ٹرمپ اہلیہ ملینیاسمیت کوروناوائرس کاشکار

2 weeks ago


امریکی صدر ماسک نہ پہننے پر تنقید کا نشانہ بن چکے ہیں

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی اہلیہ ملینیا ٹرمپ کورونا وائرس کا شکار ہو گئے ۔ٹوئٹر پر امریکی صدر نے کورونا وائرس کا شکار ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ وہ قرنطینہ میں جا رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہم نے اپنی بحالی کا عمل فوری شروع کردیا۔اس سے قبل مشیر اور معاون کا کورونا ٹیسٹ مثبت آنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور خاتون اول میلانیا ٹرمپ نے خود کو قرنطینہ منتقل کرنے کا اعلان کیا تھا۔امریکی صدر کے ڈاکٹر شان کونلی نے میڈیا کو ایک خط جاری کیا جس میں امریکی صدر کا ٹیسٹ مثبت آنے کی تصدیق کی گئی۔انہوں نے کہا صدر اور خاتون اول دونوں اس وقت اچھے ہیں اور انہوں نے قرنطینہ میں وائٹ ہاو¿س میں رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔


ملینیا ٹرمپ نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ وہ اور ٹرمپ کورونا وائرس کا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد گھر میں قرنطینہ میں رہیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم اچھا محسوس کر رہے ہیں اور اپنی تمام مصروفیات کو ترک کردیا ہے۔کورونا وائرس سے اب تک امریکا میں 2 لاکھ سے زائد افراد موت کے منہ میں جا چکے ہیں۔جب ابتدا میں وائرس امریکا پہنچا تو ٹرمپ نے کہا تھا کہ یہ جس طرح آیا ہے ویسے ہی غائب ہو جائے گا جبکہ وہ کئی مرتبہ عوامی مقامات پر ماسک نہ پہننے پر بھی تنقید کا نشانہ بن چکے ہیں۔

شیئر کریں



یہ بھی پڑھیے


ٹرمپ اہلیہ ملینیاسمیت کوروناوائرس کاشکار
ایمنسٹی انٹرنیشنل کابھارت میں آپریشن بندکرنے کااعلان
فرانس میں چاقوحملہ دہشتگردی قرار،پاکستانی سمیت7گرفتار

جرمنی:عدالت نے اذان پرعائد پابندی ختم کردی

3 weeks ago


مسیحی جوڑے کی شکایت پر جمعے کی نماز کے لئے مسجد میں اذان دینے پر پابندی لگا ئی گئی تھی

اذان دینے پر یہ پابندی ایک مسیحی جوڑے کی شکایت پر عائد کی گئی تھی کہ اذان سے ان کی مذہبی آزادی میں مداخلت ہوتی ہے تاہم عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اذان کی آواز سننے والوں کے کسی حقوق کی خلاف ورزی نہیں ہوتی۔مغربی جرمنی کے شہر مونسٹر کی عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ مقامی مسجد کو نماز جمعہ کے لئے اذان دینے کی اجازت ہے۔ عدالت نے یہ فیصلہ اوہرایر کنشویک قصبے کی انتظامیہ کی اس اپیل پر سنایا جس میں مسجد کو اذان دینے پر عائد پابندی کے سابقہ فیصلے کو منسوخ کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔


جج Annette Kleinschnittger نے اپنے فیصلے میں کہا کہ”ہر سماج کو یہ بات تسلیم کرنی چاہئے کہ لوگوں کواس کا علم ہونا چاہئے کہ دوسرے مذاہب کے ماننے والے اپنے عقائد پر کس طرح عمل کرتے ہیں۔"خیال رہے 2018 میں جرمنی میں ایک مقامی عدالت نے مسجد کے قریب رہنے والے ایک مقامی مسیحی جوڑے کی شکایت پر جمعے کی نماز کے لئے مسجد میں اذان دینے پر پابندی لگا دی تھی۔ یہ جوڑا مسجد سے تقریباً ایک کلومیٹر کے فاصلے پر رہتا تھا۔ اس نے اپنی شکایت میں کہا تھا کہ مسجد کے موذن کے ذریعہ جمعے کے روز لائوڈسپیکر پر دی جانے والی اذان ان کے مسیحی عقائد اور مذہبی آزادی کے منافی ہے۔

