ایران کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کی اطلاعات غلط ہیں، امریکا

6 days ago


لبنان اورایران کے ٹی وی چینلزنے دونوں اطراف سے قیدی چھوڑنے کی خبریں نشرکیں

امریکا کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے سے متعلق اطلاعات قطعی درست نہیں ہیں جبکہ ایرانی میڈیا نے قیدیوں کی رہائی کے سلسلے میں ایک معاہدہ ہونے کی بات کہی تھی۔

امریکا نے ایران کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کے حوالے سے کسی بھی مبینہ معاہدے سے انکار کیا ہے جبکہ ایران کے ایک سرکاری میڈیا ادارے اور ایران حامی ایک لبنانی ٹی وی چینل نے خبریں نشر کی تھیں کہ قیدیوں کے تبادلے کے حوالے سے ایک معاہدہ طے پا گیا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے ایک بیان میں کہا کہ اس بارے میں اطلاعات سچ نہیں ہیں ۔ وائٹ ہائوس کی چیف آف سٹاف رون کلین نے بھی امریکی میڈیا سے بات چیت میں ان خبروں کی تردید کی اور کہا کہ قیدیوں کے تبادلے کے حوالے سے کوئی معاہدہ نہیں ہوا ہے۔

ان بیانات کے بعد اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر ماجد تخت روانچی نے بھی کہا کہ اس حوالے سے خبریں غیر مصدقہ ہیں۔ ایران کی سرکاری میڈیا سے وابستہ ینگ جرنلسٹ کلب نے ان کے حوالے سے بتایا کہ ایران میںامریکی قیدیوں کی رہائی کے معاہدے کے حوالے سے خبر کی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔

اس دوران برطانوی حکام نے ایرانی نژاد برطانوی شہری اور معروف کارکن نازنین زغاری ریٹکلف کی ممکنہ رہائی سے متعلق ایک علیحدہ معاہدے کے بارے میں بھی غیر مصدقہ اطلاعات کو نظر انداز کر دیا ہے۔

ابھی یہ بات واضح نہیں ہے کہ آیا اس طرح کی اطلاعات ویانا میں جوہری معاہدے پر جاری مذاکرات میں خلل ڈالنے یا پھر موقف کو سخت کرنے کی کوشش کا حصہ ہیں یا نہیں۔

قیدیوں کے تبادلے کے حوالے سے سب سے پہلے ایران حامی لبنانی ٹی وی چینل نے خبریں نشر کی تھیں پھر اس کے بعد ایران کے ایک سرکاری چینل نے بھی نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر سرکاری حکام کے حوالے سے یہ خبر نشر کی کہ امریکا اور برطانیہ سے ایک معاہدہ طے پا گیا ہے۔

اس رپورٹ میں کہا گیا کہ ایران نے چار امریکی قیدیوں کو رہا کرنے پر اتفاق کر لیا ہے جس کے بدلے میں امریکا تمام ایرانی قیدیوں کو رہا کر دے گا۔ ان اطلاعات میں یہ بھی کہا گیا کہ معاہدے کے تحت امریکا نے ایران کے منجمد تقریبا ًسات ارب ڈالر کے اثاثے بھی جاری کرنے سے اتفا ق کیاہے۔

خبروں میں ایک غیر مصدقہ معاہدے کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا کہ نازنین زغاری ریٹکلف کی رہائی کے بدلے میں برطانیہ نے بھی چالیس کروڑ پاونڈ کی رقم ایران کو ادا کرنے پر اتفاق کر لیا ہے جبکہ برطانوی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ برطانیہ اس کیس کے حل کے لیے اپنی کوششیں مستقبل میں جاری رکھے گا۔

گزشتہ ہفتے ہی تہران کی ایک عدالت نے نازنین زغاری ریٹکلف کو مزید ایک برس قید کی سزا سنائی تھی جنہوں نے اپنی پانچ برس قید کی سزا پہلے ہی مکمل کرلی تھی۔ زغاری کے شوہر رچرڈ ریٹکلف نے خبر رساں ادارے اے پی سے بات چیت میں کہا کہ انہیں قیدیوں کے تبادلے کے حوالے سے کسی معاہدے کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہیں اور اس وقت وہ اس حوالے سے شکوک و شبہات میں مبتلا ہیں۔

