امریکہ میں ٹک ٹاک پر پابندی عائد کرنے کا اعلان

6 days ago


صدر ٹرمپ آج حکمنامہ جاری کر سکتے ہیں

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ چین کی ویڈیو ایپ 'ٹک ٹاک' کو ملک میں بند کرنے کا فیصلہ کر چکے ہیں اور جلد ہی اس حوالے سے ایگزیکٹو آرڈر جاری کریں گے۔ ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ اس حوالے سے آج حکم نامہ جاری کر سکتے ہیں جس کے بعد امریکہ میں 'ٹک ٹاک' بند کر دی جائے گی۔ صدر ٹرمپ نے کسی بھی امریکی کمپنی کی جانب سے 'ٹک ٹاک' ویڈیو ایپ خریدنے کی تجویز کی بھی حمایت نہیں کی تھی۔ ٹک ٹاک امریکہ سمیت دُنیا بھر میں استعمال کی جاتی ہے، اسے لگ بھگ دو ارب دفعہ ڈاؤن لوڈ کیا جا چکا ہے جن میں 16 کروڑ سے زائد مرتبہ اسے امریکہ میں ڈاؤن لوڈ کیا گیا۔ ٹک ٹاک ایک معروف چینی سوشل نیٹ ورکنگ ایپلی کیشن ہے جو صارفین کو ویڈیو کلپس بنانے، گانوں پر لپ سنک کرنے اور چھوٹی ویڈیوز بنانے کی اجازت دیتی ہے۔ ٹک ٹاک کے ذریعے نہ صرف تفریحی مواد پوسٹ کیا جاتا ہے، بلکہ اس میں سیاسی اور نسلی امتیاز سے متعلق معاملات پر بھی بحث کی جاتی ہے۔ امریکی حکام کو یہ خدشہ ہے کہ 'ٹک ٹاک' ملکی سلامتی کے لیے خطرہ بن رہی ہے اور صارفین کا ڈیٹا چینی حکومت کے ساتھ شیئر کر سکتی ہے۔ ٹک ٹاک کی ملکیتی کمپنی 'بائٹ ڈانس' کا یہ مؤقف رہا ہے کہ وہ امریکی صارفین کا ڈیٹا چینی حکومت کے ساتھ شیئر نہیں کرتی بلکہ یہ ڈیٹا امریکہ اور سنگاپور میں محفوظ کیا جاتا ہے۔ امریکی وزیر خزانہ اسٹیو منوچن نے رواں ہفتے ایک بیان میں کہا تھا کہ غیر ملکی سرمایہ کاری کی نگران کمیٹی (سی ایف آئی یو) ٹک ٹاک کے معاملات کا جائزہ لے گی۔ مذکورہ کمیٹی غیر ملکی سرمایہ کاری کا جائزہ لے کر اس کی وجہ سے ملکی سلامتی کو ممکنہ خطرات کے تناظر میں سفارشات مرتب کرتی ہے۔

شیئر کریں



یہ بھی پڑھیے


برہنہ جرمن شہری مادہ سورکے پیھچے بھاگ پڑا
ٹرمپ کی باتیں گمراہ کن:فیس بک،ٹوئٹرنے پوسٹیں ہٹادیں
امریکہ میں غیرملکیوں کےلئے نوکریوں کاحصول مشکل