مونسٹر کی عدالت نے پایا کہ مذہبی آزادی کے قانون کے ایک حصے کی 'منفی مذہبی آزادی‘ کے طور پر تشریح کی گئی تھی جبکہ یہ قوانین کسی دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کے اعتقاد میں مداخلت کا حق نہیں دیتے بلکہ یہ ان کی مرضی کے برخلاف مذہبی امور میں شرکت کرنے کے لئے مجبور کرنے سے تحفظ فراہم کرتے ہیں۔اذان کے خلاف درخواست دینے والے مسیحی جوڑے کے وکیل نے اپنی دلیل میں کہا کہ ان کی شکایت اذان سے پیدا ہونے والے شور پر نہیں بلکہ اذان میں استعمال ہونے والے الفاظ پر تھی۔

درخواست گزار کے وکیل نے اپنے موقف میں کہا، ”اذان کا تقابل کلیسا میں بجنے والی گھنٹی سے نہیں کیا جا سکتا۔ موذن کی اذان میں الفاظ کے ذریعے عقائد کا اظہار کیا جاتا ہے جس کے ذریعے اذان سننے والے کو نماز میں شرکت کے لئے مجبور کیا جاتا ہے۔"خیال رہے کہ نماز کے لئے دی جانے والی اذان میں حئی علی الصلواة اور حئی علی الفلاح یعنی نماز کی طرف آﺅ اور کامیابی کی طرف آﺅ کے جملے بھی ادا کئے جاتے ہیں۔


اذان دینے کی اجازت منسوخ کئے جانے سے قبل مسجد کو ہفتہ میں ایک مرتبہ دو منٹ کے لئے اذان دینے کی اجازت تھی۔ یہ مسجد ڈی آئی ٹی آئی بی نامی تنظیم کے زیر انتظام ہے، جو جرمنی میں 900 مساجد کا انتظام و انصرام کرنے والی سب سے بڑ ی تنظیم ہے۔ اس کے امام تعلیم یافتہ ہیں اور اس کے اخراجات ترکی حکومت برداشت کرتی ہے تاہم یہ تنظیم جرمنی کی داخلی انٹیلی جنس ایجنسی کی نگاہ میں بھی ہے۔

مسجد کو اذان دینے کی اجازت منسوخ کرنے والی مقامی انتظامی عدالت نے 2018 میں اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ مقامی حکام کو قواعد و ضوابط کے مطابق لائوڈسپیکر پر اذان کی اجازت دیتے وقت مسجد کے قریب رہنے والے رہائشیوں سے اس عمل کے 'سماجی طور پر قابل قبول‘ ہونے کے حوالے سے بھی مشاورت کرنا چاہئے تھی جبکہ حکام نے صرف یہ بات پیش نظر رکھی کہ لائوڈسپیکر کی آواز کتنی بلند ہے۔مقامی عدالت نے تاہم مذکورہ مسیحی جوڑے کے اس موقف سے اتفاق نہیں کیا تھا کہ اذان ان کی 'مذہبی آزادی‘ کے خلاف ہے۔
ّ(بشکریہ ڈی ڈبلیو)



امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغانستان زلمے خلیل زادپاکستان پہنچ گئے

1 month ago


سیاسی وعسکری حکام سے ملاقات کریں گے

امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغانستان زلمے خلیل زادپاکستان پہنچ گئے۔وہ پاکستان کے سیاسی وعسکری حکام سے ملاقات کریں گے۔ان کایہ دورہ انتہائی اہمیت کاحامل ہے ۔وہ دوحہ میں ہونے والے انٹرا افغان مذاکرات کے صرف دودن بعدپاکستان آئے ہیں۔زلمے خلیل زاد قطر(دوحہ) میں طالبان اورافغان حکومت کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے پاکستانی حکام سے تبادلہ خیال کریں گے۔ مذاکرات کے اگلے مرحلے کوبھی زیرغورلایاجائے گا۔