قیدیوں کے تبادلے کے حوالے سے یہ خبریں ایسے وقت آئیں جب ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کا اہم خطاب ہو رہا تھا تاہم انہوں نے بھی اس کا کوئی ذکر نہیں کیا۔ البتہ انہوں نے وزیر خارجہ جواد ظریف کی مبینہ لیک آوڈیو ریکارڈنگ پر نکتہ چینی کی اور کہا کہ یہ بہت بڑی غلطی تھی۔

اس آڈیو ریکارڈنگ میں ایرانی وزیر خارجہ نے معروف ایرانی فوجی جنرل قاسم سلیمانی پر بھی نکتہ چینی کی تھی جنہیں امریکا نے گزشتہ برس ایک ڈرون حملے میں ہلاک کر دیا تھا۔ اس آڈیوکے منظر عام پر آنے کے بعد جوادظریف نے اپنے تبصروں پر معذرت پیش کی ہے۔

ایران میں آئندہ 18 جون کو صدارتی انتخابات ہونے والے ہیں اور اس میں خود جواد ظریف بھی ایک اہم اور مضبوط امیدوار کے طور پر سامنے آ سکتے ہیں۔
(بشکریہ ڈی ڈبلیو)

شیئر کریں



یہ بھی پڑھیے


ایران کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کی اطلاعات غلط ہیں، امریکا
سعودی عرب:قیام اللیل کی اجازت ویکسین لگوانے والوں کوملے گی
کرپشن کیس:سابق فرانسیسی وزیر اعظم بری،وزیردفاع کوسزا

اسمبلی تحلیل کرنے کاصدارتی حکم کالعدم قرار

2 months ago


سپریم کورٹ نے ایوان بحال کردیا

نیپال کی سپریم کورٹ نے وزیر اعظم کے پی شرما کے ایوان نمائندگان کو تحلیل کرنے کے فیصلے کو مسترد کر دیا۔

منگل کو چیف جسٹس چلیندر شمشیر رانا کی سربراہی میں پانچ رکنی بنچ نے سماعت کے دو ماہ بعد ایوان کو بحال کرنے کا حکم دیا۔

سپریم کورٹ نے یہ حکم بھی جاری کیا کہ ایوان کا اجلاس 13 دن میں طلب کیا جائے۔واضح رہے 20 دسمبر2020کونیپال کی صدر بیدیا دیوی بھنڈاری نے کابینہ کی سفارش پر ایوان کو تحلیل کرنے کااعلان کیا تھا۔

چیف جسٹس نے 25 دسمبر کواس معاملے پرپانچ رکنی آئینی بینچ تشکیل دے کرسماعت کاآغازکیاتھا۔بینچ نے سماعت کے بعدصدرکے اعلان کوغیرآئینی قراردیتے ہوئے نیپال کی اسمبلی کوبحال کرنے کاحکم جاری کردیا۔



فوجی بغاوت کے خلاف عوام سڑکوں پرنکل آئے

2 months ago


فوج جمہوریت بحال کرے:اقوام متحدہ، امریکا ، یورپی ممالک کامطالبہ

میانمار میں مظاہرین نے ینگون کی اہم شاہراہوں کو بلاک کر دیا ہے تاکہ فوجی دستوں کی نقل و حرکت محدود بنا دی جائے۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ مظاہرے تشدد کی ایک نئی لہر کا باعث بن سکتے ہیں۔بدھ کے دن میانمار کے سب سے بڑے شہر ینگون میں فوجی بغاوت کے مخالف ہزاروں مظاہرین نے گاڑیوں کی مدد سے سڑکوں کو بلاک کر دیا ہے۔