اٹلی، 96 سالہ گریجویٹ ہونے والا عمر رسیدہ طالب علم

6 days ago


جیوسیپی پیٹرنونے زندگی میں غربت،جنگوں اوراب کوروناکامقابلہ کیا

اٹلی سے تعلق رکھنے والے جیوسیپی پیٹرنو آخر کار 96 سال کی عمر میں گریجویٹ ہوگئے۔بچپن میں گزارے ہوئے غربت کے دن، جنگی حالات اور اب کرونا وائرس کی وبا پھیلنے کے باوجود کامیابی کے ساتھ آگے بڑھنے والے جیوسیپی پیٹرنو ملک کے سب سے عمر رسیدہ گریجویٹ بن گئے ہیں۔ جیوسیپی پیٹرنو اٹلی کے محکمہ ریلوے سے وابستہ تھے۔ رواں ہفتے انہیں گریجویشن سرٹیفکیٹ اور گلدستے سے نوازا گیا۔اس موقع پر ان کے اہل خانہ، اساتذہ اور ان کے جونیئر ساتھی طالب علم بھی موجود تھے جن کی عمریں 70 سال سے زائد تھیں۔جیوسیپی پیٹرنو کو سرٹیفیکٹ ملنے پر ان لوگوں نے خوب تالیاں بجائیں۔ جب جیوسیپی پیٹرنو سے پوچھا گیا کہ اتنی عمر گزرنے کے بعد گریجویشن کرنے پر ان کے کیا احساسات ہیں تو انہوں نے کہا کہ دیگر لوگوں کی طرح میں بھی ایک عام سا شخص ہوں۔ عمر کی بات کی جائے تو دیگر تمام لوگوں کو میں نے پیچھے چھوڑ دیا ہے لیکن گریجویشن میں نے اس لئے نہیں کی کہ دوسروں پر سبقت لے سکوں۔دراصل پیٹرنو کتابوں کی محبت کے ساتھ پروان چڑھے لیکن انہیں کبھی تعلیم حاصل کرنے کا موقع نہیں ملا۔جب انہوں نے 2017 میں تاریخ اور فلسفے میں ڈگری کے لیے یونیورسٹی میں داخلہ لیا تو ان کی عمر اس وقت بھی 93 سال سے زائد تھی۔پیٹرنو نے سسلی شہر میں موجود اپنے اپارٹمنٹ میں برطانوی خبر رساں ادارے 'رائٹرز' سے گفتگو میں بتایا کہ میں نے 2017 میں ہی فیصلہ کرلیا تھا کہ ابھی نہیں تو کبھی نہیں۔ لہذا پہلی فرصت میں داخلہ لے لیا۔ان کے بقول میں اس بات کو سمجھتا تھا کہ تین سالہ ڈگری کا حصول مشکل ہے لیکن میں نے اپنے آپ سے کہا کہ دیکھتے ہیں میں یہ کرسکتا ہوں یا نہیں۔ گزشتہ بدھ کو انہوں نے کلاس میں پہلی پوزیشن لانے پر یونیورسٹی کے چانسلر فیبریزیو میکاری سے مبارکباد وصول کی۔سسلی کے ایک غریب خاندان میں پرورش پانے والے پیٹرنو بچپن میں صرف سکول کی بنیادی تعلیم ہی حاصل کرسکے تھے۔ ریلوے میں ملازمت سے قبل انہوں نے بحریہ میں شمولیت اختیار کی اور دوسری جنگ عظیم میں اپنی پیشہ وارانہ خدمات انجام دیں۔ اسی دوران ان کی شادی ہوگئی۔ ان کے دو بچے ہیں۔جنگ کے بعد تعمیر نو کے عمل سے گزرنے والے معاشرے میں کام اورخاندان ترجیحات ہوتی ہیں لیکن پیٹرنو 31 سال کی عمر میں تعلیم کا حصول اور ہائی سکول سے گریجویشن کرنے اور مزید آگے بڑھنے کی خواہش دل میں رکھتے تھے۔ان کا کہنا ہے کہ علم ایک سوٹ کیس کی مانند ہے جسے میں ساتھ رکھتا ہوں۔ یہ ایک خزانہ ہے۔ طالبعلم کی حیثیت سے وہ اپنے نوٹس مینوئل ٹائپ رائٹر کی مدد سے تیار کرتے تھے۔یہ ٹائپ رائٹر ان کی والدہ نے 1984 میں اس وقت دیا تھا جب وہ ریلوے سے ریٹائر ہوئے تھے۔پیٹرنو نے اعتراف کیا کہ کرونا وائرس کے باعث شٹ ڈاﺅن کی وجہ سے وہ کلاس روم کی جگہ ویڈیو کال کی وجہ سے تھوڑے بے چین تھے لیکن انہوں نے اسے چھوڑا نہیں کیوں کہ وہ زندگی کے تقریباََ تمام نشیب و فراز دیکھ چکے ہیں۔ مستقبل کی منصوبہ بندی کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ وہ رکنے والے نہیں ہیں، گریجویٹ ہو چکے ہیں اور اب خود کو تصنیف کے شعبے کے لیے وقف کرنا چاہتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ وہ دنیا کو مزید دریافت کرنے کے خواہش مند ہیں اور بہت سے موضوعات پر تحقیق کرنا چاہتے ہیں۔ (بشکریہ وی اواے)



مناسک حج کی ادائیگی کاسلسلہ جاری

1 week ago


بلا اجازت مقدس مقامات میں داخل ہونے کی کوشش میں 936 افراد گرفتار

مناسک حج کی ادائیگی کاسلسلہ جاری ہے۔شیخ عبداللہ بن سلمان خطبہ حج دے رہے ہیں۔اس سال کوروناکے باعث دنیابھرکے مسلمان حج ادائیگی کے لئے نہ پہنچ سکے کیونکہ صرف مقامی طورپرلوگوں کوحج کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔یہ اجازت بھی محدودپیمانے پردی گئی۔ ادھرسعودی حکام نے حج کے دوران ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر سیکڑوں افراد کو گرفتار کرلیا۔ سکیورٹی حکام نے بلا اجازت مقدس مقامات میں داخل ہونے کی کوشش میں 936 افراد کو گرفتار کرنے کی تصدیق کی۔حکام کا کہنا ہے کہ سکیورٹی حکام نے ان تمام افراد کے خلاف فوری ایکشن لیا جبکہ ان افراد پر جرمانے بھی عائد کئے جائیں گے۔ سعودی حکومت نے حج کے دوران ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر جرمانے کا اعلان کیا ہے جس کے تحت بلا اجازت مقدس مقامات میں داخل ہونے والوں کو 10 ہزار ریال تک جرمانہ کیا جائے گا جبکہ دوبارہ خلاف ورزی کرنے والے پر جرمانہ ڈبل ہوگا۔سعودی حکام کے مطابق اس مرتبہ صرف 10 ہزار عزام کرام حج بیت اللہ کی سعادت حاصل کر رہے ہیں ۔ ان میں سعودی عرب میں مقیم غیرملکی تارکینِ وطن کی تعداد 70 فی صد ہے اور 30 فی صد سعودی شہری ہیں۔



