی اہمیت کاحامل ہے ۔وہ دوحہ میں ہونے والے انٹرا افغان مذاکرات کے صرف دودن بعدپاکستان آئے ہیں۔زلمے خلیل زاد قطر(دوحہ) میں طالبان اورافغان حکومت کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے پاکستانی حکام سے تبادلہ خیال کریں گے۔ مذاکرات کے اگلے مرحلے کوبھی زیرغورلایاجائے گا۔



دوحہ میں بین الافغان مذاکرات شروع:مائیک پومپیوسمیت35وزراخارجہ شریک

1 month ago


مقررین کاتشددکے خاتمے پراتفاق، طاقت کے ذریعے مسئلے کا حل ممکن نہیں،شاہ محمودقریشی

افغان حکومت اورطالبان کے نمائندوں کے درمیان قطر کے دارالحکومت دوحہ میں بین الافغان مذاکرات کا آغاز ہوگیا۔

افتتاحی تقریب کاآغازقطری وزیرخارجہ شیخ محمدبن عبدالرحمٰن الثانی نے کیاجس میں امریکی سیکرٹری خارجہ مائیک پومپیو اور افغانستان کے لئے امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زادشریک ہیں۔مذاکرات میں جنگ بندی، خواتین اور اقلیتوں کے حقوق اور ہزاروں طالبان جنگجو اور ملیشیا کا غیر مسلح ہونا شامل ہے جس میں سے کچھ حکومت کے ساتھ اتحاد میں شامل ہیں۔طالبان کی مذاکراتی ٹیم کی سربراہی ان کے چیف جسٹس عبدالحاکم کر رہے ہیں۔

قبل ازیں امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد نے جمعہ کو کہا تھا کہ مذاکرات کا آغاز ایک اہم کامیابی ہے لیکن معاہدے تک پہنچنے کے لیے مشکلات اور اہم چیلنجز ہیں۔ یہ طالبان اور حکومت دونوں کے لئے ٹیسٹ بھی ہے کہ کیا وہ افغانستان کے مستقبل کے لئے اپنے نظریات میں اختلافات کے باوجود معاہدے پر پہنچ سکتے ہیں؟

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کیا۔وزیر خارجہ نے کہا کہ افغانستان میں پائیدار امن سب کی خواہش ہے، طاقت کے ذریعے مسئلے کا حل ممکن نہیں، پاکستان مصالحانہ کردار ادا کرتا رہے گا، عالمی برادری افغان عمل مذاکرات کی حمایت جاری رکھے۔پاکستان نے افغانستان میں امن کیلئے اپنا بھرپور کردار ادا کیا، بین الافغان مذاکرات کا آغاز ہماری مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے، افغانستان کے مستقبل کا فیصلہ وہاں کے عوام نے کرنا ہے، ہمیشہ موقف رہا کہ افغان مسئلے کا طاقت سے حل ممکن نہیں۔

امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ افغانستان کی تعمیر و ترقی کیلئے شراکت داری کو مزید مضبوط کرنا چاہتے ہیں، تمام فریقین امن کے قیام کیلئے اس موقع سے فائدہ اٹھائیں۔نارویجن وزیر خارجہ نے کہا افغانستان میں امن و استحکام خطے کیلئے بہت اہمیت کا حامل ہے، ہمیں بین الافغان مذاکرات سے بہت امیدیں وابستہ ہیں، توقع ہے فریقین افغان عوام کے حقوق یقینی بنانے کیلئے آگے بڑھیں گے۔

افغان امن کمیٹی کے سربراہ ڈاکٹرعبداللہ عبداللہ کا کہنا تھا کہ مل کر افغان عوام کے روشن مستقبل کیلئے راہ متعین کرنی ہے، تشدد کے خاتمے اور عوامی حقوق یقینی بنا کر افغان عوام کو خوشیاں دینی ہیں۔
چینی وزیر خارجہ وانگ ژی نے کہا کہ افغان مسئلے کے سیاسی حل کیلئے اس موقع سے فائدہ اٹھانا ہوگا، پائیدار امن کا خواب مفاہمتی عمل سے ہی ممکن ہے۔


یاد رہے 29 فروری کو امریکا اور طالبان کے درمیان امن معاہدے میں بین الافغان مذاکرات طے پائے تھے، اس وقت اس معاہدے کو 40 سال سے جاری جنگ میں امن کا بہتری موقع قرار دیا گیا تھا۔ابتدائی طور پر یہ توقع کی جارہی تھی کہ 29 فروری کو معاہدے کے چند ہفتوں میں مذاکرات کا آغاز ہو جائے گا تاہم شروع سے ہی اس ٹائم لائن میں تاخیر کے باعث خلل پڑنا شروع ہوگیا تھا۔