ان کی کوشش ہے کہ شہر میں فوج کی نقل و حرکت کو محدود بنا دیا جائے۔ گزشتہ دنوں کے مقابلے میں ان مظاہرین کی تعداد کہیں زیادہ بتائی جا رہی ہے۔اس صورتحال میں اقوام متحدہ کے میانمار کے لیے نمائندہ خصوصی ٹام اینڈریو نے خبردار کیا ہے کہ ینگون میں فوجیوں کی تعیناتی اور نئے مظاہرے تشدد کی ایک سنگین لہر کا باعث بن سکتے ہیں۔

ٹاہم اینڈریو نے کہا، ''مجھے خوف ہے کہ بدھ کے دن میانمار میں تشدد کا کافی زیادہ امکان ہے۔ اس دن سے زیادہ، جب یکم فروری کو فوج نے غیر قانونی طور پر سول حکومت کا تختہ الٹا تھا۔

مقامی میڈیا میں ایسی غیر مصدقہ خبریں بھی موصول ہو رہی ہیں کہ ان مظاہرین نے ٹرکوں اور نجی گاڑیوں کی مدد سے چین اور میانمار کو ملانے والے اہم شاہراہوں کو بھی بلاک کر دیا ہے۔

یہ تازہ مظاہرے ایک ایسے وقت میں شروع ہوئے ہیں، جب ایسی افواہیں گردش کر رہی ہیں کہ فوج مقید جمہوری رہنما آنگ سان سوچی کے خلاف خفیہ طور پر مقدمہ شروع کر رہی ہے۔

سوچی کے وکیل کے مطابق نوبل امن یافتہ خاتون پر ایک نیا الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ قدرتی آفات سے نمٹنے والے ایک قانون کی خلاف ورزی کی مرتکب ہوئی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس الزام کے تحت سوچی کے خلاف مقدمے کی کارروائی یکم مارچ سے شروع ہو گی۔

سوچی کے وکیل کے مطابق ایسا لگتا ہے کہ سوچی کو منگل کے دن عدالت میں پیش بھی کیا گیا جبکہ اس سے قبل انہیں ان کی قانونی ٹیم سے نہ تو مشاورت کی اجازت دی گئی اور نا ہی ملنے دیا گیا۔

جب یکم فروری کو ملکی فوج نے سوچی کی سول حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کیا تھا تو سوچی پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ ان کے پاس ایے واکی ٹاکیز تھے، جو رجسٹرڈ نہیں تھے۔

اقوام متحدہ، امریکا اور متعدد یورپی ممالک نے میانمار کی فوج سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ملک میں جمہوریت بحال کرے اور سوچی سمیت گرفتار کیے گئے دیگر حکومتی عہدیداروں کو رہا کریں ورنہ اس کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔

(بشکریہ ڈی ڈبلیو)



میانمارمیں سول نافرما نی کی تحریک زور پکڑ گئی

2 months ago


عوام نے ملٹری کے ملکیتی بینک سے پیسے نکلوا لئے

میانمار میں فوجی حکومت کے خلاف سول نافرمانی کی تحریک بھرپورطریقے سے جاری ہے۔ لوگوں نے ملٹری کے زیرانتظام چلنے والے بینک سے پیسے نکلوانے شروع کر دیئے ہیں۔

عالمی میڈیا کے مطابق میانمار کے شہر ینگون میں فوجی حکومت کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے لوگ صبح سویرے ہی ملٹری بینک کے باہر جمع ہو گئے اوراے ٹی ایم سے پیسے نکلوانے شروع کر دیئے۔

بینک نے رقم نکلوانے کی حد کم کر دی جس پر بینک کے باہر لوگوں نے مظاہرہ کیا۔مظاہرین نے کہا کہ حکام نے زبردستی ان کی رقم روک رکھی ہے۔

یادرہے چندہفتے پہلے فوج نے آن سانگ سوچی کی حکومت کوختم کرتے ہوئے مارشل لاکانفاذ کردیاتھااورتمام سیاسی قیادت کوزیرحراست رکھاگیاہے۔