شکاگو میں بھی کرسٹوفر کولمبس کا متنازعہ مجمسہ ہٹا دیا گیا

2 weeks ago


خاتون میئر مجسمے کونہ ہٹانے کاموقف بدلنے پر مجبور

کئی ملین آبادی والے امریکی شہر شکاگو میں کرسٹوفر کولمبس کا ایک متنازعہ مجمسہ ہٹا دیا گیا۔ ایسا نسل پرستی کے خلاف اس وسیع تر تحریک کی وجہ سے کیا گیا جس کا سبب سیاہ فام امریکی شہریوں کے خلاف متعصبانہ سوچ بنی۔ شکاگو سے ہفتہ25جولائی کو موصولہ رپورٹوں کے مطابق اخبار شکاگو ٹریبیون نے بتایا یہ مجسمہ جمعرات اور جمعے کی درمیانی رات اس چبوترے سے ہٹا دیا گیا جہاں وہ عشروں سے نصب تھا۔ یہ متنازعہ مجسمہ ہٹائے جانے کا حکم شہر کی خاتون میئر لوری لائٹ فٹ نے دیا تھا۔ امریکی ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والی یہی خاتون میئر ماضی میں اس مجسمے کو مظاہرین کے وسیع تر احتجاج کے باوجود وہاں سے ہٹانے کے خلاف تھیں جہاں وہ نصب تھا۔ ان کا موقف تھا کہ کرسٹوفر کولمبس کا یہ مجسمہ ہٹانے کا مطلب یہ ہوتا کہ امریکی تاریخ کے ایک حصے کا خاتمہ کر دیا گیا ہے لیکن بعد میں وہ عوامی دبائو کی وجہ سے اپنا موقف تبدیل کرنے پر مجبور ہو گئیں۔ میئر لوری لائٹ فٹ نے اب اپنی جو گزشتہ رائے بدلی ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ نہیں چاہتی تھیں کہ اس میٹروپولیٹن شہر میں پولیس اور مقامی مظاہرین کے مابین مزید پرتشدد جھڑپیں ہوں۔ شکاگو میں یہ مجسمہ جس جگہ نصب تھا، وہ امریکا کے کئی دیگر شہروں میں کئے جانے والے ایسے ہی مظاہروں کی طرز پر عوامی احتجاجی تحریک کا مرکز بن گئی تھی۔ افریقی نژاد امریکی شہر جارج فلویڈ کی پولیس کی ایک کارروائی کے دوران ہلاکت کے بعد پولیس کی بربریت اور نسل پرستی کے خلاف جو احتجاجی تحریک شروع ہوئی تھی اس کے نتیجے میں صرف امریکا ہی نہیں بلکہ کئی یورپی ممالک کے متعدد شہروں میں بھی ایسے مجسمے او یادگاریں ہٹائی جا چکی ہیں جو کسی نہ کسی طرح انسانوں کے استحصال اور نسل پرستی سے جڑی ہوئی تھیں۔ امریکا میں ماضی کی یادگاروں کے طور پر جن تاریخی مجسموں کے ہٹائے جانے کے عوامی مطالبے کئے جا رہے تھے، ان کا تعلق زیادہ تر ماضی کی امریکی خانہ جنگی سے تھا۔ اسی طرح کرسٹوفر کولمبس کے مجسمے کو بھی مظاہرین کی طرف سے ماضی کے استحصال، جبر، اذیت اور دکھوں کے تناظر میں دیکھا جا رہا تھا۔ 1451 میں پیدا ہونے والا اور 1506ءمیں انتقال کر جانے والا کرسٹوفر کولمبس ایک اطالوی جہاز راں تھاجو ایسا پہلا یورپی شہری بھی تھا جس نے ’ایک نئی دنیا‘ کے طور پر امریکا دریافت کیا تھا۔ تاریخی طور پر بھی کولمبس کو امریکا دریافت کرنے والا یورپی کہا جاتا ہے۔ کئی مورخین اور شہری حقوق کے لئے کام کرنے والے بہت سے سرگرم کارکن بھی کرسٹوفر کولمبس پر اس وجہ سے تنقید کرتے ہیں کہ وہ بھی امریکا کے قدیم مقامی باشندوں کے خلاف پرتشدد رویوں کا مرتکب ہوا تھا جس نے اس دور میں غلاموں کی تجارت کو فروغ دینے میں بھی کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ شکاگو میں کرسٹوفر کولمبس کا مجسمہ ہٹانے جانے سے چند ہفتے قبل امریکی ریاست کیلی فورنیا کے شہر سان فرانسسکو میں بھی شہری انتظامیہ نے ایسے ہی مظاہروں کے بعد وہاں ایک چبوترے پر نصب کردہ کولمبس کا مجسمہ ہٹا دینے کا حکم جاری کر دیا تھا۔