دوحہ میں بین الافغان مذاکرات شروع:مائیک پومپیوسمیت35وزراخارجہ شریک

1 month ago


مقررین کاتشددکے خاتمے پراتفاق، طاقت کے ذریعے مسئلے کا حل ممکن نہیں،شاہ محمودقریشی

افغان حکومت اورطالبان کے نمائندوں کے درمیان قطر کے دارالحکومت دوحہ میں بین الافغان مذاکرات کا آغاز ہوگیا۔

افتتاحی تقریب کاآغازقطری وزیرخارجہ شیخ محمدبن عبدالرحمٰن الثانی نے کیاجس میں امریکی سیکرٹری خارجہ مائیک پومپیو اور افغانستان کے لئے امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زادشریک ہیں۔مذاکرات میں جنگ بندی، خواتین اور اقلیتوں کے حقوق اور ہزاروں طالبان جنگجو اور ملیشیا کا غیر مسلح ہونا شامل ہے جس میں سے کچھ حکومت کے ساتھ اتحاد میں شامل ہیں۔طالبان کی مذاکراتی ٹیم کی سربراہی ان کے چیف جسٹس عبدالحاکم کر رہے ہیں۔

قبل ازیں امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد نے جمعہ کو کہا تھا کہ مذاکرات کا آغاز ایک اہم کامیابی ہے لیکن معاہدے تک پہنچنے کے لیے مشکلات اور اہم چیلنجز ہیں۔ یہ طالبان اور حکومت دونوں کے لئے ٹیسٹ بھی ہے کہ کیا وہ افغانستان کے مستقبل کے لئے اپنے نظریات میں اختلافات کے باوجود معاہدے پر پہنچ سکتے ہیں؟

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کیا۔وزیر خارجہ نے کہا کہ افغانستان میں پائیدار امن سب کی خواہش ہے، طاقت کے ذریعے مسئلے کا حل ممکن نہیں، پاکستان مصالحانہ کردار ادا کرتا رہے گا، عالمی برادری افغان عمل مذاکرات کی حمایت جاری رکھے۔پاکستان نے افغانستان میں امن کیلئے اپنا بھرپور کردار ادا کیا، بین الافغان مذاکرات کا آغاز ہماری مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے، افغانستان کے مستقبل کا فیصلہ وہاں کے عوام نے کرنا ہے، ہمیشہ موقف رہا کہ افغان مسئلے کا طاقت سے حل ممکن نہیں۔

امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ افغانستان کی تعمیر و ترقی کیلئے شراکت داری کو مزید مضبوط کرنا چاہتے ہیں، تمام فریقین امن کے قیام کیلئے اس موقع سے فائدہ اٹھائیں۔نارویجن وزیر خارجہ نے کہا افغانستان میں امن و استحکام خطے کیلئے بہت اہمیت کا حامل ہے، ہمیں بین الافغان مذاکرات سے بہت امیدیں وابستہ ہیں، توقع ہے فریقین افغان عوام کے حقوق یقینی بنانے کیلئے آگے بڑھیں گے۔

افغان امن کمیٹی کے سربراہ ڈاکٹرعبداللہ عبداللہ کا کہنا تھا کہ مل کر افغان عوام کے روشن مستقبل کیلئے راہ متعین کرنی ہے، تشدد کے خاتمے اور عوامی حقوق یقینی بنا کر افغان عوام کو خوشیاں دینی ہیں۔
چینی وزیر خارجہ وانگ ژی نے کہا کہ افغان مسئلے کے سیاسی حل کیلئے اس موقع سے فائدہ اٹھانا ہوگا، پائیدار امن کا خواب مفاہمتی عمل سے ہی ممکن ہے۔


یاد رہے 29 فروری کو امریکا اور طالبان کے درمیان امن معاہدے میں بین الافغان مذاکرات طے پائے تھے، اس وقت اس معاہدے کو 40 سال سے جاری جنگ میں امن کا بہتری موقع قرار دیا گیا تھا۔ابتدائی طور پر یہ توقع کی جارہی تھی کہ 29 فروری کو معاہدے کے چند ہفتوں میں مذاکرات کا آغاز ہو جائے گا تاہم شروع سے ہی اس ٹائم لائن میں تاخیر کے باعث خلل پڑنا شروع ہوگیا تھا۔